عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مرکزی ویجیلنس کمیشن کی مسلسل اصلاحات کو سراہا، انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط سے متعلق زیر التوا مقدمات میں نظامی اصلاحات کے ذریعے نمایاں کمی آئی ہے


مسلسل اصلاحات کے نتیجے میں نظم و ضبط سے متعلق زیر التوا مقدمات کی تعداد 4,000 سے زیادہ کی تعداد سے کم ہو کر تقریباً 700 رہ گئی : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سبکدوش ہونے والے مرکزی ویجیلنس کمشنر پروین کمار سری واستو نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی، انہوں نے نگرانی کے انتظامی نظام میں اہم اصلاحات پر تبادلۂ خیال کیا

پروین کمار سری واستو نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو مرکزی ویجیلنس کمیشن کی اہم کامیابیوں اور مستقبل کی ترجیحات سے آگاہ کیا

प्रविष्टि तिथि: 03 AUG 2026 3:54PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی  سائسنز   کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن،  نیو کلیائی توانائی اور خلاء   کے وزیر مملکت   ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیکنالوجی پر مبنی طرزِ حکمرانی اور مسلسل نگرانی نے  ، ملک کے نگرانی کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً تین سے چار برس کے دوران نظم و ضبط سے متعلق زیر التوا مقدمات کی تعداد 4,000 سے زائد سے کم ہو کر تقریباً 700 رہ گئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بات اس وقت کہی  ، جب سبکدوش ہونے والے مرکزی ویجیلنس کمشنر جناب پروین کمار سری واستو نے اپنی مدتِ کار مکمل ہونے پر  ، ان سے ملاقات کی اور انہیں گزشتہ برسوں کے دوران مرکزی ویجیلنس کمیشن (سی وی سی) کی جانب سے ٹیکنالوجی، عملی اصلاحات اور صلاحیت سازی کے ذریعے نگرانی کے انتظامی نظام کو جدید بنانے کے لیے کیے گئے اہم اقدامات سے آگاہ کیا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ شفاف اور وقت کی پابندی پر مبنی نگرانی کا نظام اچھی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے اور اس سے سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط سے متعلق زیر التوا مقدمات میں نمایاں کمی مسلسل انتظامی اصلاحات اور مختلف وزارتوں، محکموں اور نگرانی کے اداروں کے درمیان بہتر تال میل کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

ملاقات کے دوران  ، جناب پروین کمار سری واستو نے وزیر  موصوف کو آگاہ کیا کہ کمیشن نے نگرانی کے انتظامی نظام کو آسان اور جدید بنانے کے لیے نگرانی سے متعلق 600 سے زائد سرکلرز اور ہدایات کا جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں 9 ماسٹر سرکلرز، 2 عوامی نوٹس اور ایک نظرثانی شدہ ویجیلنس مینوئل جاری کیا گیا، تاکہ نگرانی سے وابستہ افسران اور اداروں کو ایک جامع، یکجا اور آسانی سے سمجھنے آ سکنے والا فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔

وزیر موصوف کو ویجیلنس اسٹیٹس پورٹل (وی ایس پی) کے آغاز کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جو نگرانی کی منظوری سے متعلق تجاویز کی مکمل ڈیجیٹل پروسیسنگ کو ممکن بناتا ہے اور توقع ہے کہ نگرانی کی منظوری دینے کے عمل میں لگنے والے وقت کو نمایاں طور پر کم کرے گا۔ انہیں بتایا گیا کہ ازسرِ نو تیار کردہ ویجیلنس کیس مینجمنٹ سسٹم (وی سی ایم ایس) نے نگرانی سے متعلق مقدمات کی مکمل ڈیجیٹل پروسیسنگ متعارف کرائی ہے، جس سے حقیقی وقت کی نگرانی اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی میں سہولت حاصل ہوئی ہے۔

بات چیت کے دوران  ، حکومت کی تنظیموں میں زیادہ یکسانیت، شفافیت اور آسان نفاذ کو فروغ دینے کے لیے محکمہ  ، اخراجات کے تعاون سے تیار کیے گئے نظرثانی شدہ پروکیورمنٹ مینوئلز کے ذریعے عوامی خریداری کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان مینوئلز کے ذریعے خریداری سے متعلق مختلف رہنما اصولوں کو ایک متحد فریم ورک کے تحت لایا گیا ہے۔

ملاقات میں  ، ڈیجیٹل حکمرانی، بینکنگ اور مالیاتی اداروں میں دھوکہ دہی کی روک تھام، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال سے متعلق اقدامات کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر کمیشن کی بڑھتی ہوئی توجہ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز  ، نگرانی کے انتظامی نظام کو مزید احتیاطی، پیش گوئی پر مبنی اور مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جب کہ سرکاری اداروں میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بناتی ہیں۔

جناب سری واستو نے کمیشن کے آن لائن شکایات کے انتظامی نظام کی تفصیلات بھی پیش کیں، جس نے شکایات کے اندراج، کارروائی اور نگرانی کے عمل کو آسان بنایا ہے۔ اس کے علاوہ  ، نگرانی سے وابستہ افسران کی تربیت کے لیے خصوصی کورسز، ڈیجیٹل لرننگ ماڈیولز اور مشن کرم یوگی کے ساتھ تعاون کے ذریعے تربیتی پروگراموں کو وسعت دینے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، تاکہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

وزیر  موصوف کو بتایا گیا کہ کمیشن نے ویجیلنس بیداری ہفتہ کے ذریعے عوامی شمولیت کو مسلسل فروغ دیا ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں، گرام سبھاؤں اور عوامی تنظیموں میں دیانت داری اور اخلاقی حکمرانی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جب کہ ملک گیر رابطہ مہموں کے ذریعے بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں شہریوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

بات چیت کے دوران  ، کمیشن کے مستقبل کے لائحۂ عمل پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں تادیبی مقدمات کی نگرانی کے لیے پروبیٹی پورٹل کے وسیع تر استعمال، نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے وقت اور حرکات کے مطالعے (ٹائم اینڈ موشن اسٹڈیز) کا انعقاد اور پیش گوئی پر مبنی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے اور نگرانی کے انتظامی نظام کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت شفافیت، جواب دہی، ٹیکنالوجی اور آسان طریقۂ کار پر مبنی حکمرانی کے نظام کی تعمیر کے لیے مسلسل پرعزم ہے۔ انہوں نے ملک کے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے میں پروین کمار سری واستو کے تعاون کو سراہا اور ان کے مستقبل کے اقدامات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

 ...................................................

) ش ح – م م       -  ع ا )

U.No. 1210


(रिलीज़ आईडी: 2293928) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil