جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پانی کا بندوبست  اور تحفظ

प्रविष्टि तिथि: 03 AUG 2026 3:21PM by PIB Delhi

جل شکتی کے وزیرمملکت جناب راج بھوشن چودھری نے   آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ  اٹل بھوجل یوجنا، جو عوامی شراکت پر مبنی زیرِ زمین پانی کے انتظام کی ایک اسکیم ہے، جویکم اپریل 2020 سے 15 اکتوبر 2025 تک سات ریاستوں میں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت نافذ کی گئی جس میں گجرات، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور اتر پردیش کے 80 اضلاع کے 229 بلاکس میں واقع پانی کی قلت سے متاثرہ 8,203 ترجیحی گرام پنچاتیں شامل ہیں۔ مذکورہ اسکیم کے تحت شامل گرام پنچایتوں کی ریاست کے حساب سےتعداد  آبی وسائل ، دریا کے فروغ اور گنگا کی احیاء کی ویب سائٹ پر درج ذیل ویب لنک پر دستیاب ہے:

https://www.jalshakti-dowr.gov.in/static/uploads/2026/07/415c128c8892e9a870e6398d9195742a.pdf

اٹل بھوجل یوجنا کے پائلٹ مرحلے کا بنیادی مقصد منتخب ریاستوں کے پانی کی شدید قلت سے متاثرہ علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام کو بہتر بنانا تھا۔ اس مقصد کے لیے مانگ کے مؤثر انتظام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف مرکزی اور ریاستی اسکیموں کے باہمی اشتراک سے مقامی آبادی کی قیادت میں مناسب سرمایہ کاری اور انتظامی اقدامات کیے گئے۔ مذکورہ اسکیم کا ہدف ادارہ جاتی اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، نیز ریاستوں کو نچلی سطح پر زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور اس کے مؤثر استعمال کے اقدامات نافذ کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ پائلٹ مرحلے سے حاصل ہونے والے اہم تجربات اور نتائج دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی مشترک  کیے گئے ہیں تاکہ وہ بھی ان سے استفادہ کرتے ہوئے اسی طرز پر اقدامات کر سکیں۔

ملک میں جل شکتی کی وزارت نے آبی ذخائر کی گنتی کرائی ہے۔ اس مہم کے دوران 24 لاکھ 20 ہزار سے زائد آبی ذخائر کی نشاندہی کی گئی، اندراج  کیا گیا اور جغرافیائی محلِ وقوع کے ساتھ ڈیجیٹل اندراج (جیو ٹیگنگ) کیا گیا۔ مزید یہ کہ  جل سنچئے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) مہم کے تحت ملک بھر میں پانی کے تحفظ اور زیرِ زمین پانی کی بھرپائی کے لیے1.55 کروڑ سے زیادہ ڈھانچے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان تمام ڈھانچوں کا بھی جغرافیائی محلِ وقوع کے ساتھ ڈیجیٹل اندراج کیا گیا ہے اور انہیں جے ایس جے بی پورٹل پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

