وزارتِ تعلیم
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کو مضبوط بنانا
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 7:34PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے طلبا کی ہمہ جہت ترقی کے مقصد سے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 وضع کی ہے۔ این ای پی 2020 میں کثیر شعبہ جاتی تعلیم، تخلیقی اور لچک دار نصابی ڈھانچوں اور مہارتوں کے انضمام پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ تدریسی طریقۂ کار کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ تعلیم مزید تجرباتی، تحقیق پر مبنی، دریافت پر مرکوز اور سیکھنے والے پر مبنی ہو۔
این ای پی 2020 کے وژن کے مطابق، حکومت نے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے نصاب، تدریسی طریقۂ کار کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے اہم رہنما خطوط جاری کیے اور متعدد اقدامات کیے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے نصاب کو جدید بنانے کے لیے آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) نے صنعت کے ماہرین کی آرا شامل کرتے ہوئے اپنے ماڈل نصاب میں ترمیم کی ہے، جس کے تحت تکنیکی شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا سائنس (ڈی ایس)، مشین لرننگ (ایم ایل)، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، کوانٹم کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا ہے۔
2025-26 کے دوران اے آئی سی ٹی ای سے منظور شدہ 2,100 سے زائد اداروں میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں کورسز پیش کیے گئے، جن میں 2.80 لاکھ سے زائد طلبہ کے داخلے کی منظوری دی گئی ہے۔
طلبہ کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور این ای پی 2020 کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) جاری کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ہنرمندی کی تعلیم کو تعلیمی نظام میں ضم کرنا ممکن بنایا گیا ہے۔ این سی آر ایف کے تحت مجموعی مطلوبہ کریڈٹس میں سے زیادہ سے زیادہ 50 فیصد کریڈٹس ہنرمندی پر مبنی کورسز کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے ”بھارتی یونیورسٹیوں کے لیے پائیدار اور متحرک یونیورسٹی-صنعت روابط کے نظام سے متعلق رہنما خطوط“ جاری کیے ہیں، جن کا مقصد تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کو فروغ دینا، طلبا میں ہنرمندی پیدا کرنا اور انہیں صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔ ساتھ ہی، اے آئی سی ٹی ای کے 2024-25 تا 2026-27 کتابچے میں تکنیکی اداروں کے لیے ”ضروری اور مطلوبہ تقاضے“ شامل ہیں، جن میں انسٹی ٹیوٹ-انڈسٹری سیل، ادارے کی انوویشن کونسل کا قیام اور آخری سال کے طلبہ کے لیے لازمی انٹرن شپ کو منظوری کے لیے ضروری تقاضوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، یو جی سی نے ”انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ/ ریسرچ انٹرن شپ سے متعلق رہنما خطوط“ متعارف کرائے ہیں، جن کا مقصد طلبا کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا، تحقیق میں دلچسپی پیدا کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے واقفیت فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، یو جی سی نے ”اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام (اے ای ڈی پی) پیش کرنے سے متعلق یو جی سی رہنما خطوط“ بھی وضع کیے ہیں تاکہ صنعت کی مطلوبہ صلاحیتوں کو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کیا جا سکے۔
وزارت تعلیم نوجوانوں کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے صنعت کے اشتراک سے عملی تربیت فراہم کرنے کی غرض سے نیشنل اپرنٹس شپ ٹریننگ اسکیم (این اے ٹی ایس) نافذ کر رہی ہے۔ اے آئی سے متعلق ماہر افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے وزارت نے این اے ٹی ایس کے تحت اے آئی اپرنٹس شپ پروگرام شروع کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گریجویٹس، ڈپلومہ ہولڈر اور اے ای ڈی پی طلبا کو ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ، ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ، پرامپٹ انجینئرنگ وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں مہارت فراہم کرنا ہے۔ اب تک 75,000 سے زائد اپرنٹس اے آئی اپرنٹس شپ پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔
انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کے لیے وزارت تعلیم نیشنل مشن آن ایجوکیشن تھرو آئی سی ٹی نافذ کر رہی ہے۔ این ایم ای آئی سی ٹی کے تحت اسٹڈی ویبز آف ایکٹو لرننگ فار ینگ اسپائرنگ مائنڈ (سویم) پلیٹ فارم شروع کیا گیا ہے، جو ممتاز اداروں کے مفت کورسوں کے ذریعے زندگی بھر سیکھنے کے عمل کو فروغ دیتا ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں طلبا کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے سویم پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت سے متعلق 140 سے زائد کورس پیش کیے گئے ہیں، جن میں اب تک 50 لاکھ سے زائد اندراجات ہو چکے ہیں۔
پروجیکٹ پر مبنی اور تجرباتی تعلیم کو مزید فروغ دینے کے لیے این ایم ای آئی سی ٹی کے تحت ای-ینتر پروجیکٹ انجینئرنگ کی تعلیم میں روبوٹکس پر مبنی آلات اور تربیت فراہم کرتے ہوئے آٹومیشن اور روبوٹکس کو شامل کرتا ہے۔ اب تک ای-ینتر نے 70,000 سے زائد طلبا کو عملی تربیت فراہم کرنے میں معاونت کی ہے۔
ساتھ ہی، صنعت اور اکیڈمیا کے روابط مضبوط بنانے اور طلبا کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے وزارت تعلیم نے ممتاز صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے سویم پلس پلیٹ فارم بھی شروع کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم روزگار کی صلاحیت پر مرکوز 500 سے زائد کورسز پیش کرتا ہے۔ ان کورسز کو 15 شعبوں میں 80 سے زائد صنعتی شراکت داروں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ وغیرہ شامل ہیں۔ سویم پلس پلیٹ فارم پر ہنرمندی میں اضافے کے لیے 6 لاکھ سے زائد طلبہ نے اندراج کرایا ہے۔
اس کے علاوہ، وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں طلبہ کی ہنرمندی کو بہتر بنانے کے لیے ”فیوچر اسکلز پرائم“ پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کے تحت مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اینالیٹکس وغیرہ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے کورسز پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کورسز کو صنعت کے مشورے سے تیار کیا گیا ہے تاکہ انہیں حقیقی روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اب تک 34 لاکھ سے زائد امیدواروں نے پورٹل پر رجسٹریشن کرایا ہے، جن میں 9.58 لاکھ سے زائد امیدوار AI/BDA ٹیکنالوجی میں رجسٹرڈ ہیں۔
وزارت تعلیم میں وزیر مملکت ڈاکٹر سکانتا مجمدار نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
*********
ش ح۔ ف ش ع
U: 1244
(रिलीज़ आईडी: 2294102)
आगंतुक पटल : 6