ٹیکسٹائلز کی وزارت
کپاس کی پیداوار بڑھانے سے متعلق مشن
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 1:41PM by PIB Delhi
ٹیکسٹائل کی وزارت کے وزیر مملکت جناب پبیترا مارگریٹا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے مشن (کپاس کرانتی) کو حکومت نے 5 مئی 2026 کو منظوری دی ہے۔ مذکورہ مشن 2026-27 سے 31-2030 تک پانچ سال کی مدت کے لیے ہےجو 5,659.22 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے نافذ کیا جائے گا۔اس میں جزو I(اے) جس پر زرعی تحقیق و تعلیم کا محکمہ (ڈی اے آر ای) عمل درآمد کرے گا اور اس کے لیے 555.05 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ جزو I(بی)، جسے زراعت و کسانوں کی بہبود کا محکمہ (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو)نافذ کرے گا اور اس کے لیے 3,804.17 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جزوII اور جزوIII، جن پر کاٹن کارپوریشن آف انڈیا اور نیشنل جوٹ بورڈ (وزارتِ ٹیکسٹائل کے انتظامی کنٹرول میں) عمل درآمد کریں گے اور اس کے لیے بھی بالترتیب 1,000 کروڑ روپے اور 300 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
جزوI(اے) کے تحت کرناٹک کے رائچور، چامراج نگر اور دھارواڑ میں آل انڈیا کوآرڈی نیٹڈ ریسرچ پروجیکٹ (اے آئی سی آر پی) کے تحت کپاس کی پیداوار بڑھانے سے متعلق سرگرمیوں کے لیے تقریباً 11.50 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔اسی طرح 2026-27 کے دوران جزوI(بی) کے تحت کرناٹک کو مجموعی طور پر 4,850.13 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں 2,910.08 لاکھ روپے مرکز کاحصہ اور 1,940.05 لاکھ روپے ریاستی حصہ شامل ہے۔ کرناٹک حکومت نے 2026-27 کے دوران رائچور ضلع کے لیے جزو I(بی) کے تحت 1,100.81 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔
جزو I(بی) کے تحت مشن کے ابتدائی مرحلے میں کپاس پیدا کرنے والی 14 بڑی ریاستوں کے 140 ممکنہ اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔ ان اضلاع کا انتخاب ان کی کپاس کی پیداوار کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ تاہم، اضلاع کی یہ فہرست محض انڈیکیٹیو ہے اور ریاستوں کو اپنی سالانہ منصوبہ بندی، مقامی ضروریات اور کارکردگی کے مطابق شامل اضلاع میں تبدیلی کرنے کی مکمل اختیار حاصل ہے۔ رائچور کو بھی اس لیے شامل کیا گیا ہے کیونکہ یہ کرناٹک کے کپاس پیدا کرنے والے اہم اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔
کرناٹک حکومت نے 2026-27 کے لیے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے مشن کے جزو I(بی) کے تحت سرگرمیوں کے ذریعے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ، اس سے مستفید ہونے والے کسانوں اور دیگر فیزیکل اہداف سے متعلق ضلع کے حساب سے تفصیلات فراہم کی ہیں، جن کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے۔
مذکورہ مشن کے تحت 2030-31 تک کرناٹک میں 40 لاکھ گانٹھ (بیلز) کپاس کی پیداوار حاصل کرنے اور فی ہیکٹر 860 کلوگرام لنٹ /ایچ اے کی پیداواری صلاحیت تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کرناٹک حکومت کی جانب سے اس مقصد کے لیے سال کے حساب سے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔
یہ تفصیلات درج ذیل ہیں:
- کپاس کی جانچ ت سے متعلق تجربہ گاہیں:
مشن کے جزوII کے تحت ملک بھر کے کپاس پیدا کرنے والے اضلاع کے کلسٹروں میں 50 کپاس جانچ تجربہ گاہیں قائم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تاہم، اس مشن میں ان تجربہ گاہوں کی ریاست کے حساب سے یا ضلع کے حساب کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی منظوری اور تقسیم اسکیم میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق، بشمول سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل کے تحت درخواست برائے تجویز (آر ایف پی) کے عمل کے ذریعے کی جائے گی۔