کیونکہ پانی ریاستی موضوع ہے، لہٰذا آبی وسائل اور زیرِ زمین پانی کی پائیدار ترقی اور انتظام کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، مرکزی حکومت مختلف اسکیموں اور پروجیکٹوں کے ذریعے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرکے ریاستی حکومتوں کی کوششوں میں تعاون  فراہم کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت ملک کے آبی وسائل کی نقشہ سازی، نگرانی، مؤثر منصوبہ بندی، درست پالیسی سازی اور مختلف اسکیموں کی کارکردگی کے جائزے کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل اور تکنیکی ذرائع  کا استعمال کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اٹھائے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. نیشنل آبی ذخائر کی نقشہ سازی اور انتظامی پروگرام ( این اے کیو یو آئی ایم): زیرِ زمین آبی وسائل  کا مرکزی بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) اس پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے، جس کے تحت ریموٹ سینسنگ(آر ایس) اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) جیسی جدید ٹیکنالوجیز کی مدد سے زیرِ زمین آبی ذخائر کی نقشہ سازی، پانی کی بھرپائی کے موزوں مقامات کی نشاندہی اور آبی ذرائع کی پائیداری کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ این اے کیو یو آئی ایم مرحلہ 1.0 کے تحت ملک کے نقشہ سازی کے قابل 25 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے کا احاطہ کرتے ہوئے زیرِ زمین آبی ذخائر کی نقشہ سازی مکمل کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ  ساتھ ضلع کے حساب سے آبی ذخائر کے نقشے اور ان کے مؤثر انتظام کے لیے جامع منصوبے بھی تیار کرکے عمل درآمد کی غرض سے ریاستی اور ضلع انتظامیہ کو فراہم کیے گئے ہیں۔ این اے کیو یو آئی ایم 2.0 کے تحت جدید ترین ٹیکنالوجیز سے انتہائی تفصیلی اور سائنسی معلومات تیار کی جا رہی ہیں، جو زیرِ زمین پانی کے پائیدار انتظام کے لیے باخبر اور مؤثر فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
  2. ریئل ٹائم مانیٹرنگ:(بروقت نگرانی) زیرِ زمین آبی وسائل کا مرکزی بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) قومی ہائیڈرولوجی منصوبے (این ایچ پی) کے تحت نصب کیے گئے 5,260 خودکار ڈیجیٹل زیرِ زمین پانی سطح ریکارڈر (ڈی ڈبلیو ایل آرز) کے ذریعے زیرِ زمین پانی کی سطح کی ریئل ٹائم نگرانی کر رہا ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح سے متعلق معلومات کے جامع تجزیے کے لیے، سی جی ڈبلیو بی نے ریاستی حکومتوں کی جانب سے قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت نصب کیے گئے 12,764 ڈی ڈبلیو ایل آرز اور اٹل بھوجل یوجنا کے تحت نصب کیے گئے 6,266 ڈی ڈبلیو ایل آرز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا بھی اپنے نظام میں جامع تجزیہ  کیا ہے۔
  3. ویب پر مبنی پلیٹ فارمس: زیرِ زمین آبی وسائل کامرکزی بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) نے انڈیا گراؤنڈ واٹر ریسورس اسٹی میشن سسٹم (آئی این- جی آر ای ایس) کے نام سے ایک ویب پر مبنی نظام تیار کیا ہے، جو ملک بھر میں زیرِ زمین آبی وسائل کے تخمینے اور جائزے کے لیے ایک معیاری پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ نظام سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم (منریگا)، اٹل بھوجل یوجنا، جل شکتی ابھیان اور دیگر متعلقہ اسکیموں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
  4. جل شکتی ابھیان ‘کیچ دی رین’ ڈیش بورڈ: (جی ایس اے- سی ٹی آر): یہ ڈیش بورڈ قومی آبی مشن کے تحت قائم کیا گیا ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جسے جل شکتی ابھیان کی ‘کیچ دی رین’ مہم کی نگرانی، جائزہ لینے اور مؤثر انتظام کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈیش بورڈ پانی کے تحفظ سے متعلق سرگرمیوں کی پیش رفت پر نظر رکھنے، اعداد و شمار اکٹھا کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے مرکز کے طور پر کام کرتا ہے، نیز پانی کے تحفظ کے لیے سائنسی بنیاد پر منصوبہ بندی میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔ ڈیش بورڈ کے مطابق 28 جولائی 2026 تک ملک بھر میں مختلف اسکیموں کے باہمی اشتراک کے ذریعے پانی کے تحفظ اور زیرِ زمین پانی کی مصنوعی بھرپائی سے متعلق 2 کروڑ سے زائد کام شروع کیے جا چکے ہیں۔
  5. جل سنچئے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) ڈیش بورڈ: جل سنچئے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) پہل کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی نے 2024 میں اس وژن کے ساتھ کیا تھا کہ بارش کا پانی ذخیرہ کرنے  کو ملک گیر عوامی تحریک بنایا جائے۔ اس اقدام کے تحت تعمیر کیے گئے زیرِ زمین پانی کی بھرپائی کے ڈھانچوں کی مؤثر نگرانی کے لیے جل سنچئے جن بھاگیداری ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے۔ ڈیش بورڈ کے مطابق 31 مئی 2026 تک ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کی مصنوعی بھرپائی اور پانی ذخیرہ کرنے سے متعلق 1.55 کروڑ سے زائد ڈھانچے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔
  6. آبی ذخائر کی سطح اور سیلاب کی نگرانی  اورفلڈ واچ انڈیا: ایپ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار،میتھ میٹکل ماڈلنگ اور  ریئل ٹائم  نگرانی  جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرتے ہوئے سیلاب کی درست اور بروقت پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ  ایپ ملک بھر میں قائم 592 سیلاب  کی نگرانی کےمراکز اور 150 بڑے آبی ذخائر میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔
  7. سیٹلائٹ اور ریموٹ سینسنگ اعداد و شمار کا استعمال: آبی وسائل کی وزارت ملک کی مختلف اقسام کی نقشہ سازی اور نگرانی کے لیے بھاسکراچاریہ قومی ادارہ برائے خلائی اپیلی کیشن اور جیو انفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی- این) اور خلائی اپیلی کیشن مرکز، احمد آباد جیسے اداروں کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے، تاکہ سیٹلائٹ اور ریموٹ سینسنگ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔
  8. پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی: پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی اپیلی کیشنز، جغرافیائی محلِ وقوع کے ساتھ ڈیجیٹل اندراج (جیو ٹیگنگ) اور پروجیکٹ کی ڈیجیٹل نگرانی کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ پی ایم کے ایس وائی کے مختلف اجزا کے تحت آبپاشی  سے متعلق پروجیکٹوں  اور پانی کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی پیش رفت پر مؤثر انداز میں نظر رکھی جا سکے۔
  9. آبی ذخائر کی جیو ٹیگنگ اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی نگرانی: پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے ‘ہر کھیت کو پانی’ (ایچ کے کے پی) جزو کے تحت، جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، جیسے جغرافیائی محلِ وقوع کے ساتھ ڈیجیٹل اندراج (جیو ٹیگنگ)، جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی نقشہ سازی اور ہر آبی ذخیرے کو منفرد شناختی نمبر دینے کا نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے آبپاشی کے سطحی چھوٹے  پروجیکٹوں (ایس ایم آئی) اور آبی ذخائر کی مرمت، تزئین و بحالی (آر آر آر) اسکیموں کے تحت کیے جانے والے کاموں کی نشاندہی، نگرانی اور پیش رفت کا مؤثر جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ جدید ڈیجیٹل نظام شفافیت کو فروغ دیتے ہیں، ریئل ٹائم میں نگرانی کو ممکن بناتے ہیں اور آبی ذخائر کے احیاء  سے متعلق پروجیکٹوں کی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور موثر جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
  10. پانی سے متعلق معلومات کے انتظامی نظام (واٹر انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم – ڈبلیو آئی ایم ایس): قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ (این ایچ پی) کے تحت، جو 30 ستمبر 2025 تک نافذ رہا، آبی وسائل سے متعلق معلومات کے جمع کرنے، محفوظ رکھنے،  اکٹھا کرنے اور عوام تک پہنچانے کے لیے ایک مربوط پانی سے متعلق معلوماتی انتظامی نظام (ڈبلیو آئی ایم ایس) قائم کیا گیا۔ یہ نظام پانی کی دستیابی کے تخمینے، آبی ذخائر اور نہرسے متعلق نظام کے انتظام، آبپاشی کے مؤثر نظم و نسق، پانی کے حساب و کتاب اور آبی وسائل کے پائیدار انتظام سے متعلق شواہد پر مبنی فیصلوں کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
  11. سطحی آبی وسائل کا جائزہ اور ہائیڈرولوجیکل نگرانی: سطحی آبی وسائل کے سائنسی جائزے کے لیے دریائے طاس کی بنیاد پر آبی وسائل کا تخمینہ لگانے کا ایک جدید نظام تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مختلف دریا کے طاس کے علاقوں میں دستیاب سطحی پانی کا سائنسی انداز میں جائزہ لیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ  مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی)، دریا کے بہاؤ، پانی کی رفتار، سطحی پانی کی روانی اور پانی کی سطح و بارش جیسے پانی سے متعلق اشاریوں کی ریئل ٹائم نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا ہے۔ ان ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار آبی وسائل کی منصوبہ بندی، پانی کی دستیابی کے تخمینے، باخبر فیصلے کرنے اور آبی وسائل سے متعلق پروجیکٹوں کی کارکردگی کے جائزے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
  12. وزارت کی مختلف اسکیموں  کے تحت، جیسے صاف ستھری گنگا کے قومی مشن (این ایم سی جی)، آبپاشی  کے چھوٹے پروجیکٹوں کی گنتی اور دیگر پروگراموں کے تحت اعداد و شمار  اکٹھا کرنے، انہیں عوام تک پہنچانے اور اسکیموں کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز، ویب پورٹلز، موبائل ایپس اور دیگر جدید ڈیجیٹل ذرائع کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

************

 

 ش ح ۔ش م۔ش ت

UN-NO-1207


(रिलीज़ आईडी: 2293848) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada