مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محکمۂ ٹیلی کمیونی کیشنز اور حکومت مدھیہ پردیش کے درمیان گوالیار میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون(ٹی ایم زیڈ)کے قیام کے لیے مفاہمت  نامہ پر دستخط


  ٹی ایم زیڈ ہندوستان  کا پہلا مربوط ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون بن کر ابھرے گا، پہلے مرحلہ کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مرکزی حکومت 493 کروڑ روپے فراہم کرے گی

ہندوستان  کا پہلا ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ‘آتم نربھر بھارت’ کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کرے گا

  ہم حکومت نہیں، بلکہ شراکت دار اور سہولت کار ہیں: مرکزی وزیرمواصلات جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا

ہندوستان کو صرف ٹیلی کام خدمات فراہم کرنے والا ملک رہنے کے بجائے ٹیلی کام مصنوعات تیار کرنے والا ملک بننا ہوگا  جوٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون اس تبدیلی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا: جناب سندھیا

ہم سرمایہ کار برادری کے لیے شراکت دار اور سہولت کار ہیں: مرکزی وزیرمواصلات

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 9:28PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کے محکمۂ ٹیلی کمیونی کیشنز(ڈی او ٹی)اور حکومت مدھیہ پردیش نے آج مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون(ٹی ایم زیڈ)کے قیام کے لیے ایک مفاہمت نامےپر دستخط کیے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقیات کے وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات و دیہی ترقیات ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی موجود تھے۔یہ مفاہمت نامہ ملک میں ٹیلی کام آلات کی مقامی تیاری کے ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم بنانے اور ٹیلی کمیونی کیشنز کے شعبے میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کےآتم نربھر بھارت’کے ویژن کوعملی جامہ پہنانے کی سمت ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کو 350 ایکڑ پر مشتمل ایک مربوط پلگ اینڈ پلے صنعتی کلسٹر کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ٹیلی کام اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی، اختراع اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ اور سازگار صنعتی ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گوالیار کو وسطی  ہندوستان  کا ایک ممتاز صنعتی اور ٹیکنالوجی مرکز بنانا اور  ہندوستان کو عالمی سطح پر ٹیلی کام مینوفیکچرنگ اور اختراع کے ایک اہم مرکز کے طور پر مزید مضبوط کرنا ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے نتیجے میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کے لیے ایک خصوصی مقصدی ادارہ (ایس پی وی) قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی، جس میں 51 فیصد حصص حکومت مدھیہ پردیش اور 49 فیصد حصص محکمۂ ٹیلی مواصلات کے پاس ہوں گے۔

مرکزی حکومت مرحلۂ اوّل کے لیے 100 فیصد مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، جس کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 493 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب حکومت مدھیہ پردیش نے بھی اس منصوبے کے لیے نمایاں تعاون فراہم کیا ہے، جس میں تقریباً 170 ایکڑ اراضی بلا معاوضہ دینا شامل ہے۔

حکومت مدھیہ پردیش کے خصوصی پالیسی پیکیج کے تحت ساڈا (ایس اے ڈی اے) علاقے میں 100 ایکڑ اور گوالیار آئی ٹی پارک میں 70 ایکڑ اراضی مفت فراہم کی گئی ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 596 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ مزید اراضی صرف ایک روپے کے معمولی پریمیم اور 30 سال کے لیے ایک روپے فی مربع میٹر سالانہ کی مقررہ لیز پر دستیاب ہوگی۔ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) میں قائم ہونے والی صنعتوں کو اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس کی واپسی، بجلی کے نرخوں میں رعایت اور دیگر مالی مراعات بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس پالیسی پیکیج کے تحت سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو نمایاں مراعات دی جائیں گی، جن میں اہل مقررہ سرمایہ کاری (ای ایف سی آئی) پر زیادہ سے زیادہ 200 کروڑ روپے تک 50 فیصد سرمایہ جاتی سبسڈی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اہل میگا منصوبوں کے لیے ہر نئے ملازم پر پانچ سال تک 5,000 روپے ماہانہ روزگار معاونت فراہم کی جائے گی۔ نئی بھرتی ہونے والے ہر ملازم کے لیے مقررہ شرائط کے مطابق، 13,000 روپے تک مہارتوں کی ترقی (اسکل ڈیولپمنٹ) کے لیے بھی مالی معاونت دستیاب ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0043GKR.jpg

برآمدات کے فروغ کے لیے اہل صنعتی یونٹس کو سمندری بندرگاہوں یا فضائی کارگو مراکز تک تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل پر مقررہ حدود کے اندر 50 فیصد مال برداری سبسڈی دی جائے گی۔ اس پالیسی پیکیج میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے لیے بھی مراعات شامل ہیں، جن کے تحت آزاد آر اینڈ ڈی مراکز کو اخراجات کی واپسی کی سہولت دی جائے گی، جبکہ پیٹنٹ، کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک کے اندراج پر ہونے والے اخراجات کی 100 فیصد واپسی بھی مقررہ حد تک فراہم کی جائے گی۔

توقع ہے کہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہوگا۔ منصوبے کے پہلے مرحلہ کے لیے تقریباً 5,000 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کے وعدے کیے جا چکے ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ مجموعی سرمایہ کاری 12,000 سے 15,000 کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس منصوبے سے تقریباً 14 ہزار براہ راست ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جن میں پہلے مرحلہ میں تقریباً 3,500 ملازمتیں شامل ہیں، جبکہ اس کے علاوہ بالواسطہ طور پر بھی دسیوں ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ڈکسن ٹیکنالوجیز، ایچ ایف سی ایل، تیجس نیٹ ورکس، وی وی ڈی این اور سرما ایس جی ایس سمیت ٹیلی کام اور الیکٹرانکس کے کئی سرکردہ ادارے اس مجوزہ زون کے اہم صنعتی شراکت دار ہوں گے۔

