مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹی آر اے آئی نے ڈیجیٹل ایڈریس ایبل سسٹم (ڈی اے ایس) کے ماحولیاتی نظام میں آڈٹ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 6:07PM by PIB Delhi

ہندوستانی ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (ٹی آر اے آئی) نے آج ڈیجیٹل ایڈریس ایبل سسٹمز (ڈی اے ایس) کے آڈٹ کے لیے منظور شدہ آڈٹ فرموں کی تربیت کے مقصد سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ نئی دہلی میں ٹی آر اے آئی کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والی اس ورکشاپ نے ٹیلی ویژن نشریات کے تقسیم کے نظام میں ضابطہ جاتی تعمیل کو فروغ دینے اور شفافیت کو مزیدمستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کی۔

اس ایک  روزہ ورکشاپ میں ٹی آر اے آئی کی منظور شدہ آڈٹ فرموں، نشریاتی صنعت کے نمائندوں، یعنی براڈکاسٹروں اور ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم آپریٹروں (ڈی پی اوز) نے شرکت کی۔ یہ ورکشاپ آڈٹ کے دوران حاصل ہونے والے مشاہدات، تجربات، سیکھنے کے نکات اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ ورکشاپ میں 81 شرکاء نے آف لائن جبکہ 52 شرکاء نے آن لائن شرکت کی۔

آڈٹ کے نظام سے متعلق مسائل کے حل کے لیے انٹرکنکشن ضوابط اور آڈٹ مینوئل میں رواں سال ترامیم کی گئی ہیں، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہیں۔ ترمیم شدہ ضوابط کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • آڈٹ کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت تقسیم کاروں کو ہر سال 30 ستمبر تک آڈٹ مکمل کرکے اس کی رپورٹ براڈکاسٹروں کو پیش کرنا ہوگی۔
  • اب آڈٹ کیلنڈر سال کے بجائے مالی سال کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
  • آڈٹ کے عمل میں شفافیت اور اعتبار کو یقینی بنانے کے لیے براڈکاسٹر اپنے نمائندے کو آڈٹ کے دوران موجود رکھنے کے مجاز ہوں گے۔
  • اگر براڈکاسٹر کو آڈٹ رپورٹ میں کوئی خامی یا تضاد نظر آئے تو وہ ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم آپریٹر (ڈی پی او) کے ذریعے آڈیٹر سے وضاحت طلب کر سکتا ہے، جس کا مقررہ مدت کے اندر جواب دینا آڈیٹر کے لیے لازمی ہوگا۔
  • اگر براڈکاسٹر ان وضاحتوں سے مطمئن نہ ہو تو وہ اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد اپنے خرچ پر دوبارہ آڈٹ کروا سکتا ہے۔
  • اگر کسی تقسیم کار کی جانب سے 30 ستمبر تک براڈکاسٹر کو آڈٹ رپورٹ موصول نہ ہو تو براڈکاسٹر اس تقسیم کار کا آڈٹ خود کروا سکتا ہے۔
  • کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے 30 ہزار سے کم صارفین رکھنے والے تقسیم کاروں کے لیے اپنے خرچ پر سالانہ آڈٹ کرانا اختیاری بنا دیا گیا ہے۔ تاہم، براڈکاسٹر ایسے ڈی پی اوز کا آڈٹ اپنے خرچ پر کروا سکتے ہیں۔

ٹی آر اے آئی کے چیئرمین کا بیان

 

ٹی آر اے آئی کے چیئرمین  جناب انل کمار لاہوٹی نے کہاکہ ‘‘ٹی آر اے آئی کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ایک منصفانہ اور مساوی ماحول کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ضابطہ جاتی فیصلے براڈکاسٹروں، تقسیم کاروں اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں کے مفادات میں توازن قائم رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ فیصلہ سازی کے عمل میں صارفین کی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔’’

انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘ٹی آر اے آئی سے منظور شدہ آڈیٹروں کی جانب سے کیے جانے والے آڈٹ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں کہ ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم آپریٹروں (ڈی پی اوز) کے زیر استعمال نظام مقررہ تکنیکی تقاضوں کے مطابق ہوں۔ سالانہ آڈٹ کے ذریعے تکنیکی اور تجارتی رپورٹوں، بشمول صارفین کی تعداد سے متعلق اعلانات، نیز کنڈیشنل ایکسس سسٹم (سی اے ایس)، سبسکرائبر مینجمنٹ سسٹم (ایس ایم ایس)، فنگر پرنٹنگ اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضوں کی تعمیل کی جانچ کی جاتی ہے۔ شفافیت، جوابدہی اور مقررہ معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر یہ آڈٹ ایک قابلِ اعتماد نشریاتی نظام کو مضبوط اور پائیدار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔’’

یہ ورکشاپ صنعت کی جانب سے اتھارٹی کو موصول ہونے والی ان درخواستوں کے بعد منعقد کی گئی، جن میں آڈٹ کے طریقۂ کار اور عمل سے متعلق آڈیٹروں کی وقتاً فوقتاً تربیت اور تکنیکی و تجارتی تقاضوں کے مطابق آڈٹ رپورٹس کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ ورکشاپ کے مختلف سیشن میں براڈکاسٹ انجینئرنگ کنسلٹنٹس انڈیا لمیٹڈ (بی ای سی آئی ایل)، آڈٹ فرموں اور صنعت سے وابستہ ماہرین نے اپنے خیالات اور تکنیکی معلومات پیش کیں۔

********

ش ح۔  ع و۔ش ب ن

U-NO-1175


(रिलीज़ आईडी: 2293612) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी