الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی-ڈیک اور جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے درمیان اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ارضیاتی سائنس، معدنیات کی تلاش اور آفات کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے چھتری مفاہت نامہ (امبریلا ایم او یو) پر دستخط


ارضیاتی علوم سے متعلق استعمالات کے لیے مصنوعی ذہانت، اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کے لیے شراکت داری

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 4:55PM by PIB Delhi

سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی-ڈیک)، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (میئٹی) اور جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے جدید ترین اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ارضیاتی سائنس، معدنیات کی تلاش اور آفات کے انتظام کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک چھتری مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

اس مفاہمت نامے پر نئی دہلی کے الیکٹرانکس نکیتن میں میئٹی کے سیکریٹری جناب ایس کرشنن، آئی اے ایس،کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ اس پر سی-ڈیک کے ڈائریکٹر جنرل جناب ای مگیش اور جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جناب پردیپ سنگھ نے دستخط کیے۔

اس شراکت داری کا مقصد سی-ڈیک (سی ڈی اے سی) کی اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) صلاحیتوں کو جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) کی ارضیاتی مہارت کے ساتھ یکجا کرنا ہے، تاکہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے زیرِ زمین تلاش سے متعلق پیچیدہ چیلنجز کا حل تلاش کیا جا سکے۔اس شراکت داری کے تحت بڑے پیمانے پر جیو فزیکل اعداد و شمار کی پروسیسنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) کا استعمال کیا جائے گا، جس سے زیرِ زمین ساختوں کی اعلیٰ ریزولوشن والی تھری ڈی نقشہ سازی، معدنیات کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کے لیے پیش گوئی پر مبنی ماڈلنگ اور کئی دہائیوں پر مشتمل غیر منظم ارضیاتی ریکارڈز کو ایک مخصوص شعبے کے بڑے لسانی ماڈل (لارج لنگویج ماڈل-ایل ایل ایم) میں ذہانت کے ساتھ پروسیس کرنا ممکن ہوگا۔

یہ شراکت داری مصنوعی ایپرچر ریڈار (ایس اے آر) کے ذریعے ڈھلوانی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (زمین کھسکنے کے واقعات) کی نگرانی، ابتدائی انتباہی نظام کی تیاری اور گلیشیئر جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) سے متعلق مطالعات کے ذریعے آفات میں کمی اور ان کے مؤثر انتظام میں بھی معاون ثابت ہوگی۔اس کے علاوہ، اس کا مقصد اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) اور نایاب ارضی عناصر (آر ای ای) کی دریافت کے عمل کو تیز کرنا ہے، جس سے بھارت کی اقتصادی سلامتی، سپلائی چین کی مضبوطی اور تکنیکی خود انحصاری میں مدد ملے گی۔

تقریب میں الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (میئٹی) کے جوائنٹ سیکریٹری جناب سدیپ سریواستو، جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) کے ڈی جی سی او کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جناب منیش کھر، ڈی جی سی او، جی ایس آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویر پنکج، ڈی جی سی او، جی ایس آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مکیش ورما، میئٹی میں گروپ کوآرڈی نیٹر (آر اینڈ ڈی اِن آئی ٹی) جناب منوج جین، سی-ڈیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (کارپوریٹ اینڈ گورنمنٹ بزنس) کموڈور سندیپ ودھوا، سی-ڈیک حیدرآباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اے ایس مورتی، سی-ڈیک کولکاتا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب مرنموئے کمار داس، سی-ڈیک پونے کے سائنس داں ایف جناب پرساد وڈلکونڈاور، سی-ڈیک پونے کے سائنس داں جی اور شعبہ سربراہ ڈاکٹر منوج کھارے، سی-ڈیک چنئی کے سائنس داں ایف اور مرکز سربراہ ڈاکٹر ڈی ایتھراجن، سی-ڈیک چنئی کی سائنس داں ایف محترمہ پونگوزہلی پی، سی-ڈیک چنئی کی سائنس داں ای محترمہ سینتنی بھٹاچاریہ، سائنس داں سی محترمہ گیتا سنگھ کے علاوہ سی-ڈیک اور میئٹی کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔

******

 

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-1300


(रिलीज़ आईडी: 2294445) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी