ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: موسمیاتی نگرانی اور موسم کی پیش گوئی کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
30 JUL 2026 2:20PM by PIB Delhi
شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور شدت کے پیش نظر حکومت نے موسمیاتی نگرانی اور موسم کی پیش گوئی کے نظام کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے جدید ترین ٹیکنالوجی، بشمول ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) سہولیات، کو اختیار کیا ہے تاکہ اعلیٰ معیار کی عددی موسمی پیش گوئی (این ڈبلیو پی)، موسمیاتی ماڈلنگ، مشاہداتی نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی کے آلات کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی اور اس سے وابستہ شدید موسمی واقعات کی نگرانی اور پیش گوئی کی درستگی میں اضافہ کیا جا سکے۔اس وقت وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کے پاس موسم کی نگرانی کے لیے دستی موسمی مراکز، خودکار موسمی اسٹیشن (اے ڈبلیو ایس)، خودکار بارش پیما (اے آر جی)، زرعی خودکار موسمی اسٹیشن، ڈوپلر موسمی ریڈار (ڈی ڈبلیو آر)، بالائی فضائی مشاہداتی مراکز اور سیٹلائٹس پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جو ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسمی حالات کی نگرانی کرتا ہے۔
مشن موسم کے تحت عالمی اور علاقائی عددی موسمی پیش گوئی کے مختلف ماڈلنگ نظام نافذ اور فعال کیے گئے ہیں، تاکہ قلیل مدتی، وسط مدتی اور توسیعی مدت کی مسلسل موسمی پیش گوئیاں فراہم کی جا سکیں۔ عالمی ماڈلنگ کے لیے دو الگ نظام استعمال کیے جا رہے ہیں: بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کاگلوبل فورکاسٹ سسٹم (جی ایف ایس) اور نوئیڈا میں واقع نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف) نظام ۔ دونوں ماڈل حقیقی وقت میں 12 کلومیٹر افقی ریزولیوشن پر کام کرتے ہیں۔بھارت فورکاسٹنگ سسٹم (بھارت ایف ایس) ، جس کی مقامی ریزولیوشن 6 کلومیٹر ہے، پنچایتوں کے گروپ کی سطح تک موسم کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے، جس سے مقامی موسمی خصوصیات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے اورموسم کی پیش گوئی کی درستگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات نے وزارتِ پنچایتی راج کے اشتراک سے ملک کی تقریباً تمام گرام پنچایتوں کے لیے پنچایت سطح کی موسمی پیش گوئی کا آغاز کیا ہے۔ یہ پیش گوئیاں ای-گرام (https://egramswaraj.gov.in), سوراج، میری پنچایت ایپ، وزارتِ پنچایتی راج کےای-مان چتر اور بھارتی محکمہ موسمیات کے موسم گرام (https://mausamgram.imd.gov.in) جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں۔مزید برآں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل) کو موسمیاتی تبدیلی کی نشاندہی اور اس کی وجوہات کے تجزیے، موسمیاتی تخمینوں کو مقامی سطح تک لانے اور موسمیاتی تبدیلی کے نمایاں اثرات کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔حکومت مستقبل میں جدید ارضیاتی نظام کے ماڈلز اور اعداد و شمار پر مبنی طریقۂ کار، بشمول اے آئی اور ایم ایل، کی مزید ترقی کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ اس وقت تین عالمی اے آئی پر مبنی ماڈل—پانگو ویدر، فورکاسٹ نیٹ اور گراف کاسٹ—شدید موسمی حالات کی پیش گوئی کے لیے باقاعدگی سے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ موسمیات کے ماہرین کو بہتر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
وزارتِ ارضیاتی علوم کے اداروں کے سائنس دانوں نے موسمیاتی نگرانی، مشاہداتی معلومات کی پروسیسنگ، فوری موسمی پیش گوئی (ناوکاسٹنگ) اور شہری علاقوں کے لیے مقامی سطح کی موسمی پیش گوئی جیسے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی مقامی ٹیکنالوجی بھی تیار کی ہے۔
وزارتِ ارضیاتی علوم نے بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کے اشتراک سے شدید موسمی واقعات اور موسمیاتی عوامل کی بہتر نگرانی کے لیے سیٹلائٹ پر مبنی مشاہداتی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسیٹ-3ڈی آر، انسیٹ-3ڈی ایس اور اوشن سیٹ-3 جیسے سیٹلائٹس کو سمندری طوفانوں کی تشکیل کی پیش گوئی، ان کی نشاندہی، طوفان کی پیش رفت کی نگرانی، راستے کی پیش گوئی اور ساحل سے ٹکرانے کے اندازے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے مشاہدات کو زمینی مشاہداتی نظام اور جدید عددی موسمی پیش گوئی کے ماڈلز کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے، تاکہ موسم کی پیش گوئی زیادہ درست اور بروقت ہو سکے۔مزید برآں، حکومت ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ پر مبنی ریموٹ سینسنگ نظام استعمال کر رہی ہے۔ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) جدید ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے پھیلاؤ، کمیت، حرکت اور دیگر حرکیاتی تبدیلیوں کی منظم نگرانی کرتا ہے۔
یہ معلومات ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
****
ش ح۔ا ک ۔ ف ر
U-937
(रिलीज़ आईडी: 2291785)
आगंतुक पटल : 5