جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 جل جیون مشن کے تحت پانی کے معیار کا انتظام

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 5:28PM by PIB Delhi

پینے کے پانی  کی فراہمی سرکاری ذمہ دا ری ہونے کی وجہ سے جل جیون مشن کے تحت چلائی جانے والی اسکیموں سمیت پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی منصوبہ بندی، منظوری، نفاذ، آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں  کی حکومتوں کی ہے۔ حکومت ہند ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام  علاقوں کی کوششوں کو مالی معاونت، پالیسی رہنمائی اور تکنیکی مدد فراہم کرکے تعاون کرتی ہے۔جل جیون مشن اگست 2019 سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں کے ہر گھر کو نل کے ذریعے پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ جل جیون مشن کے تحت موجودہ رہنما اصولوں کے مطابق پائپ کے ذریعے فراہم کیے جانے والے پانی کے معیار کے لیے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز  کے بی آئی ایس: 10500 پیمانے کےمعیارات کے طور پر اپنایا گیا ہے۔

جل جیون مشن کے تحت گھروں تک نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کے لیے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی منصوبہ بندی کرتے وقت کیمیائی آلودگی سے متاثرہ بستیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پانی کے معیار سے متعلق مسائل رکھنے والے گاؤں کے لیے متبادل محفوظ آبی ذرائع کی بنیاد پر پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کریں۔

مزید برآں، ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر آرسینک اور فلورائیڈ سے متاثرہ بستیوں میں کمیونٹی واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس(سی ڈبلیو پی پی) نصب کریں، تاکہ ہر گھر کو پینے اور کھانا پکانے کی ضروریات کے لیے صاف پانی فراہم کیا جا سکے (تقریباً 8 سے 10 لیٹر فی کس فی دن)، جب تک کہ جل جیون مشن کے معیارات کے مطابق پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی اسکیمیں مکمل نہ ہو جائیں۔

آپریشنل گائیڈ لائنز کے مطابق ریاستیں اورمرکز کے زیر انتظام علاقے جل جیون مشن کے فنڈز کو پانی کے معیار کی نگرانی اور نگرانی جاتی سرگرمیوں (ڈبلیو کیو ایم اینڈ ایس) کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں، دیگر امور کے ساتھ، پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی تجربہ گاہوں کا قیام اور انہیں مضبوط بنانا، آلات، مشینری، کیمیکلز، شیشے کے برتن اور دیگر استعمال کی جانے والی اشیا کی خریداری، ماہر افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنا، فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کے) کے ذریعے کمیونٹی کی جانب سے نگرانی، بیداری پیدا کرنا، پانی کے معیار سے متعلق تعلیمی پروگرام، تجربہ گاہوں کی منظوری اورتسلیم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

جل جیون مشن کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پانی کے نمونوں کی جانچ، نمونوں کے حصول، رپورٹنگ، نگرانی اور پینے کے پانی کی نگرانی کے قابل بنانے کے لیے ایک آن لائن جل جیون مشن – واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (جے جے ایم-ڈبلیو کیو ا یم آئی ایس) پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ ڈبلیو کیو ا یم آئی ایس کے ذریعے رپورٹ کیے گئے پانی کے معیار کی جانچ سے متعلق ریاست وار تفصیلات عوام کےلئے اس پورٹل پر https://ejalshakti.gov.in/WQMIS/Main/report. دستیاب ہیں۔

مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد دسمبر 2024 میں "دیہی گھروں کو فراہم کیے جانے والے پائپ کے ذریعے پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے مختصر کتابچہ" جاری کیا گیا، جو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے رہنمائی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

اس کتابچے میں پانی کے نمونوں کی جامع جانچ کی سفارش کی گئی ہے، جس میں پانی کے مختلف مقامات جیسے آبی ماخذ، ٹریٹمنٹ پلانٹ، ذخیرہ کرنے کے مقامات اور تقسیم کے مراکز سے نمونوں کی جانچ شامل ہے۔ ضرورت پڑنے پر اصلاحی اقدامات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ گھروں کو فراہم کیا جانے والا پانی مقررہ معیار (بی ا ٓئی ایس: 10500) کے مطابق ہو۔

مارچ 2023 میں پینے کے پانی کے علاج کی ٹیکنالوجیز سے متعلق ایک اور کتابچہ جاری کیا گیا، جس کا مقصد تمام متعلقہ فریقوں میں دستیاب ٹیکنالوجیز کے بارے میں معلومات عام کرنا تھا، تاکہ پانی کے معیار سے متاثرہ گاؤں کو درپیش مقامی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کو سمجھاجاسکے اور نافذ کیا جا سکے۔ریاستیں مقامی تکنیکی اور معاشی موزونیت کی بنیاد پر ایک یا ایک سے زیادہ ٹیکنالوجیز پر مشتمل مناسب تعداد میں واٹر ٹریٹمنٹ نظام اختیار کر سکتی ہیں۔

ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پانی کے معیار سے متعلق مسائل رکھنے والے گاؤں کے لیے متبادل محفوظ آبی ذرائع یا بڑے پیمانے پر پانی کی منتقلی پر مبنی پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کریں۔

مزید برآں، جل جیون مشن کے تحت شروع کی جانے والی کسی بھی طرح کے پانی کی فراہمی کی اسکیم کو متعلقہ ریاستی حکومت کی ماخذِ آب کی نشاندہی کرنے والی کمیٹی کی سفارش کے بعد ہی منظوری دی جاتی ہے۔ کمیٹی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جس آبی ماخذ کے ذریعے اسکیم کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، وہ اسکیم کے ڈیزائن کی مدت کے دوران مطلوبہ معیار کے مطابق پانی کی مسلسل فراہمی کے لیے کافی مقدار میں پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی۔ سومنا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*******

ش  ح۔ م م ع- ف ر

Uno-1012                                                 


(रिलीज़ आईडी: 2292297) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada