ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: جوہری توانائی کی صلاحیت میں توسیع

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 5:21PM by PIB Delhi

اس وقت ملک میں 20 جوہری توانائی کے ری ایکٹروں پر کام جاری ہے، جن میں 10 ری ایکٹر زیرِ تعمیر ہیں جبکہ 10 ری ایکٹر قبل از منصوبہ کےمرحلے میں ہیں۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مقام

منصوبہ

گنجائش (میگاواٹ)

منظور شدہ لاگت (کروڑ روپے)

زیرِ تعمیر / کمیشننگ کے مرحلے میں منصوبے

 

 

 

راوت بھاٹا، راجستھان

آر اے پی پی-8

1 × 700

22,924 (آر اے پی پی-7 اور 8 کی مشترکہ لاگت)

کڈنکولم، تمل ناڈو

کے کے این پی پی-3 اور 4

2 × 1000

68,893

کڈنکولم، تمل ناڈو

کے کے این پی پی-5 اور 6

2 × 1000

69,437

کلپکم، تمل ناڈو

پی ایف بی آر

1 × 500

8,181

گورکھپور، ہریانہ

جی ایچ اے وی پی-1 اور 2

2 × 700

20,594

کائگا، کرناٹک

کائگا-5 اور 6

2 × 700

21,500

قبل از منصوبہ کی سرگرمیوں کے تحت پروجیکٹس

 

 

 

گورکھپور، ہریانہ

جی ایچ اے وی پی-3 اور 4

2 × 700

21,500

چھٹکا، مدھیہ پردیش

چھٹکا-1 اور 2

2 × 700

21,500

ماہی بنسواڑہ، راجستھان

ماہی بنسواڑہ-1 اور 2

2 × 700

21,500

ماہی بانسواڑہ، راجستھان

ماہی بنسواڑہ-3 اور 4

2 × 700

21,500

کلپکم، تمل ناڈو

ایف بی آر-1 اور 2

2 × 500

تخمینہ کے تحت

تعمیراتی کام کے عروج کے دوران ہر منصوبے میں اندازاً 8,000 افراد کو روزگار فراہم ہونے کی توقع ہے، تاہم روزگار کی یہ تعداد تعمیراتی سرگرمیوں کے مختلف مراحل کے مطابق بتدریج بڑھتی اور پھر کم ہوتی رہے گی۔ منصوبے کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ہر دو یونٹوں پر مشتمل جوہری بجلی گھر میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 2,000 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔

ایف بی آر منصوبے کے تحت تقریباً 650 براہِ راست اور 3600 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا تخمینہ ہے۔

حفاظت کے جائزے کے لیے متعدد سطحوں پر ایک مضبوط ضابطہ جاتی نظام موجود ہے۔ جوہری بجلی گھروں کی حفاظت کی مسلسل نگرانی اور وقتاً فوقتاً جائزہ اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کی جانب سے لیا جاتا ہے۔

اے ای آر بی نے ایسا جامع ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کر رکھا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جوہری اور تابکاری سے متعلق تمام تنصیبات مقررہ حفاظتی تقاضوں پر مکمل طور پر عمل کریں۔

جوہری توانائی سے متعلق تمام مراحل، یعنی مقام کے انتخاب، ڈیزائن، تعمیر، کمیشننگ اور آپریشن میں حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ جوہری بجلی گھروں کے ڈیزائن میں اضافی حفاظتی نظام متنوع حفاظتی انتظامات اور خرابی کی صورت میں خودکار طور پر محفوظ حالت اختیار کرنے والی خصوصیات کو شامل کیا جاتا ہے۔ یہ تمام انتظامات اے ای آر بی کے ضابطوں اور رہنما اصولوں کے مطابق، دفاع کی کثیر سطحی حکمتِ عملی  کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔

ریڈیو آئسوٹوپس کے طبی استعمال سے متعلق نئی پہل اور نجی صنعتوں و تحقیقی اداروں کی شمولیت کے تحت بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بارک) اور ٹاٹا میموریل سینٹر (ٹی ایم سی) نے مشترکہ طور پر درآمد شدہ مہنگے تابکار مائیکرو اسفیئرز (ریڈیو ایکٹو بیڈز) کا بھارتی متبادل ‘‘90Y-بھابھا اسفیئر’’ تیار کیا ہے۔ یہ جگر کے ایسے سرطان کے علاج کے لیے ایک جان بچانے والی ٹیکنالوجی ہے جنہیں جراحی کے ذریعے نکالنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس علاج کا طریقہ ریڈیو ایمبولائزیشن کہلاتا ہے۔ اس مصنوعات نے تمام حفاظتی اور معیاری جانچ کے مراحل کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں اور اسے ریڈیوفارماسیوٹیکل کمیٹی (آر پی سی) کی جانب سے طبی استعمال کے لیے باضابطہ منظوری بھی مل چکی ہے۔ اب اس کی ملک کے اندر پیداوار اور فروخت بورڈ آف ریڈی ایشن اینڈ آئسوٹوپ ٹیکنالوجی (برِٹ)، بارک کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

یہ معلومات وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

*****

ش ح۔ ع ح –ت ع

U.No. 1204


(रिलीज़ आईडी: 2293798) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी