زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تمام فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 6:10PM by PIB Delhi

حکومت ہر سال زرعی لاگت و قیمت کمیشن کی سفارشات، ریاستی حکومتوں اور متعلقہ مرکزی وزارتوں و محکموں کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے ملک کے لیے 22 مقررہ زرعی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت مقرر کرتی ہے۔

2018-19 کے مرکزی بجٹ میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ کم از کم امدادی قیمت پیداوار کی لاگت سے کم از کم ڈیڑھ گنا رکھی جائے گی۔ اسی کے مطابق 19-2018 سے حکومت نے تمام مقررہ خریف، ربیع اور دیگر تجارتی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت کو ملک گیر اوسط لاگتِ پیداوار سے کم از کم 50 فیصد زیادہ مقرر کیا ہے۔

فصل کی مجموعی پیداوار میں سے صرف وہ مقدار، جو منڈی میں فروخت کے لیے دستیاب ہوتی ہے، سرکاری ایجنسیاں اس وقت خریدتی ہیں جب منڈی میں اس کی قیمت کم از کم امدادی قیمت سے نیچے آجاتی ہے۔ کسانوں کو قیمت کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا اور دیگر نامزد ریاستی ایجنسیاں اناج اور موٹے اناج کی خریداری کرتی ہیں۔

دالوں، تیل دار بیجوں اور کھوپرے کی خریداری متعلقہ ریاستی حکومت کی درخواست پر پردھان منتری اَن داتا آیئے سنرکشن ابھیان کے تحت پرائس سپورٹ اسکیم کے ذریعے کی جاتی ہے، جب ان اجناس کی منڈی قیمت کم از کم امدادی قیمت سے کم ہو جائے۔ اس اسکیم کے تحت خریداری کی ذمہ داری نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن آف انڈیا انجام دیتی ہیں۔ اسی طرح کپاس اور پٹ سن کی خریداری بالترتیب کاٹن کارپوریشن آف انڈیا اور جوٹ کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعے کم از کم امدادی قیمت پر کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ متعلقہ ریاستی حکومتیں پیداوار، فروخت کے لیے دستیاب مقدار، کسانوں کی سہولت اور ذخیرہ و نقل و حمل جیسی بنیادی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب تعداد میں خریداری مراکز قائم کرتی ہیں۔ موجودہ منڈیوں اور گوداموں کے علاوہ اہم مقامات پر عارضی خریداری مراکز بھی قائم کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کم از کم امدادی قیمت کے تحت خریداری کے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ امدادی رقم براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے آدھار اور زمین کے ریکارڈ کو ریاستی خریداری پورٹل سے بھی منسلک کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔

حکومت نے 31-2030 تک دالوں میں خود کفالت حاصل کرنے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے دالوں میں آتم نربھرتا مشن شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ریاستی حکومتوں کی درخواست پر پہلے سے رجسٹرڈ کسانوں سے پیش کردہ مقدار کے مطابق تور، اُڑد اور مسور کی خریداری پردھان منتری اَن داتا آیئے سنرکشن ابھیان کے تحت نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن آف انڈیا کے ذریعے کی جاتی ہے۔

حکومت مارکیٹ انٹروینشن اسکیم بھی نافذ کر رہی ہے، جو پردھان منتری اَن داتا آیئے سنرکشن ابھیان کا ایک جزو ہے۔ یہ اسکیم ایسی زرعی اور باغبانی فصلوں کی خریداری کے لیے ہے جو جلد خراب ہو جاتی ہیں اور پر قیمت امدادی اسکیم کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔ اس کا مقصد بمپر پیداوار کے دوران قیمتوں میں شدید کمی آنے کی صورت میں کسانوں کو مجبوری میں کم قیمت پر فصل فروخت کرنے سے بچانا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ منڈی قیمت گزشتہ معمول کے سال کے مقابلے میں کم از کم 10 فیصد کم ہو۔ یہ اسکیم متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی درخواست پر نافذ کی جاتی ہے۔

حکومت نے 25-2024 کے سیزن سے مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کے تحت قیمت کے فرق کی ادائیگی کا ایک نیا جزو بھی شامل کیا ہے، جس کے تحت جلد خراب ہونے والی فصلوں کے کسانوں کو مارکیٹ انٹروینشن قیمت اور فروخت کی اصل قیمت کے درمیان فرق کی رقم براہ راست ادا کی جاتی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فصل کی براہ راست خریداری کریں یا کسانوں کو قیمت کے فرق کی ادائیگی کریں۔

اسی طرح 25-2024 سے مارکیٹ انٹروینشن اسکیم میں ایک اور جزو شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹماٹر، پیاز اور آلو کی نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات مرکزی نوڈل ایجنسیوں اور ریاستی نامزد ایجنسیوں کو واپس کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں پیداوار والے علاقوں سے صارفین والی ریاستوں تک پہنچایا جا سکے اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔

کم از کم امدادی قیمت میں اضافے سے ملک کے کسانوں کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے، جس کا اندازہ گزشتہ برسوں میں سرکاری خریداری اور کسانوں کو ادا کی گئی کم از کم امدادی قیمت کی مجموعی رقم سے لگایا جا سکتا ہے۔ 22-2021 سے 26-2025 (جون 2026 تک) کے دوران خریداری اور کسانوں کو ادا کی گئی کم از کم امدادی قیمت کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

 

2021-22 to 2025-26

Total Procurement (In LMT)

Total MSP Value (In lakh Crore)

5781

14.58

 

کم از کم امدادی قیمت کے تحت شامل تمام 22 فصلوں کی سرکاری خریداری 2004 سے 2014 کے دوران 6 ہزار 987 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جو 2014 سے جون 2026 تک بڑھ کر 12 ہزار 819 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی۔ اسی طرح کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کے تحت ادا کی جانے والی رقم 2004 سے 2014 کے دوران 7.41 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو 2014 سے جون 2026 تک بڑھ کر 27.80 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

حکومت زرعی پیداوار میں اضافہ، کاشت کی لاگت میں کمی، فصلوں میں تنوع کو فروغ دینے، کسانوں کو منافع بخش قیمتیں دلانے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد پالیسیوں، اصلاحات اور ترقیاتی پروگراموں پر عمل کر رہی ہے۔ ان مختلف اسکیموں اور پروگراموں میں زرعی قرض، فصل بیمہ، آمدنی میں معاونت، بنیادی ڈھانچہ، باغبانی سمیت مختلف فصلیں، بیج، زرعی مشین کاری، مارکیٹنگ، نامیاتی اور قدرتی کاشتکاری، کسانوں کی اجتماعی تنظیمیں، آبپاشی، توسیعی سرگرمیاں، فصلوں کی سرکاری خریداری اور ڈیجیٹل زراعت سمیت زرعی شعبے کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

یہ معلومات وزیر مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود جناب رامناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

******

ش ح ۔   م   ع ۔  م  ص

(U : 1334 )


(रिलीज़ आईडी: 2294564) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu