وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز، آئی آئی ایس ای آرز اور مرکزی یونیورسٹیوں میں طلبہ کی سماجی و تعلیمی ساخت

प्रविष्टि तिथि: 03 AUG 2026 8:09PM by PIB Delhi

 آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (اے آئی ایس ایچ ای) 24-2023 کے مطابق انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز)، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ (آئی آئی ایمز)، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی ایس ای آرز) اور مرکزی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے داخلوں اور طالب علموں کے صنفی اعتبار سے مجموعی اندراج کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

Type of Institutions

 

Intake

Student Enrolment

Male

Female

Transgender

Total

Central University

2,76,988

4,11,643

3,83,824

6

7,95,467

IIT

34,553

1,14,305

35,534

10

1,49,839

IIM

9,956

15,445

7,552

-

22,997

IISER

2,642

6,886

4,760

-

11,646

آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (اے آئی ایس ایچ ای) کے مطابق 2014-15 اور 2023-24 کے دوران انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز)، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ (آئی آئی ایمز)، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی ایس ای آرز) اور مرکزی جامعات میں درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے طلبہ کے اندراج کا تناسب درج ذیل ہے:

اعداد و شمار سے واضح ہے کہ 2023-24 میں آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز، آئی آئی ایس ای آرز اور مرکزی جامعات میں درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے طلبہ کے اندراج کے تناسب میں 2014-15 کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔

تعلیم چونکہ مشترکہ فہرست (Concurrent List) کا موضوع ہے، اس لیے تمام طبقات کی تعلیمی شمولیت میں اضافہ کرنا مرکزی اور ریاستی حکومتوں، دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزارت کی مختلف اسکیموں، منصوبوں اور پروگراموں کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ این ای پی 2020 کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی بچہ اپنی پیدائش یا سماجی و معاشی پس منظر کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم نہ رہے۔ اس پالیسی کا ہدف تعلیم تک رسائی، شمولیت اور تعلیمی نتائج میں سماجی تفاوت کو کم کرنا، بالخصوص خواتین کو زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔

سال 2014 کے بعد ملک میں 16 انڈین انسٹی ٹیوٹس آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی آئی آئی ٹیز)، 8 مرکزی جامعات، 8 انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ (آئی آئی ایمز)، 7 انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز)، 2 انڈین انسٹی ٹیوٹس آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی ایس ای آرز)، ایک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) اور 12 نئے ایمس قائم کیے گئے ہیں۔

مزید برآں، بجٹ 2025-26 کے اعلان کے مطابق حکومت نے آندھرا پردیش (آئی آئی ٹی تروپتی)، کیرالہ (آئی آئی ٹی پالکڑ)، چھتیس گڑھ (آئی آئی ٹی بھلائی)، جموں و کشمیر (آئی آئی ٹی جموں) اور کرناٹک (آئی آئی ٹی دھارواڑ) میں قائم پانچ نئے آئی آئی ٹیز کی تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع، بشمول ریسرچ پارک کے قیام، کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے پر 11,828.79 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جس سے مزید 6,500 طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کی سہولت میسر آئے گی۔

مرکزی بجٹ 2026-27 میں بڑے صنعتی اور لاجسٹک راہداریوں کے قریب پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ قائم کرنے اور ہر ضلع میں طالبات کے ایک ہاسٹل کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ/سرمایہ جاتی معاونت کے ذریعے خاص طور پر ایس ٹی ای ایم اداروں اور کورسز میں طالبات کے اندراج کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

حکومت نے مرکزی تعلیمی ادارے (داخلوں میں ریزرویشن) ایکٹ، 2006 نافذ کیا ہے، جس کے تحت مرکزی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے درج فہرست ذات (ایس سی) کے لیے 15 فیصد، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے 7.5 فیصد اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کا انتظام ہے۔

مرکزی حکومت نے ملک بھر کے طلبہ میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں فیس میں رعایت، نئے تعلیمی اداروں کا قیام، اسکالرشپس اور مالی طور پر کمزور پس منظر رکھنے والے طلبہ کے لیے قومی سطح کی اسکالرشپ اسکیموں تک ترجیحی رسائی شامل ہے۔

حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں، بشمول اہل نجی اداروں، میں سماجی طور پر محروم طبقات سمیت تمام طلبہ کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے مختلف اسکالرشپ اور فیلوشپ اسکیمیں بھی نافذ کر رہی ہے۔

سال 2020-21 سے 2025-26 تک آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز، آئی آئی ایس ای آرز اور مرکزی جامعات کو فراہم کی گئی سال وار مالی اعانت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

)رقم: کروڑ روپے میں(

 

Year

IITs

IIMs

IISERs

CUs

2020-21

6,455.28

465.22

992.96

8,202.53

2021-22

7,851.62

651

1,032.05

8,447.59

2022-23

8,540.32

593.60

1,353.41

10,526.07

2023-24

9,716.57

307.24

1,447.48

11,246.88

2024-25

10,187.46

219.40

1,459.30

15,667.63

2025-26

11,381.21

278.65

1,328.54

16,730.17

یہ معلومات وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر جناب سوکانت مجمدار نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں دی۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 1249 )


(रिलीज़ आईडी: 2294097) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी