جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا(پی ایم-ایس ایس وائی) کو منظوری دی ہے، جس کے تحت 5,070 کروڑ روپے کے کل بجٹ سے فلوٹنگ سولر فوٹوولٹک پروجیکٹس اور انرجی اسٹوریج سسٹمز تیار کیے جائیں گے

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 4:28PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج ’پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا (پی ایم-ایس ایس وائی)‘ کو منظوری دی ہے۔ یہ اسکیم توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (ای ایس ایس) کے ساتھ تیرتے ہوئےیعنی فلوٹنگ سولر فوٹو وولٹک (ایف ایس پی وی) منصوبوں کی ترقی کے لیے ہے، جس کے لیے مجموعی طور پر 5,070 کروڑ روپے کا مالی خرچ مقرر کیا گیا ہے۔

اس اسکیم کے تحت 5,000 میگاواٹ کی گنجائش والے تیرتے ہوئے شمسی فوٹو وولٹک منصوبے تیار کیے جائیں گے، جن کے ساتھ مربوط توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام بھی نصب ہوں گے۔ ان نظاموں میں کم از کم دو گھنٹے کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، یعنی 10,000 میگاواٹ گھنٹہ(ایم ڈبلیو ایچ) ہوگی۔ ان منصوبوں کو مالی سال 27-2026 سے مالی سال 2030-31  کی مدت کے لیےمنظوری دی جائے گی، جبکہ مالی معاونت کی فراہمی مالی سال33-2032 تک جاری رہے گی۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی (این آئی ایس ای) کی جانب سے حالیہ جائزہ  کے بعد یہ منظوری دی گئی ہے، جس میں ملک کے ذخائر اور دیگر موزوں اندرونِ ملک آبی ذخائر میں تقریباً 102.18 گیگاواٹ پیک(جی ڈبلیو پی) تیرتے ہوئے شمسی (فلوٹنگ سولر انرجی)توانائی کی ممکنہ صلاحیت کا اندازہ  لگایا گیا ہے۔

اس اسکیم کے تحت اہل تیرتے ہوئے شمسی فوٹو وولٹک منصوبوں کے کامیاب آغاز کے بعد مرکزی مالی معاونت (سی ایف اے) کے طور پر ایک کروڑ روپے فی میگاواٹ فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ کی ترقی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے درکار ابتدائی سرگرمیوں، بشمول فزیبلٹی اسٹڈیز، باتھیمیٹری اور ہائیڈروگرافی کے اندازے اور ماحولیاتی مطالعے کے لیے فی پروجیکٹ 50 لاکھ روپے تک کی مرکزی مالی مدد (سی ایف اے) دستیاب ہوگی۔

اس اسکیم سے تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے مستفید ہوں گے۔ اس اسکیم کے ذریعے ملک میں تیرتے ہوئے شمسی فوٹو وولٹک توانائی کی صلاحیت میں 5,000 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا، جو اس وقت تقریباً 700 میگاواٹ ہے۔ یہ منصوبے موجودہ آبی ذخائر اور صنعتی تالابوں کے مؤثر استعمال کا موقع فراہم کریں گے اور محدود زمینی وسائل کے لیے مسابقت کو ختم کریں گے۔توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے انضمام سے بجلی کے گرڈ کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ اسکیم سالانہ تقریباً ایک کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO) کے اخراج میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگی۔

یہ پروجیکٹ تمام تر مراحل  کے دوران تقریباً 16,000 سے 17,000 کل وقتی ملازمت کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ اسکیم فلوٹیشن سسٹمز (تیرنے والے نظام) کی ملکی سطح پر تیاری کے ساتھ ساتھ پروجیکٹس کے تمام تر شعبوں، جیسے کہ پی وی سیلز ، ماڈیولز اور انرجی اسٹوریج سسٹمز وغیرہ کی مقامی پیداوار کو فروغ دے گی اور ’آتم نربھر بھارت کے وژن کو تقویت بخشے گی۔

یہ اسکیم قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافے، قومی توانائی اور ماحولیاتی اہداف کے حصول میں معاونت اور آبی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے میں مددگار ہوں گی، جبکہ وکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

*******

ش ح۔م ع ن۔ ت ع

U- 1045


(रिलीज़ आईडी: 2292532) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Punjabi , Gujarati , Kannada , Malayalam