خلا ء کا محکمہ
پارلیمانی سوال:ہندوستان کے خلائی پروگرام کی عالمی مسابقتی حیثیت
प्रविष्टि तिथि:
30 JUL 2026 5:16PM by PIB Delhi
خلائی محکمہ کو 2021 سے اب تک مختص کیے گئے مجموعی بجٹ کی سال وار تفصیلات، جس میںہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں اس کا حصہ اور مرکزی بجٹ میں اس کا حصہ بھی شامل ہے، درج ذیل ہے:
(روپے- کروڑ میں)
|
سال
|
محکمہ کے لیے مختص بجٹ
|
مرکزی بجٹ میں محکمہ کے بجٹ کا حصہ فیصد میں
|
ہندوستان کے جی ڈی پی میں محکمہ کے اخراجات کا حصہ فیصد میں
|
|
2025-26
|
13416.20
|
0.26
|
0.03
|
|
2024-25
|
13042.75
|
0.27
|
0.04
|
|
2023-24
|
12543.91
|
0.28
|
0.04
|
|
2022-23
|
13700.00
|
0.35
|
0.04
|
|
22-2021
|
13949.09
|
0.40
|
0.05
|
|
|
مختلف اسکیموں / عمودی کے تحت ہونے والے اخراجات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
اسکیم کا نام
|
اخراجات کی نوعیت
|
کل اخراجات روپے کروڑ میں
|
|
22-2021
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26 (RE)
|
2026-27 (BE)
|
|
خلائی ٹیکنالوجی
|
لانچ وہیکلز، ای او سیٹلائٹس ،نیوی گیشن، ٹیکنالوجی کے مظاہرے سیٹلائٹس اور سہولیات کی تخلیق پراخراجات
|
8873.62
|
7646.72
|
8083.43
|
8840.72
|
9601.98
|
10397.06
|
|
خلائی ایپلی کیشنز
|
ایپلیکیشن پروگرامز جیسے این این آر ایم ایس، ڈی ایم ایس وغیرہ پراخراجات
|
1203.62
|
1268.56
|
1475.43
|
1562.91
|
1596.27
|
1725.06
|
|
خلائی سائنسز
|
سیاروں کے مشن پر، اسپانسر شدہ تحقیق وغیرہ پر اخراجات
|
190.36
|
114.13
|
109.51
|
107.93
|
184.62
|
569.76
|
|
انڈین نیشنل سیٹلائٹ سسٹم
|
کمیونیکیشن سیٹلائٹ کی تیاری پر اخراجات
|
344.97
|
414.18
|
234.74
|
176.13
|
205.95
|
130.93
|
محکمہ نے خلائی شعبے میں ہندوستان کی عالمی حیثیت کا جائزہ لیا ہے، جس میں لانچ صلاحیت، سیٹلائٹ سازی، دوبارہ قابلِ استعمال لانچ ٹیکنالوجی، انسانی خلائی پرواز، وسیع خلائی تحقیق، تجارتی لانچ خدمات، پیٹنٹس، تحقیق اور تکنیکی اختراعات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
لانچ صلاحیت: ہندوستان نے ستیش دھون خلائی مرکز، سری ہری کوٹا سے 100 لانچوں کا اہم سنگِ میل حاصل کر لیا ہے اور پی ایس ایل وی، جی ایس ایل وی اور ایل وی ایم-3 کے ذریعے خود کو ایک قابلِ اعتماد عالمی لانچ سروس فراہم کنندہ کے طور پر قائم کیا ہے۔ اس میں ملکی اور بین الاقوامی صارفین کے لیے خصوصی تجارتی مشن بھی شامل ہیں۔
سیٹلائٹ سازی اور لانچ خدمات: ہندوستان نے ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر ریڈار (این آئی ایس اے آر) مشن کو جی ایس ایل وی کے ذریعے کامیابی سے لانچ کیا، ایل وی ایم-3 کے ذریعے ہندوستانی سرزمین سے جی ٹی او تک سب سے بھاری سیٹلائٹ (سی ایم ایس-03) روانہ کیا، اور اس کے بعد ایک امریکی صارف کے لیےہندوستان سے سب سے وزنی تجارتی سیٹلائٹ بھی لانچ کیا۔
دوبارہ قابلِ استعمال لانچ ٹیکنالوجی اور مستقبل کے لانچ نظام:اسرو دوبارہ قابلِ استعمال لانچ وہیکل (آر ایل وی) ٹیکنالوجی، اسٹیج ریکوری، سیمی کرائیوجینک پروپلشن، نیکسٹ جنریشن لانچ وہیکل (این جی ایل وی) اور ایل او ایکس-میتھین پروپلشن سسٹمز پر کام کر رہا ہے، تاکہ خلائی مشنوں کی لاگت کم کی جا سکے اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہو۔
انسانی خلائی پرواز:گگن یان پروگرام کے ذریعےہندوستان انسانی خلائی پرواز کرنے والا ملک بننے کی سمت پیش رفت کر رہا ہے۔ اس کے لیے انسانی پرواز کے قابل لانچ نظام، کریو ماڈیول ٹیکنالوجی اور خلائی وژن 2047 کے تحت مستقبل کے ہندوستانی خلائی اسٹیشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔
وسیع خلائی تحقیق: ہندوستانی نے چندریان-3 کے ذریعے چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیاب سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ آدتیہ-ایل1 مشن کے ذریعے سورج-زمین کے ایل1 پوائنٹ پر شمسی رصدگاہ قائم کرنے والاہندوستان دنیا کا تیسرا ملک بن گیا۔
جدید خلائی ٹیکنالوجیز: ہندوستان نے اسپیڈیکس مشن کے ذریعے خلا میں خودکار ڈاکنگ اور ان ڈاکنگ کا مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ صلاحیت مستقبل کے خلائی اسٹیشن، انسانی خلائی پرواز اور گہری خلائی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی:اسرو دوبارہ قابلِ استعمال لانچ نظام، خلائی روبوٹکس، برقی پروپلشن، کوانٹم مواصلات، ڈاکنگ ٹیکنالوجی، سیارچوں سے متعلق تحقیق اور جدید نسل کے سیٹلائٹ نظام سمیت مختلف شعبوں میں جدید تحقیق و ترقی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی اور دانشورانہ املاک کے فروغ کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
تجارتی لانچ خدمات اور خلائی شعبے میں اصلاحات:حکومت کی اصلاحات کے ذریعے ان-اسپیس اور این ایس آئی ایل کے توسط سے خلائی شعبہ نجی شرکت کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے لانچ خدمات کی تجارتی کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی منڈی میں ہندوستان کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستانی خلائی اسٹارٹ اپس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں اسکائی روٹ ایرو اسپیس کا وکرم-ایس شامل ہے، جو مدار تک پہنچنے والاہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ راکٹ ہے، جبکہ وکرم-1 بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگنی کال نے اگنی بان ایس او آر ٹی ای ڈی مشن کے ذریعے ایک ہی ٹکڑے میں تیار کیے گئے تھری ڈی پرنٹڈ انجن کا کامیاب مظاہرہ کیا، جبکہ پکسل نے اعلیٰ ریزولوشن والے ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ نظام قائم کیے، جس سے تجارتی خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کی عالمی موجودگی مزید مضبوط ہوئی ہے۔
لانچ صلاحیت، سیٹلائٹ ترقی، سائنسی مشنوں، تجارتی لانچ خدمات، نجی شعبے کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں مسلسل کامیابیوں کے ذریعےہندوستان دنیا کی سرکردہ خلائی طاقتوں میں شامل ہو گیا ہے اور عالمی خلائی شعبے میں اپنی مضبوط اور وسعت پذیر موجودگی قائم کر چکا ہے۔
یہ معلومات وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
ش ح۔ ع و۔ش ب ن
U-NO-1182
(रिलीज़ आईडी: 2293674)
आगंतुक पटल : 14