قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی، بھارت کا دو ہفتوں پر مشتمل آن لائن قلیل مدتی انٹرن شپ پروگرام شروع
کل 2,036 درخواست گزاروں میں سے مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے یونیورسٹی سطح کے 100 طلباء کا انتخاب
چیئر پرسن جسٹس وی راما سبرامنین نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں میں زیادہ ہمدردی کی ضرورت پر زور دیا
رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کو بنیادی حق قرار دیا اور انٹرنز پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں انسانی حقوق کو فروغ دیں
سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے انٹرنز سے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے لیے پُرعزم ذمہ دار شہری بنیں
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 5:50PM by PIB Delhi
انسانی حقوق کے قومی کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت کی جانب سے یونیورسٹی سطح کے طلباء کے لیے منعقد کیے جانے والے دو ہفتوں پر مشتمل آن لائن قلیل مدتی انٹرن شپ پروگرام (او ایس ٹی آئی) کا آج نئی دلّی کے مانو ادھیکار بھون میں آغاز ہوا۔ این ایچ آر سی کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنین نے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی، سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل، جوائنٹ سکریٹریز جناب سمیر کمار، محترمہ سائی دِنگ پوئی چھاک چھواک اور ڈائریکٹر محترمہ ستو وِشا سماج دار کی موجودگی میں پروگرام کا افتتاح کیا۔ 2,036 درخواست گزاروں میں سے منتخب کیے گئے مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے 100 طلباء اس پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔

ان سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس راما سبرامنین نے کہا کہ ملک کے نوجوان خوش قسمت ہیں کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات سے دور زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں خوراک، تعلیم اور رہائش جیسے بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں، جب کہ مسلح تنازعات اور نقل مکانی کا سامنا کرنے والے کئی افراد ، ان سہولیات سے محروم ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کردہ گلوبل پیس انڈیکس 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کو تقریباً 130 مسلح تنازعات کا سامنا ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ 98 ممالک بیرونی تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں اور 12 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو زبردستی بے گھر ہونا پڑا ہے۔ عالمی اقتصادی نقصان تقریباً 20 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا بھر میں سنگین انسانی صورتِ حال کو ظاہر کرتا ہے۔
جسٹس راما سبرامنین نے انٹرن شپ پروگرام کو نوجوانوں کو انسانی حقوق کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور ان میں حساسیت پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمیشن کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ابھرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ این ایچ آر سی انٹرن شپ پروگرام کا مقصد ، اپنے ساتھی انسانوں کے تئیں ہمدردی اور رحم دِلی کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پروگرام شرکاء میں ، ان اقدار کو ایک فی صد بھی مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ کامیاب تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

این ایچ آر سی کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا کہ انٹرن شپ پروگرام کو ، اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ممتاز موضوعاتی ماہرین کے خطاب کے ذریعے انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی معلومات حاصل کی جا سکیں۔ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 21 کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ایک بنیادی حق ہے اور انہوں نے انٹرنز پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام کے ذریعے حاصل کیے گئے علم کو اپنے اور معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال کریں۔

قبل ازیں، سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے کہا کہ آن لائن فارمیٹ نے جغرافیائی اور مالی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ، انٹرن شپ پروگرام کو مزید جامع اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے، جس سے ملک بھر کے طلباء اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران انٹرنز ممتاز مقررین کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں گے، جس سے انہیں این ایچ آر سی کے دائرۂ کار اور کام کاج کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس انٹرن شپ کا مقصد ، انہیں باخبر اور ذمہ دار شہری بننے کے لیے ترغیب دینا ہے، جو اپنے ساتھی انسانوں کے وقار کو برقرار رکھیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ انٹرن شپ انسانی حقوق کے بارے میں ، ان کی سمجھ کو بہتر بنائے گی اور انہیں اپنی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی اقدار کو آگے بڑھانے کے لیے تحریک دے گی۔
جوائنٹ سکریٹری محترمہ سائی دِنگ پوئی چھاک چھواک نے دو ہفتوں پر مشتمل انٹرن شپ پروگرام کا جائزہ پیش کیا۔ اس پروگرام میں انسانی حقوق سے متعلق اہم موضوعات پر تقریباً 30 خطابات شامل ہوں گے اور اس میں 20 ممتاز مہمان مقررین شرکت کریں گے، جن میں اعلیٰ سرکاری افسران، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی کے نمائندگان، انسانی حقوق کے محافظین، این ایچ آر سی کے افسران، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان اور موضوعاتی ماہرین شامل ہیں۔ انٹرنز کو پولیس اسٹیشن، تہاڑ جیل اور آشا کرن شیلٹر ہوم کے ورچوئل دورے بھی کرائے جائیں گے تاکہ وہ ان کے کام کاج اور چیلنجوں کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ ، وہ کتاب کے جائزے کے مقابلے، گروپ تحقیقی پروجیکٹ کی پیشکش اور تقریری مقابلے میں بھی حصہ لیں گے۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – م م - ع ا )
U.No. 1222
(रिलीज़ आईडी: 2293957)
आगंतुक पटल : 10