ٹی ایم زیڈ کو اس انداز میں تشکیل دیا جا رہا ہے کہ اس میں ٹیلی کام صنعت کی پوری ویلیو چین شامل ہو، جس میں موبائل آلات، آپٹیکل فائبر، جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور اگلی نسل کی 5جی/6جی تحقیق و ترقی شامل ہیں۔ مخصوص آر اینڈ ڈی مراکز، مشترکہ جانچ گاہیں (ٹیسٹنگ لیبارٹریاں) اور سرٹیفکیشن کی سہولیات عالمی معیار کے مطابق مقامی ٹیلی کام ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی تیاری اور توثیق میں معاون ثابت ہوں گی۔

یہ اقدام انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم)، الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) اور ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (ٹی ٹی ڈی ایف) جیسے اہم قومی پروگراموں کے ساتھ بھی ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ راؤٹرز، اینٹینا، آپٹیکل فائبر اور چپس جیسے اہم ٹیلی کام آلات کی مقامی تیاری کو فروغ دے کر ٹی ایم زیڈ درآمدات پر انحصار کم کرنے، برآمدات بڑھانے، ملکی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور ٹیلی کام سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005E05N.jpg

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے مواصلات اور شمال مشرقی خطہ کی ترقی، جناب جیوترادتیہ مادھوراؤ سندھیا نے کہا- ‘‘ ہندوستان  کا پہلا ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون ملک کے قلب گوالیار میں قائم کیا جائے گا، جو مدھیہ پردیش کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرے گا۔’’

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ‘آتم نربھر بھارت’، ‘میک اِن انڈیا’، ‘ڈجیٹل انڈیا’ اور ‘وکست بھارت 2047’ کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے کی جانب یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ عالمی ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کے نقشے پر  ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں مدھیہ پردیش تیزی سے ترقی اور خود کفالت کی راہ پر گامزن ہے، اور ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون اسی ترقی پسند وژن کا واضح مظہر ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0063B0T.jpg

مرکزی وزیر نے مزید کہا‘‘اب بھارت کو صرف ٹیلی کام خدمات فراہم کرنے والا ملک بننے سے آگے بڑھ کر ٹیلی کام مصنوعات تیار کرنے والا ملک بننا ہوگا، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایک مضبوط مقامی صنعتی ماحولیاتی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون اسی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔’’

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ریاست میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا-‘‘ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ سندھیا کی مسلسل کاوشوں اور دور اندیش قیادت کا نتیجہ ہے۔’’ انہوں نے گوالیار کی ترقی میں سندھیا خاندان کی تاریخی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اس ترقیاتی سفر کا ایک اور اہم باب ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے یقین ظاہر کیا کہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون نہ صرف مدھیہ پردیش بلکہ پورے ملک کے صنعتی اور تکنیکی مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا‘‘جو سہولت آج بھارت میں کہیں دستیاب نہیں، وہ اب مدھیہ پردیش میں میسر ہوگی۔’’ ان کے مطابق گوالیار الیکٹرانکس اور ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کا قومی مرکز بننے جا رہا ہے، جو بڑی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور تکنیکی اختراعات کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ مملکت برائے مواصلات و دیہی ترقیات ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے کہا‘‘محکمۂ ٹیلی مواصلات اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے لیے یہ ایک تاریخی دن ہے، کیونکہ پہلی بار خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) کی طرز پر ایسا مربوط مرکز قائم کیا جا رہا ہے جہاں تحقیق، افرادی قوت، ڈیزائن، جانچ اور مینوفیکچرنگ سمیت پوری ویلیو چین ایک ہی مقام پر موجود ہوگی۔ ہمارا مقصد ڈیزائن، پیٹنٹس، دانشورانہ املاک کے حقوق اور عالمی معیار کی مسابقتی مصنوعات تیار کرنا ہے، اور یہ مینوفیکچرنگ زون اس ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔’’

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایک سرمایہ کار گول میز اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت مرکزی وزیر برائے مواصلات و شمال مشرقی خطہ کی ترقیات کے  جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا، مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادواور مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات و دیہی ترقیات ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے کی۔

اس اجلاس میں ملک بھر سے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کمپنیوں اور صنعت سے وابستہ مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرمایہ کاری کے مواقع، صنعت کی ضروریات اور گوالیار میں قائم ہونے والے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کی صلاحیت پر تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ  ہندوستان  کے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

مختلف صنعتی رہنماؤں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ٹیلی کام صنعت اور متعلقہ شراکت داروں کے لیے تاریخی اور عالمی سطح پر بہترین پیشکش اور موقع قرار دیا۔ اجلاس کے اختتام پر صنعت کی جانب سے 3,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 14 ہزار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007R4BG.jpg

گوالیار میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کا قیام  ہندوستان میں عالمی معیار کے مسابقتی ٹیلی کام مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی، مشترکہ بنیادی ڈھانچے، پالیسی معاونت اور صنعت کی فعال شمولیت کو یکجا کرتے ہوئے توقع ہے کہ ٹی ایم زیڈ سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، برآمدات میں اضافہ کرے گا، مقامی اختراعات کی حوصلہ افزائی کرے گا اور  ہندوستان کی ٹیلی کام سپلائی چین کو مزید مضبوط بنائے گا۔

حکومت ہند کےمحکمۂ ٹیلی مواصلات اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط،ہندوستان کے عالمی سطح پر ٹیلی کام مینوفیکچرنگ اور اختراع کا مرکز بننے کے سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

 

******

ش ح-ظ الف-ص ج

UR-1003


(रिलीज़ आईडी: 2292220) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी