دیہی ترقیات کی وزارت
شی-لیپس کا عملی آغاز
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 4:27PM by PIB Delhi
سیلف ہیلپ انٹرپرینیور-لائیولی ہُڈز اینڈ انٹرپرائز ایپلیکیشن فار پراسپیریٹی اینڈ سسٹینیبلٹی ( ایس ایچ ای- ایل ای اے پی ایس/ شی -لیپس) کو عملی طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جس میں شی-لیپس کے ذریعے شامل کیے گئے کاروباری اداروں کی نگرانی کا انتظام موجود ہے۔ اس ایپلیکیشن کا آغاز29 جون 2026 کو وزارت دیہی ترقیاے کے زیر اہتمام ‘راشٹریہ گرامین وکاس سمیلن’ کے موقع پر کیا گیا تھا۔
شی-لیپس ایپلیکیشن کو لوک او ایس ڈجیٹل پلیٹ فارم کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد ‘دین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن(ڈے اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی) سے وابستہ کاروباری افراد کے کاروبار سے متعلق معلومات کو محفوظ کرنا ہے۔
یہ پلیٹ فارم کاروباری اداروں کے اندراج میں معاونت فراہم کرتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق حقیقی وقت(ریئل ٹائم) کے اعداد و شمار جمع کرتا ہے، تاکہ ان اداروں کے مؤثر انتظام اور نگرانی میں مدد مل سکے۔ اسے 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ریاستی دیہی روزگار مشنز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کاروباری اداروں کی نگرانی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔
شی-لیپس ڈجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ خود امدادی گروپوں کے کاروباری اداروں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
شی-لیپس ڈجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے‘دین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی) کے تحت فروغ دئیے گئے کاروباری اداروں کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔ اس پلیٹ فارم میں سالانہ کاروباری آمدنی (ٹرن اوور) اور کاروباری اداروں کے تسلسل سے متعلق معلومات محفوظ رکھنے کی سہولت موجود ہے، جو ضمیمہ-I میں درج تمام کاروباری اداروں کے لیے دستیاب ہے۔
کرناٹک اسٹیٹ رورل لائیولی ہُڈز مشن (کے ایس آر ایل ایم) کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران کرناٹک میں ‘دین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحتکمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ (سی آئی ایف) کی مدد سے قائم کیے گئے خود امدادی گروپوں کے کاروباری اداروں کی تفصیلات اور ان کی تعداد درج ذیل ہے:
:
|
نمبر شمار
|
سال
|
ایس ایچ جی انٹرپرائزز کی تعداد
|
|
1
|
2023-2024
|
21,438
|
|
2
|
2024-2025
|
27,173
|
|
3
|
2025-2026
|
31,246
|
|
|
مجموعی
|
79,857
|
وزارت دیہی ترقیات نےدین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی) کے کاروباری اداروں کی پائیداری اور مارکیٹ میں مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
وزارت نے خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کے فروغ کے لیے‘سارس’، ‘سارس آجیویکا’ اور ‘آجیویکا’ برانڈز کا اندراج کیا ہے۔ اس کے علاوہ25 ریاستوں نے بھی خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کی فروخت کو آسان بنانے کے لیے ریاستی سطح کے برانڈز قائم کیے ہیں، جن میں اُمیڈ (مہاراشٹر)، پلاَش اور ادیوا (جھارکھنڈ)، ہمیرا (ہماچل پردیش) اور ماٹھی (تمل ناڈو) وغیرہ شامل ہیں۔
خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیےقومی، علاقائی، ریاستی اور ضلعی سطحوں پر سارس میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان میں ہر سال دو قومی سطح کے سارس میلے، ایک فوڈ فیسٹول اور 50 سے زیادہ ریاستی سطح کے سارس میلے شامل ہیں۔
مرکزی دہلی میں خود امدادی گروپوں کی منتخب مصنوعات کی فروخت کے لیےسارس آجیویکا گیلری کے نام سے ایک خوردہ مرکز قائم کیا گیا ہے، جبکہ ریاستیں بھی اپنے متعلقہ برانڈز کے تحت خوردہ مراکز چلا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ، وزارت منتخب خود امدادی گروپ مصنوعات کی فروخت کے لیے ای-سارس ای کامرس پلیٹ فارم بھی چلا رہی ہے۔ وزارت نے خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کو وسیع تر مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے کے لیےجی ای ایم ، او این ڈی سی، ایمیزون، فلپ کارٹ، میشو اور جیو مارٹ کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے۔
ضمیمہ-I
|
نمبر شمار
|
ریاست/ مرکزکے زیر کنٹرول علاقے
|
ایس ایچ جی انٹرپرائزز کی تعداد
|
|
1
|
انڈمان اور نیکوبار
|
115
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
1,56,851
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
522
|
|
4
|
آسام
|
1,19,715
|
|
5
|
بہار
|
3,908
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
4,018
|
|
7
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
136
|
|
8
|
GOA
|
246
|
|
9
|
گجرات
|
14,866
|
|
10
|
ہریانہ
|
174
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
15,586
|
|
12
|
جموں اور کشمیر
|
21,038
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
1,61,212
|
|
14
|
کرناٹک
|
57,731
|
|
15
|
کیرالہ
|
38
|
|
16
|
لداخ
|
11
|
|
17
|
لکشدویپ
|
0
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
44,540
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
3,68,795
|
|
20
|
منی پور
|
372
|
|
21
|
میگھالیہ
|
8,412
|
|
22
|
میزورم
|
1,243
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
1,871
|
|
24
|
اوڈیشہ
|
8,425
|
|
25
|
پڈوچیری
|
346
|
|
26
|
پنجاب
|
384
|
|
27
|
راجستھان
|
5,473
|
|
28
|
سکم
|
684
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
36,060
|
|
30
|
تلنگانہ
|
54,632
|
|
31
|
تریپورہ
|
19,235
|
|
32
|
اتر پردیش
|
7,815
|
|
33
|
اتراکھنڈ
|
410
|
|
34
|
مغربی بنگال
|
8,007
|
|
|
مجموعی
|
11,22,871
|
یہ جانکاری دیہی ترقیات کے وزیر مملکت ڈی آر چندر شیکھر پیمسانی نے آج ایوان زیریں-لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*****
ش ح- ظ الف– ن ع
UR No. 1306
(रिलीज़ आईडी: 2294458)
आगंतुक पटल : 5