بھاری صنعتوں کی وزارت
پردھان منتری ای ڈرائیو یوجنا کے تحت ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل پبلک چارجنگ اسٹیشن (ای وی پی سی ایس) کے قیام کے لیے 2,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 6:34PM by PIB Delhi
پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم ملک بھر میں نافذ کی جا رہی ہے اور اس کے تحت ریاست وار فنڈز مختص نہیں کیے گئے ہیں۔ 22 جولائی 2026 تک اس اسکیم کے تحت ریاست آسام میں مجموعی طور پر 42,035 برقی گاڑیاں فروخت کی جا چکی ہیں، جن میں ضلع کاچر میں فروخت ہونے والی 8003 برقی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آسام میں مجموعی طور پر 40,009 برقی گاڑیوں پر ترغیبات فراہم کی جا چکی ہیں اور اصل سازندہ اداروں (او ای ایم) کو 99.10 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔
ریاست آسام سمیت ملک بھر میں برقی گاڑیوں کے عوامی چارجنگ اسٹیشنوں (ای وی پی سی ایس) کے قیام کے لیے پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت 2,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تاہم آسام نے اب تک اس اسکیم کے تحت ای وی پی سی ایس کے قیام کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کی ہے۔
بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے آسام کے ضلع کاچر کے حوالے سے اس نوعیت کا کوئی جائزہ نہیں لیا ہے۔
بھاری صنعتوں کی وزارت ملک بھر میں، بشمول آسام کے ضلع کاچر اور ریاست کے دیگر علاقوں میں، برقی نقل و حرکت کو فروغ دینے، چارجنگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور برقی عوامی نقل و حمل نیز تجارتی برقی گاڑیوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے درج ذیل اسکیمیں نافذ کر رہی ہے:
(1) ہندوستان میں (ہائبرڈ اور) برقی گاڑیوں کو تیزی سے اپنانے اور ان کی مینوفیکچرنگ (فیم انڈیا) اسکیم – مرحلہ دوم
حکومت نے اس اسکیم کو یکم اپریل 2019 سے 31 مارچ 2024 تک پانچ برس کی مدت کے لیے 11,500 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ نافذ کیا۔ اس اسکیم کے تحت ای-2 ڈبلیو، ای-3 ڈبلیو اور ای-4 ڈبلیو کے لیے مانگ پر مبنی ترغیبات، ای-بسوں کے لیے گرانٹ اور برقی گاڑیوں کے عوامی چارجنگ اسٹیشنوں (ای وی پی سی ایس) کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی۔ فیم-II کے تحت ای-2 ڈبلیو، ای-3 ڈبلیو اور ای-4 ڈبلیو سمیت تقریباً 16.72 لاکھ برقی گاڑیوں کی فروخت کی معاونت کی گئی۔ اس کے علاوہ 30 جون 2026 تک اس اسکیم کے تحت 5,297 ای-بسیں تعینات کی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، ملک بھر میں ای وی پی سی ایس کے قیام کے لیے 912.50 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
(2) آٹوموبائل اور آٹو اجزا کی صنعت کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی-آٹو) اسکیم
حکومت نے 23 ستمبر 2021 کو 25,938 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کا مقصد برقی گاڑیوں سمیت ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (اے اے ٹی) مصنوعات کی تیاری میں ہندوستان کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔
(3) ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج کے قومی پروگرام کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم
حکومت نے 9 جون 2021 کو 18,100 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس کا مقصد ملک میں 50 گیگا واٹ گھنٹے (جی ڈبلیو ایچ) صلاحیت کے ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹریوں کی مسابقتی گھریلو مینوفیکچرنگ کے لیے مضبوط ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔
(4) پردھان منتری الیکٹرک ڈرائیو ریولیوشن اِن اِنووَیٹو وہیکل اینہانسمنٹ (پی ایم ای-ڈرائیو) اسکیم
یہ اسکیم 10,900 کروڑ روپے کی لاگت سے یکم اپریل 2024 سے نافذ ہے۔ اس کے تحت ای-2 ڈبلیو، ای-3 ڈبلیو، ای-ٹرک، ای-بسوں اور ای-ایمبولینسوں سمیت تقریباً 28.30 لاکھ برقی گاڑیوں کو ترغیبات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ برقی گاڑیوں کے عوامی چارجنگ اسٹیشنوں (ای وی پی سی ایس) کے قیام اور ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن کے لیے بھی گرانٹ فراہم کی جاتی ہے۔
اس اسکیم کے تحت 14,028 ای-بسوں کی تعیناتی کے لیے 4,391 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 40 لاکھ سے زیادہ آبادی والے سات شہروں—دہلی، بنگلورو، حیدرآباد، ممبئی، احمد آباد، پونے اور سورت—کے لیے 13,800 ای-بسیں مختص کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے لیے 200 ای-بسوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ملک بھر میں ای وی پی سی ایس کے قیام کے لیے 2,000 کروڑ روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔
(5) پردھان منتری ای-بس سیوا پیمنٹ سیکورٹی میکانزم (پی ایس ایم) اسکیم
اس اسکیم کا نوٹیفکیشن 28 اکتوبر 2024 کو جاری کیا گیا۔ 3,435.33 کروڑ روپے کے بجٹ والی اس اسکیم کا مقصد 38,000 سے زائد ای-بسوں کی تعیناتی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت، اگر پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (پی ٹی اے) ادائیگی میں ناکام رہیں تو ای-بس آپریٹروں کو ادائیگی کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
ملک میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہند نے درج ذیل اقدامات بھی کیے ہیں:
- برقی گاڑیوں اور برقی گاڑیوں کے چارجرز/چارجنگ اسٹیشنوں پر جی ایس ٹی کی شرح کم کرکے 5 فیصد کر دی گئی ہے۔
- سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت (ایم او آر ٹی ایچ) نے اعلان کیا ہے کہ بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو گرین نمبر پلیٹیں جاری کی جائیں گی اور انہیں پرمٹ (اجازت نامہ) کی شرائط سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
- ایم او آر ٹی ایچ نے ریاستوں کو برقی گاڑیوں پر روڈ ٹیکس معاف کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے، تاکہ ان کی ابتدائی خریداری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
***
UR-1329
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2294628)
आगंतुक पटल : 5