شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
برکس ممالک کے قومی شماریاتی دفاتر کے سربراہان کا اجلاس
‘‘تبدیلی لانے والے محرک کے طور پر معیار سے جڑے اعداد و شمار’’
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 4:38PM by PIB Delhi
برکس رکن ممالک کےقومی شماریاتی دفاتر (این ایس او) کے سربراہان کا دو روزہ اجلاس 4 اگست 2026 کولکھنؤ، اتر پردیش، بھارت میں اختتام پذیر ہوا۔ اس اجلاس کا موضوع ‘‘تبدیلی لانے والے محرک کے طور پر معیار سے جڑے اعداد و شمار’’ تھا، جو برکس کے وسیع تر موضوع ‘‘لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر’’ کے مطابق تھا۔اس تقریب میں برکس ممالک کے قومی شماریاتی دفاتر کے نمائندوں، پالیسی سازوں، تعلیمی ماہرین، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی تنظیموں اور تکنیکی ماہرین سمیت350 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔
دوسرے دن ‘برکس تعاون کے ممکنہ شعبوں کے لیے مشترکہ اختراعی میدانوں کی نشاندہی’ کے موضوع پر منعقد ہونے والے اہم تکنیکی اجلاس-III میں جدید سروے طریقہ کار اور ڈجیٹل ڈیٹا جمع کرنےکے موضوع پر دو پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔ ہندوستان اور مصر نے سروے اور مردم شماری کے اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ڈجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال سے متعلق اپنے تجربات پیش کیے۔
بھارت نے کاغذی بنیاد پر کیے جانے والے سروے سے جدید سروے ٹولز کی جانب منتقلی کے اپنے تجربے اور حاصل شدہ اسباق پیش کیے۔ ان میں ای-سگمایعنی ای-سروے انفارمیشن گیدرنگ اینڈ مینجمنٹ ایپلیکیشن شامل ہے، جوکمپیوٹر معاونت یافتہ ذاتی انٹرویو (سی اے پی آئی) پر مبنی پلیٹ فارم ہے۔ اسے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے نمونہ جاتی سروے کو کلاؤڈ پر مبنی نظام میں مربوط کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مصر نے سرکاری اعداد و شمار کی تیاری میں جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجی کے استعمال کو اجاگر کیا۔ اجلاس میں سروے کے نفاذ میں مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کے استعمال اور سروے ڈیٹا کے ساتھ انتظامی اعداد و شمار کے زیادہ مؤثر اور متوازن استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
تکنیکی اجلاس-IV میں میکرو اقتصادی اور شعبہ جاتی اعداد و شمار کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس اجلاس میں برکس رکن ممالک کی جانب سے میکرو اقتصادی اعداد و شمار کو بہتر بنانے کے لیے اختیار کی گئی اہم حکمت عملیوں اور حاصل کردہ پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔
بھارت نے قومی اکاؤنٹس نظام(ایس این اے)- 2025 کے نفاذ کے لیے اپنے منتقلی کے روڈ میپ کو پیش کیا اور سرکاری اعداد و شمار میں انتظامی ڈیٹا کے مؤثر استعمال کا مظاہرہ کیا۔ چین نے ایس این اے-2025 فریم ورک متعارف کرانے میں اپنی پیش رفت اور ابتدائی عملی تجربات سے آگاہ کیا۔
دریں اثنا، برازیل نے متبادل ڈیٹا ذرائع کے انضمام کو اجاگر کیا، خصوصاً تیزی سے بڑھتے ہوئے ای کامرس اور ثالثی پلیٹ فارمز سے دستیاب عوامی آن لائن ڈیٹا کے استعمال کو پیش کیا۔ برازیل نے اس بات پر زور دیا کہ غیر روایتی ڈیٹا ذرائع، تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی ماحول میں رکن ممالک کے تیار کردہ شماریاتی اعداد و شمار کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے لیے موجودہ ذرائع کی تکمیل کر سکتے ہیں۔انڈونیشیا نے بھی ایس این اے-2025 میں منتقلی کے لیے اپنے نفاذی منصوبے کو پیش کیا اور ساتھ ہی آئی ایس آئی سی 5 کو اپنانے کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کیں۔
برکس ممالک کے قومی شماریاتی دفاتر کے سربراہان کے اجلاس 2026 کے ساتھ ہی وزارت نے جناگرہ سینٹر فار سٹیزن شپ اینڈ ڈیموکریسی کے اشتراک سے‘‘ترقی پذیر ڈیٹا ایکو سسٹم میں مصنوعی ذہانت کے لیے تیار عوامی ڈیٹا نظام کی تعمیر’’ کے عنوان سے ایک ضمنی تقریب کا انعقاد کیا۔اس تقریب میں ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ممکن بنانے اور شواہد پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے باہمی طور پر مربوط، قابل اعتماد اور اعلیٰ معیار کے عوامی ڈیٹا نظام کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ضمنی تقریب میں مصنوعی ذہانت کے لیے تیار عوامی ڈیٹا نظام کی تعمیر کے عملی بنیادی عناصر پر ایک ماڈریٹڈ گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا، جس کے بعد ہندوستان، جنوبی افریقہ، روس، انڈونیشیا، چین، متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت دار تنظیموں کی جانب سے ملکی مطالعات پیش کیے گئے۔
شرکاء نے ڈیٹا گورننس کو مضبوط بنانے، باہمی ربط، میٹا ڈیٹا معیارات، ادارہ جاتی تعاون اور صلاحیت سازی سے متعلق اپنے تجربات کا تبادلہ کیا، تاکہ بکھرے ہوئے ڈیٹا نظام کو مصنوعی ذہانت کے لیے تیار مربوط نظاموں میں تبدیل کیا جا سکے۔ تبادلہ خیال میں بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور بہترین طریق کار کو اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، تاکہ ایسے مضبوط عوامی ڈیٹا نظام تشکیل دیے جا سکیں جو عوامی فلاح کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا سکیں۔
قومی شماریاتی دفاتر ( این ایس اوز) کے سربراہان کے اجلاس کے موقع پروزارت شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)، حکومت ہند اور بی پی ایس-اسٹیٹسٹکس انڈونیشیا نے دو طرفہ ملاقات کے دوران سرکاری اعداد و شمار، صلاحیت سازی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیےاعلان ارادہ پر دستخط کیے۔
اعلانِ ارادہ میں معلومات کے تبادلے، تکنیکی اور طریق کار سے متعلق ترقی، انسانی وسائل کی تربیت، اور ابھرتے ہوئے شعبوں بشمول مصنوعی ذہانت، میٹا ڈیٹا معیاری کاری اور اوپن ڈیٹا کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔
اجلاس کا اختتام برکس مشترکہ اعلامیہ کو منظور کرنے اور اختتامی کلمات کے اجلاس کے ساتھ ہوا۔ مشترکہ اعلامیہ کی باضابطہ منظوری برکس رکن ممالک میں شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے، جو زیادہ مضبوط، شفاف اور پالیسی سے متعلقہ سرکاری اعداد و شمار کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
مشترکہ اعلامیہ مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
https://www.mospi.gov.in/uploads/latestReleases/latest_release_1785840278403_a094383d-aeca-4106-a3d4-02fd91a2686e_Joint_statement_for_Meeting_of_Heads_of_NSOs.pdf.
*****
ش ح- ظ الف– ن ع
UR No. 1305
(रिलीज़ आईडी: 2294519)
आगंतुक पटल : 6