صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دیہی علاقوں میں عوامی صحت  خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات


این ایچ ایم  کے تحت مفت ادویات کی فراہمی کا اقدام شروع کیا گیا ہے، جس میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے تحت ذیلی صحت مراکز کی سطح پر 113 ادویات، پرائمری ہیلتھ سینٹر کی سطح پر 179 ادویات، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرکی سطح پر 301 ادویات، ذیلی ضلعی اسپتالوں کی سطح پر 318 ادویات اور ضلعی اسپتالوں کی سطح پر 381 ادویات فراہم کی جاتی ہیں

این ایچ ایم کے تحت مفت تشخیصی خدمات کا اقدام  ایک  ایساپروگرام ہے جس کا مقصد عوام کو ان کی  کمیونٹی کے قریب قابل رسائی اور کم خرچ  والے پیتھولوجیکل اور ریڈیولوجیکل تشخیصی خدمات فراہم کرنا ہے تاکہ جیب سے ہونے والے اخراجات میں کمی لائی جا سکے

سرکاری صحت مراکز کی تمام سطحوں پر تشخیصی خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں: ذیلی مراکزپر 14 ٹیسٹ، پرائمری ہیلتھ سینٹر پر 63 ٹیسٹ، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پر 97 ٹیسٹ، ذیلی ضلعی اسپتالوں پر 111 ٹیسٹ اور ضلعی اسپتالوں پر 134 ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے

این ایچ ایم کے تحت تمام سرکاری اسپتالوں میں معیاری اور بروقت صحت خدمات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف مراعات اور اعزازیہ فراہم کیے جاتے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 2:33PM by PIB Delhi

صحت ریاستی موضوع ہے، لہٰذا عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود، قومی صحت مشن کے تحت پروگرام عمل درآمد منصوبوں (پی آئی پیز) کی صورت میں موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر دیہی علاقوں میں عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ حکومت ہند دستیاب وسائل اور مقررہ ضوابط کے مطابق کارروائی کے ریکارڈ (آر او پیز) کی صورت میں ان تجاویز کو منظوری دیتی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طویل مدت کے لیے  ہندوستانی عوامی صحت معیارات (آئی پی ایچ ایس) کے مطابق مستقل اسامیوں کی مناسب تعداد   تخلیق  کرکے افرادی قوت کی دستیابی  کویقینی بنائیں، جبکہ قلیل اور درمیانی مدت میں اہم کمی کو پورا کرنے کے لیے قومی صحت مشن کی اسامیوں سے استفادہ کریں۔ قومی صحت مشن،  ہندوستانی عوامی صحت معیارات کے مطابق ثانوی اور بنیادی صحت کی سہولیات (ضلع اسپتال اور اس سے نچلی سطح کے مراکز) میں انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرکے مستقل عملے کی معاونت کرتا ہے۔

ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں اور صحت مراکز میں ڈاکٹروں، ماہر ڈاکٹروں، معالجین، نرسوں اور پیرا میڈیکل عملے کی ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے دستیاب تعداد اور خالی ا سامیوں کی تفصیلات ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکیٹر (ایچ ڈی آئی)24-2023 کے درج ذیل لنک پر دیکھی جا سکتی ہیں:

https://www.mohfw-dohfw.gov.in/static/uploads/2026/05/57202cf30629539e4d0fb0a2f700ac62.pdf

عوامی صحت سہولیات سے رجوع کرنے والے مریضوں کو ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے اور ان کے ذاتی اخراجات (آؤٹ آف پاکٹ اخراجات) میں کمی لانے کے لیے حکومت نے قومی صحت مشن کے تحت مفت ادویات فراہمی  کااقدام شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ذیلی صحت مراکز کی سطح پر 113، بنیادی صحت مراکز کی سطح پر 179، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کی سطح پر 301، ذیلی ضلعی اسپتالوں کی سطح پر 318 اور ضلعی اسپتالوں کی سطح پر 381 ادویات کی فراہمی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

یہ وزارت قومی صحت مشن کے تحت مفت تشخیصی خدمات سے متعلق اقدام میں بھی معاونت کرتی ہے، جس کا مقصد عوام کو ان کے قریب، آسان رسائی اور کم لاگت پر پیتھالوجی اور ریڈیالوجی کی تشخیصی سہولیات فراہم کرنا ہے، تاکہ مریضوں کے ذاتی اخراجات (آؤٹ آف پاکٹ اخراجات) میں کمی آئے۔ عوامی صحت کی تمام سطحوں پر تشخیصی خدمات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، جن میں ذیلی صحت مراکز پر 14، بنیادی صحت مراکز پر 63، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پر 97، ذیلی ضلعی اسپتالوں میں 111 اور ضلعی اسپتالوں میں 134 تشخیصی ٹیسٹ شامل ہیں۔

قومی صحت مشن کے تحت تمام سرکاری اسپتالوں میں معیاری اور بروقت طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقسام کی مراعات اور اعزازیے فراہم کیے جاتے ہیں:

  • دیہی اور دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ماہر ڈاکٹروں کو ان علاقوں میں سرکاری صحت مراکز میں خدمات انجام دینے کی ترغیب دینے کے لیے مشکل علاقوں  سے متعلق الاؤنس اور رہائشی سہولت کے لیے الاؤنس فراہم کیا جاتا ہے۔
  • دیہی اور دور دراز علاقوں میں سیزیرین آپریشن کی سہولت بڑھانے کے لیے ماہر امراضِ نسواں، ایمرجنسی زچگی نگہداشت (ای او ایم سی) کی تربیت یافتہ ڈاکٹر، ماہر اطفال، اینستھیٹسٹ اور جان بچانے والی اینستھیزیا مہارت (ایل ایس اے ایس) کی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کو بھی اعزازیہ دیا جاتا ہے تاکہ ماہرین کی دستیابی میں اضافہ ہو۔
  • بروقت قبل از ولادت معائنہ (اے این سی) کرانے اور اس کا اندراج یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹروں اور معاون نرس و دائی (اے این ایم) کے لیے خصوصی ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ نوعمر افراد کی تولیدی اور جنسی صحت سے متعلق سرگرمیوں کے انعقاد پر بھی مراعات دی جاتی ہیں۔
  • ریاستوں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کو راغب کرنے کے لیے قابلِ مذاکرات تنخواہ کی پیشکش کریں، جس میں "آپ تنخواہ بتائیں، ہم ادا کریں" جیسی لچکدار حکمتِ عملی بھی شامل ہے۔
  • قومی صحت مشن کے تحت غیر مالی مراعات بھی متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں مشکل علاقوں میں خدمات انجام دینے والے عملے کو پوسٹ گریجویٹ کورسز میں ترجیحی داخلہ اور دیہی علاقوں میں رہائش کی بہتر سہولیات شامل ہیں۔
  • ماہر ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانے کے لیے قومی صحت مشن کے تحت ڈاکٹروں کو متعدد مہارتوں کی تربیت دی جاتی ہے، جبکہ موجودہ طبی عملے کی مہارت میں اضافہ بھی قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کی ایک اہم حکمت عملی ہے، تاکہ صحت کے شعبے کے نتائج میں بہتری لائی جا سکے۔

صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت  جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

********

ش ح۔  م م۔ ش ب ن

U-NO-1018


(रिलीज़ आईडी: 2292416) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil