زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پیداوار کرنے والے کسانوں کی تنظیموں کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی مدد
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 6:07PM by PIB Delhi
حکومت ہند "10 ہزار فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کی تشکیل اور فروغ" کی مرکزی سیکٹر اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 21-2020 سے اب تک 10 ہزار فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) قائم کی جا چکی ہیں۔ یہ ایف پی اوز زرعی وسائل کی فراہمی، زرعی پیداوار کی اجتماعی خرید و فروخت، ویلیو ایڈیشن اور پروسیسنگ، بیجوں کی پیداوار، ای۔مارکیٹ پلیس کے ذریعے ڈیجیٹل تجارت، کسٹم ہائرنگ خدمات اور برآمدات کے فروغ سمیت مختلف کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اسکیم کے تحت شامل ایف پی اوز کے 2024-25 کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق 6964 ایف پی اوز کا کاروبار 50 لاکھ روپے تک، 862 ایف پی اوز کا کاروبار 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کے درمیان، جبکہ 1135 ایف پی اوز کا کاروبار ایک کروڑ روپے سے زیادہ رہا۔
نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے اپنی پالیسی پیپر نمبر 144 میں ملک بھر میں رجسٹرڈ تمام ایف پی اوز کا احاطہ کیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایف پی اوز اور صنعتوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے، ادارہ جاتی خریداروں کو ایف پی اوز سے جوڑنے اور ایف پی اوز کے تحقیق و ترقی سے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سمیت کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
10 ہزار ایف پی او اسکیم کے تحت ہر ایف پی او کو ابتدائی تین برسوں کے دوران انتظامی اور رہنمائی کے اخراجات کے لیے 18 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اہل ایف پی اوز کے سرمائے کو مضبوط بنانے کے لیے 15 لاکھ روپے تک کی مساوی ایکویٹی گرانٹ بھی دی جاتی ہے، جبکہ ادارہ جاتی قرضوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ہر ایف پی او کو 2 کروڑ روپے تک کے منصوبہ جاتی قرض پر کریڈٹ گارنٹی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ایف پی او کو کلسٹر بیسڈ بزنس آرگنائزیشن کے ذریعے پانچ برس تک صلاحیت سازی، کاروباری منصوبہ بندی، منڈی سے روابط اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے مسلسل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ اب تک 10 ہزار ایف پی او اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ایف پی اوز کو انتظامی اخراجات کے لیے 827.81 کروڑ روپے اور مساوی ایکویٹی گرانٹ کی مد میں 631.98 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
اب تک اس اسکیم کے تحت 65 لاکھ سے زائد شیئر ہولڈرز، جن میں اکثریت چھوٹے اور معمولی کسانوں کی ہے، کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا چکا ہے تاکہ بڑے پیمانے کی معیشت کے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ موجودہ وقت میں زرعی وسائل کی اجتماعی خریداری کے لیے 6928 ایف پی اوز کے پاس بیجوں کا لائسنس، 4987 ایف پی اوز کے پاس کیڑے مار ادویات کا لائسنس اور 6650 ایف پی اوز کے پاس کھاد کا لائسنس موجود ہے۔ اس کے علاوہ 5765 ایف پی اوز نے اپنی پروسیسنگ یونٹیں قائم کی ہیں جبکہ 3083 ایف پی اوز کریڈٹ گارنٹی سہولت سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔
یہ معلومات وزیر مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود جناب رامناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح ۔ م ع ۔ م ص
(U :1333 )
(रिलीज़ आईडी: 2294563)
आगंतुक पटल : 6