- کستوری کاٹن بھارت ٹریس ایبلٹی سہولیات:
اس مشن کے تحت اہل جننگ اور پروسیسنگ (جی اینڈ پی) فیکٹریوں کی جانب سے کستوری کاٹن بھارت سے تصدیق شدہ کپاس کی گانٹھوں (بیلز) کی پیداوار پر پیداوار پر مبنی ترغیبی مراعات فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کرناٹک میں واقع اہل جی اینڈ پی فیکٹریاں بھی، اسکیم کی شرائط کے مطابق، اس سہولت سے استفادہ کرنے کی اہل ہوں گی۔
- جننگ اور پروسیسنگ (جی اینڈ پی) یونٹس:
مشن کے تحت اہل جننگ اور پروسیسنگ (جی اینڈ پی) فیکٹریوں کو کستوری کاٹن بھارت سے تصدیق شدہ کپاس کی گانٹھوں کی پیداوار پر، اسکیم کی دفعات کے مطابق، پیداوار پر مبنی ترغیبی مراعات فراہم کی جائیں گی۔
کرناٹک حکومت نے اس مشن کے تحت سال کے حساب سے اہداف فراہم کیے ہیں، جن کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔
مشن کے جزوI(بی) کے نفاذ کی نگرانی، مشن کی دفعات کے مطابق قائم کردہ ریاستی سطح کی کمیٹیوں اور ضلع سطح کی کمیٹیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ نگرانی کا یہ نظام مشن میں شامل تمام اضلاع، بشمول رائچور، پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے تحت ریاستی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سال کے حساب سے اہداف کے مطابق پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
پیداواری صلاحیت میں اضافے، ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم (ایچ ڈی پی ایس)، قریبی وقفے پر کاشت (کلوزر اسپیسنگ)، اضافی لمبے ریشے والی کپاس (ای ایل ایس) اور مربوط فصلی انتظام (آئی سی ایم) کے لیے کرناٹک میں ضلع کے حساب سے مقررہ اہداف درج ذیل ہیں:
)رقبہ: ہیکٹر میں، مستفیدین: تعداد میں(
|
نمبر شمار
|
ضلع
|
کرناٹک (2026-27) میں ٹیکنالوجی کی اپ اسکیلنگ (مظاہرے) کے اہداف
|
|
|
ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم (ایچ ڈی پی ایس)
|
قریبی فاصلہ (سی ایس)
|
اضافی لمبا اسٹیپل (ای ایل ایس)
|
انٹیگریٹڈ کراپنگ مینجمنٹ (آئی سی ایم)
|
|
|
|
|
رقبہ
|
استفادہ کنندہ
|
رقبہ
|
استفادہ کنندہ
|
رقبہ
|
استفادہ کنندہ
|
رقبہ
|
استفادہ کنندہ
|
|
|
1
|
بیلاری
|
450
|
225
|
1000
|
500
|
50
|
25
|
200
|
100
|
|
|
2
|
بیلگاوی
|
50
|
25
|
0
|
0
|
0
|
0
|
200
|
100
|
|
|
3
|
چامراج نگر
|
0
|
0
|
200
|
100
|
1000
|
500
|
100
|
50
|
|
|
4
|
چتردرگ
|
0
|
0
|
400
|
200
|
1000
|
500
|
100
|
50
|
|
|
5
|
دھارواڑ
|
500
|
250
|
0
|
0
|
3000
|
1500
|
300
|
150
|
|
|
6
|
گداگ
|
0
|
0
|
300
|
150
|
0
|
0
|
100
|
50
|
|
|
7
|
ہاویری
|
0
|
0
|
300
|
150
|
0
|
0
|
100
|
50
|
|
|
8
|
کلبرگی
|
500
|
250
|
3000
|
1500
|
0
|
0
|
500
|
250
|
|
|
9
|
کوپل
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
200
|
100
|
|
|
10
|
میسورو
|
0
|
0
|
700
|
350
|
900
|
450
|
200
|
100
|
|
|
11
|
رائچور
|
2500
|
1250
|
3710
|
1855
|
0
|
0
|
600
|
300
|
|
|
12
|
وجئے پورہ
|
100
|
50
|
2600
|
1300
|
50
|
25
|
400
|
200
|
|
|
13
|
یادگیری
|
2500
|
1250
|
4000
|
2000
|
0
|
0
|
1000
|
500
|
|
|
|
کل
|
6600
|
3300
|
16210
|
8105
|
6000
|
3000
|
4000
|
2000
|
|
کرناٹک حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے سال کے حساب سے اہداف:
(پیداوار: لاکھ گانٹھوں میں، پیداواری صلاحیت: فی ہیکٹر کلوگرام لنٹ)
|
نمبر شمار
|
سال
|
کرناٹک
|
رائچور
|
|
پیداوار
|
پیداواریت
|
پیداوار
|
پیداواریت
|
|
1
|
2026-27
|
26.00
|
559
|
6.59
|
646
|
|
2
|
2027-28
|
31.00
|
667
|
7.85
|
771
|
|
3
|
2028-29
|
34.10
|
733
|
8.64
|
847
|
|
4
|
2029-30
|
36.80
|
791
|
9.32
|
914
|
|
5
|
2030-31
|
40.00
|
860
|
10.14
|
994
|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ش م۔ ر ب۔
U-1278
(रिलीज़ आईडी: 2294387)
आगंतुक पटल : 6