خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم کسان سمپدا یوجنا(پی ایم کے ایس وائی) خوراک کی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہی ہے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لا رہی ہے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے


 پی ایم کسان سمپدا یوجنا کی نمایاں خصوصیات

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 4:45PM by PIB Delhi

خوراک کوڈبہ بند کرنے کی  صنعتوں کی وزارت(ایم او ایف پی آئی) مالی سال 2017-18 سے ملک بھر میں پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی اایم کے ایس وائی) کے نام سے ایک مرکزی شعبے کی جامع اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ پی ایم کسان سمپدا یوجنا کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

(i) کھیت سے لے کر ریٹیل سطح تک خوراک کی پروسیسنگ اور تحفظ کے مربوط بنیادی ڈھانچے کی ترقی۔

(ii) ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانا۔

(iii) خوراک کی پروسیسنگ اور تحفظ کی صلاحیتوں کے قیام یا توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا۔

(iv) مربوط کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی۔

(v) غذائی تحفظ اور معیار کی یقین دہانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا۔

(vi) خوراک کی پروسیسنگ کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا۔

(vii) بہتر مارکیٹ روابط کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا۔

(viii) پروسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدی مسابقت کو فروغ دینا۔

پی ایم کسان سمپدا یوجنا کا مقصد ملک بھر میں خوراک کی پروسیسنگ کے جدید طریقہ کار اور تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے خوراک کی پروسیسنگ کے شعبے کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ اس وقت اس اسکیم کے تحت چھ جاری ذیلی اسکیمیں نافذ ہیں، جبکہ دو ذیلی اسکیمیں یکم اپریل 2021 سے بند کی جا چکی ہیں۔ پی ایم کسان سمپدا یوجنا کے تحت مختلف ذیلی اسکیموں کی پیش رفت کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران پی ایم کسان سمپدا یوجنا کے تحت مختلف ریاستوں میں منظور شدہ، مکمل شدہ اور فعال منصوبوں، ان سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری اور پیدا ہونے والے روزگار کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔

پی ایم کسان سمپدا یوجنا کی ذیلی اسکیموں کے تحت جدید خوراک کی پروسیسنگ اور تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لیے گرانٹ اِن ایڈ/سبسڈی کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانا اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنا ہے۔ خوراک کی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل سے زرعی پیداوار کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملتی ہے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔

30 جون 2026 تک پی ایم کسان سمپدا یوجنا کے تحت 1,256 پروجیکٹ فعال ہو چکے ہیں، جن سے تقریباً 37.76 لاکھ کسان مستفید ہو رہے ہیں۔ پی ایم کسان سمپدا یوجنا ایک طلب پر مبنی اسکیم ہے اور اس کے تحت کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) سمیت تمام اہل درخواست دہندگان سے اظہارِ دلچسپی(ای او آئی) طلب کیے جاتے ہیں۔ کسانوں اور پروڈیوسر تنظیموں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے، ایف پی اوز کو عام درخواست دہندگان کے مقابلے میں قرض کی ضرورت اور کم از کم نیٹ ورتھ کے حوالے سے رعایتی شرائط کے ساتھ زیادہ مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

مزید برآں، وزارت کی مرکزی طور پر معاونت یافتہ پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت ایف پی اوز مائیکرو فوڈ پروسیسنگ یونٹس کے قیام یا اپ گریڈیشن کے لیے 35 فیصد کریڈٹ لنکڈ سبسڈی (زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے تک)، مشترکہ بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لیے 35 فیصد گرانٹ (زیادہ سے زیادہ 3 کروڑ روپے تک) اور ریاستی یا علاقائی سطح پر ایف پی اوز کے گروپوں کے لیے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی مد میں 50 فیصد تک گرانٹ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔

حکومت پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے نفاذ کی باقاعدگی سے نگرانی کرتی ہے۔ 30 جون 2026 تک اس اسکیم کے تحت 1,735 پروجیکٹ منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 1,256 پروجیکٹ فعال ہیں، جن کے ذریعے سالانہ 294.21 لاکھ میٹرک ٹن خوراک کی پروسیسنگ اور تحفظ کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔ اس بنیادی ڈھانچے کی تشکیل سے ویلیو ایڈیشن میں اضافہ، خوراک کی پروسیسنگ کے نظام کو مضبوطی، سپلائی چین کی کارکردگی میں بہتری، مکمل شدہ منصوبوں کے ذریعے فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، اور خوراک کی پروسیسنگ کے شعبے نیز پروسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

پی ایم کسان سمپدا یوجنا کے تحت وزارت، دیہی صنعت کاروں سمیت اہل تنظیموں، اداروں اور کاروباری افراد کو اہل منصوبوں کے قیام یا توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ یہ ایک طلب پر مبنی اسکیم ہے، لہٰذا اس کے کسی بھی جزو کے تحت ریاست وار فنڈز مختص، منظور یا جاری نہیں کیے جاتے۔ ملک بھر، بشمول ترقی کے خواہاں اضلاع اور زرعی خطوں جیسے بندیل کھنڈ سے اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) طلب کیے جاتے ہیں۔ موصول ہونے والی تجاویز کی متعلقہ رہنما اصولوں کے مطابق جانچ کی جاتی ہے اور اہلیت کی تصدیق کے بعد، دستیاب فنڈز سے مشروط، میرٹ کی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ جدید خوراک کی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کے ذریعے پی ایم کسان سمپدا یوجنا زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیتی ہے، دیہی صنعت کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔


ضمیمہ-I

 

پی ایم کے ایس وائی کے تحت اجزاء کے لحاظ سے پیشرفت

نمبرشمار

اسکیم

منظور شدہ پروجیکٹس

مکمل شدہ/

آپریشنل پروجیکٹس

پروجیکٹ کی لاگت (کروڑ میں)

منظور شدہ گرانٹس ان ایڈ (کروڑ میں)

جاری کردہ گرانٹس ان ایڈ (کروڑ میں)

 

1

اے پی سی

73

25

2165.37

615.63

325.11

 

2

سی بی ایف ایل

60

53

686.71

165.91

150.45

 

3

سی سی

409

311

12130.40

3089.08

2540.89

 

4

سی ای ایف پی پی سی

630

388

10822.31

2462.68

1550.28

 

5

ایف ٹی ایل

203

177

1139.33

491.35

395.42

 

6

ایم ایف پی

41

25

4628.84

1945.59

1546.24

 

7

او جی

36

25

1466.74

376.81

314.66

 

8.a

ایچ ا ٓر آئی-  آر اینڈ ڈی

257

227

104.80

102.47

82.85

 

8.b

ایچ آر ا ٓئی-اسکل

26

25

18.84

9.06

9.03

 

 

کل

1735

1256

33163.34

9258.58

6914.93

 


**اے پی سی = ایگرو پروسیسنگ کلسٹرز کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تخلیق کی اسکیم

**سی بی ایف ایل = پسماندہ اور فارورڈ لنکیج کی تخلیق کے لیے اسکیم

**سی سی= مربوط کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن انفراسٹرکچر کے لیے اسکیم

**سی ای ایف پی پی سی= فوڈ پروسیسنگ اور تحفظ کی صلاحیتوں کی تخلیق/توسیع کے لیے اسکیم

**ایف ٹی  ایل = فوڈ سیفٹی اور کوالٹی ایشورنس انفراسٹرکچر کے لیے اسکیم

**ایم ایف پی = میگا فوڈ پارک

**او جی= آپریشن گرینز

**ایچ آر آئی- آر اینڈ ڈی = تحقیق اور ترقی (ہیومن ریسورس اینڈ انسٹی ٹیوشن اسکیم کا ذیلی حصہ)

**ایچ آر آئی-اسکل = انسانی وسائل اور ادارہ جاتی - مہارت کی ترقی (ہیومن ریسورس اینڈ انسٹی ٹیوشن اسکیم کا ذیلی جزو)

 

ضمیمہ II

 

گزششہ تین برسوں کے دوران پی ایم کے ایس وائی کے تحت منظور کیے گئے، مکمل کیے گئے اور آپریشنل پروجیکٹوں کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانے اور پیدا ہونے والے روزگار کی تفاصیل

نمبرشمار

ریاست

منظور شدہ پروجیکٹس

مکمل/

آپریشنل پروجیکٹس

روزگار کے مواقع پیدا ہوئے

سرمایہ کاری سے فائدے کاحصول کروڑ روپئےمیں

1

انڈمان اور نکوبار

0

0

0

0

2

آندھرا پردیش

18

1

17265

264.11

3

اروناچل پردیش

5

0

2620

31.51

4

آسام

27

17

6659

259.58

5

بہار

5

0

3711

150.38

6

چندی گڑھ

0

0

0

0

7

چھتیس گڑھ

4

0

6559

100.70

8

دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو

0

0

0

0

9

دہلی

1

0

0

0

10

گوا

1

1

37

14.08

11

گجرات

26

1

21188

446.46

12

ہریانہ

17

2

11980

290.59

13

ہماچل پردیش

6

1

1597

44.39

14

جموں و کشمیر

3

0

3947

50.57

15

جھارکھنڈ

0

0

0

0

16

کرناٹک

24

3

20650

438.59

17

کیرالہ

18

1

10702

287.68

18

لداخ

0

0

0

0

19

لکشدیپ

0

0

0

0

20

مدھیہ پردیش

6

2

2725

104.03

21

مہاراشٹر

42

7

34315

664.96

22

منی پور

1

1

29

3.07

23

میگھالیہ

1

0

37

10.14

24

میزورم

0

0

0

0

25

ناگالینڈ

0

0

0

0

26

اوڈیشہ

14

5

9475

172.77

27

پڈوچیری

0

0

0

0

28

پنجاب

12

2

8618

190.90

29

راجستھان

15

2

7750

231.28

30

سکم

0

0

0

0

31

تمل ناڈو

41

7

34417

616.92

32

تلنگانہ

28

9

13625

500.92

33

تریپورہ

0

0

0

0

34

اتر پردیش

17

3

8815

213.93

35

اتراکھنڈ

18

2

8201

133.83

36

مغربی بنگال

12

2

8850

222.28

 

کل

362

69

243772

5443.67

یہ معلومات خورا ک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں  کے وزیر مملکت جناب روونیت سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 

***

ش  ح۔ م م ع- ف ر

Uno-999


(रिलीज़ आईडी: 2292195) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil