سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
حکومت نے ڈی بی ٹی کے ذریعے وظائف کی فراہمی کو مزید مضبوط کیا؛ 2025-26 میں 47.53 لاکھ سے زائد پوسٹ میٹرک اور 26.79 لاکھ پری میٹرک وظائف دیے گئے
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 7:04PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت ملک بھر میں درج فہرست ذاتوں کے طلبا کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے مقصد سے مرکزی طور پر اسپانسر شدہ اسکیموں کے طور پر درج فہرست ذاتوں کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ (پی ایم ایس) اور درج فہرست ذاتوں اور دیگر طبقات کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ نافذ کر رہی ہے۔ یہ اسکیمیں ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے طریقۂ کار کے تحت نافذ کی جاتی ہیں، جس سے اہل طلبہ کو اسکالرشپ کے فوائد کی بروقت، شفاف اور مؤثر تقسیم یقینی بنائی جاتی ہے۔
وزیر مملکت برائے سماجی انصاف و عطائے اختیارات جناب رام داس اٹھاولے نے یہ تفصیلات جناب کوٹا سری نواس پجاری، جناب تیجسوی سوریہ، جناب جسونت سنگھ سمن بھائی بھابھور، جناب پردیپ کمار سنگھ، جناب بھرت سنگھ جی شنکر جی ڈابھی، جناب یوگیندر چندولیا، محترمہ کملیش جانگڑے، جناب رمیش اوستھی، جناب کیپٹن برجیش چوٹا، جناب رادھے شیام راٹھیا، جناب سریش کمار کشیپ، جناب جناردن مشرا، جناب نابا چرن ماجھی، جناب تریویندر سنگھ راوت، جناب ابھیمنیو سیٹھی، جناب ببھو پرساد ترائی، جناب چاوڑا ونود لکمشی اور جناب کھگین مرمو کے تحریری سوال کے جواب میں فراہم کیں۔ ایوان کو بتایا گیا کہ دونوں اسکالرشپ اسکیمیں اوپن اینڈڈ اور طلب پر مبنی ہیں، جس کے تحت پورے بھارت میں تسلیم شدہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تمام اہل طلبا اسکالرشپ کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے سالانہ ایکشن پلان موصول کیے جاتے ہیں۔
تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان فنڈنگ کا تناسب 60:40 ہے، جبکہ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے یہ تناسب 90:10 ہے۔ پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لیے فنڈنگ کا تناسب 60:40 ہے، جبکہ شمال مشرقی ریاستوں، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے لیے یہ تناسب 90:10 ہے۔ ایسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے جہاں قانون ساز اسمبلی نہیں ہے، 100 فیصد فنڈنگ مرکزی حکومت فراہم کرتی ہے۔
ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے اسکالرشپ اسکیموں میں شفافیت، جواب دہی اور مسلسل نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ آدھار سے مربوط براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے اسکالرشپ کی رقم براہ راست مستفیدین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے، جس سے رقوم کے ضیاع اور خردبرد کا امکان ختم ہوتا ہے، مستحقین کی درست نشاندہی یقینی بنتی ہے اور فنڈز کی تیز تر منتقلی ممکن ہوتی ہے۔ درخواستوں پر متعلقہ ریاستی اسکالرشپ پورٹلز اور نیشنل اسکالرشپ پورٹل کے ذریعے کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق تصدیق اور منظوری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے کی جاتی ہے۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2025-26 کے دوران پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم سے ملک بھر میں 47,53,420 طلبا مستفید ہوئے، جبکہ پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم سے 26,79,049 طلبا کو فائدہ پہنچا۔ یہ اعداد و شمار درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع کو وسعت دینے کے حکومت کے مسلسل عزم کی توثیق کرتے ہیں۔
جواب میں دکشن کنڑ (کرناٹک)، داہود (گجرات) اور شملہ (ہماچل پردیش) کے لیے ضلع وار معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
2022-23 سے 2025-26 کے درمیان، ان اضلاع میں پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت 29,184 مستفیدین کا احاطہ کیا گیا، جنہیں 35.91 کروڑ روپے کی مرکزی امداد فراہم کی گئی، جبکہ پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت 34,184 مستفیدین کا احاطہ کیا گیا اور انہیں 8.15 کروڑ روپے کی مرکزی امداد فراہم کی گئی۔
*****
ش ح۔ ف ش ع
U: 1319
(रिलीज़ आईडी: 2294567)
आगंतुक पटल : 9