الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا اے آئی اور وزارتِ آیوش کے درمیان روایتی صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط


یہ شراکت داری آیوش سے متعلق صحت تحقیقی مواد کے ذریعے اے آئی کوش کو مزید مستحکم بنائے گی اور بھارت کے روایتی طبی نظام کے لیے ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 3:45PM by PIB Delhi

 الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت(ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت انڈیا اے آئی  نے بھارت کے روایتی طبی نظام میں  مصنوعی ذہانت (اے آئی)  کے استعمال کو فروغ دینے اور اسے تیز کرنے کے لیے  وزارتِ آیوش  کے ساتھ ایک  مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)  پر دستخط کیے ہیں۔

یہ شراکت داری آیوش سے متعلق صحت تحقیقی مواد کو بھارت کے خودمختار  مصنوعی ذہانت ذخیرے (اے آئی کوش)  میں شامل کرکے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق اور اختراع کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001OA5O.jpg

اس مفاہمتی یادداشت پر  انڈیا اے آئی مشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)  کے جوائنٹ سیکریٹری جناب سدیپ سری واستو  اور  وزارتِ آیوش کی جوائنٹ سیکریٹری و چیف ویجلنس آفیسر ڈاکٹر کویتا جین  نے دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں دستخط کیے۔

اس شراکت داری کے تحت  وزارتِ آیوش ،  اے آئی کوش  میں شامل ہو گی اور صحت سے متعلق اہل گمنام تحقیقی مواد فراہم کرے گی، جس میں  ڈیٹا سیٹس، میٹا ڈیٹا، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ٹول کٹس  اور متعلقہ استعمال کے معاملات شامل ہوں گے۔

یہ وسائل محققین، اسٹارٹ اپس، تعلیمی اداروں اور اختراع کاروں کو قومی ترجیحات کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کرنے میں مدد فراہم کریں گے، جبکہ ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق نافذ العمل پالیسیوں اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002JMYZ.jpg

یہ شراکت داری آیوش کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ اہل شراکت داروں کو  انڈیا اے آئی کمپیوٹ ایکو سسٹم  کے ذریعے بھارت کے مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچے سے استفادہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی، جس سے جدید اے آئی تحقیق اور بڑے پیمانے پر قابلِ توسیع صحت سے متعلق حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

 جناب سدیپ سری واستو  نے کہا کہ  ‘‘انڈیا اے آئی اور وزارتِ آیوش کے درمیان یہ مفاہمتی یادداشت روایتی صحت کے شعبے سے متعلق ڈیٹا سیٹس کے ذریعے اے آئی کوش کو مزید مؤثر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ہماری قدیم دانش کے درمیان یہ شراکت داری روایتی طبی علوم کے محققین اور ماہرین کو بااختیار بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔’’

آیوش کے ماحولیاتی نظام میں تحقیق اور اختراع کو مضبوط بنانے میں مصنوعی ذہانت کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے  ڈاکٹر کویتا جین  نے کہا،  ‘‘آیوش کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا انضمام شواہد پر مبنی تحقیق، معلوماتی انتظام اور اختراع کے لیے نئے راستے کھولے گا۔ انڈیا اے آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری تحقیق، دواؤں کی تیاری و انتظام، طبی پودوں اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے گی، جس سے آیوش کا ماحولیاتی نظام مزید ٹیکنالوجی پر مبنی اور مستقبل کے لیے تیار ہو سکے گا۔’’

یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی طور پر  دو سال  کے لیے مؤثر رہے گی، جسے باہمی رضامندی سے خودکار طور پر تجدید کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس شراکت داری میں کسی بھی فریق کے لیے کوئی مالی ذمہ داری یا مالی عہد شامل نہیں ہے۔

یہ تعاون بھارت کے قدیم اور مالا مال روایتی طبی ورثے کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے ساتھ مربوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔  اے آئی کوش کے ڈیٹا ماحولیاتی نظام، جدید مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور وزارتِ آیوش کے تحقیقی نظام  کو یکجا کرتے ہوئے اس شراکت داری کا مقصد اختراعات کو تیز کرنا، شواہد پر مبنی تحقیق کو فروغ دینا اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے حل تیار کرنا ہے جو بھارت کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔

یہ شراکت داری دونوں اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی فلاح کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے ایک محفوظ، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو فروغ دیا جائے۔

*********  

(ش ح ۔ ش ت ۔ت ا(

U.No 1038

 


(रिलीज़ आईडी: 2292579) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी