وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ایکوا پارک کی ترقی

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 3:06PM by PIB Delhi

(a): حکومت ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت(ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی)کامحکمۂ ماہی پروری (ڈی او ایف)پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت انٹیگریٹڈ ایکوا پارکس قائم کر رہا ہے۔ ان کا مقصد ماہی پروری اور ایکوا کلچر کی ویلیو چین میں متعدد سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر ان کی ترقی کرنا ہے، جو مخصوص موضوعات پر مقامی ضروریات کے مطابق مکمل  حل فراہم کرتے ہیں۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت، ڈی او ایف نے 713.80 کروڑ روپے کے کل تخمینے سے بارہ انٹیگریٹڈ ایکوا پارکس کے قیام کی منظوری دی ہے۔ حکومتِ آندھرا پردیش کی طرف سے انٹیگریٹڈ ایکوا پارک کے قیام کے لیے پیش کی گئی تجاویز کو 88.08 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے، جس میں سی فوڈ پروسیسنگ پارک، جھینگا، میرین فنِش، کیکڑا، سمندری گھاس اور آرائشی مچھلیوں سمیت متعدد موضوعاتی اجزاء شامل ہیں۔

(b): انٹیگریٹڈ ایکوا پارک، پی ایم ایم ایس وائی کے مرکز کے زیرِ سرپرستی اسکیم (سی ایس ایس) کے جزو کے تحت ایک غیر مستفید کنندہ پر مبنی سرگرمی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے رہنما خطوط کے مطابق، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے نافذ کی جانے والی غیر مستفید کنندہ پر مبنی سرگرمیوں کے لیے پروجیکٹ کی لاگت  سے متعلق معلومات مقررہ فنڈنگ پیٹرن کے مطابق مرکز اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے شیئر کی جاتی ہے۔ شمال مشرقی اور ہمالیائی ریاستوں کے لیے، لاگت کا اشتراک 90 فیصد مرکزی حصہ اور 10 فیصد ریاستی حصے تناسب سے کیا جاتا ہے، دیگر ریاستوں کے لیے لاگت کی شراکت کا تناسب 60 فیصد مرکزی حصہ اور 40 فیصد ریاستی حصہ ہے اور اسمبلی رکھنے یا نہ رکھنے والے دونوں قسم کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے معاملے میں، پروجیکٹ کی پوری لاگت مرکزی حکومت برداشت کرتی ہے۔

(c): حکومت ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت(ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی)کےمحکمۂ ماہی پروری (ڈی او ایف)نے پی ایم ایم ایس وائی اور محکمہ کی دیگر اسکیموں کے تحت ماہی پروری اور ایکوا کلچر کے شعبے میں پروسیسنگ کی صلاحیت، برانڈنگ اور برآمدات پر مبنی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں شامل ہیں: (i) علاقائی بنیادوں پر قدر میں اضافے اور پروسیسنگ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 34 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 34 پروڈکشن اینڈ پروسیسنگ کلسٹرز کا نوٹیفکیشن (ii) لینڈنگ، ہینڈلنگ اور پرائمری پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 11 نئے فشنگ ہاربرز کی تعمیر اور 11 موجودہ فشنگ ہاربرز کی جدید کاری/اپ گریڈیشن کی منظوری (iii) مچھلیوں کے حفظانِ صحت کے مطابق ہینڈلنگ اور فصل کٹائی کے بعد کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے 23 جدید فش لینڈنگ سینٹرز کی منظوری (iv) پائیدار سمندری ماہی پروری کی مدد اور پروسیسنگ کے لیے خام مال کی دستیابی کو بڑھانے کی خاطر 284 گہرے سمندر کی ماہی گیر کشتیوں کی منظوری (v) تنوع، برانڈنگ اور برآمدات پر مبنی سمندری خوراک کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے 121 ویلیو ایڈڈ انٹرپرائز یونٹس کے لیے تعاون (vi) 12 انٹیگریٹڈ ایکوا پارکس کا قیام، جن کا تصور پروسیسنگ، پیکجنگ، برانڈنگ اور برآمدی سہولیات سمیت اینڈ-ٹو-اینڈ ایکوا کلچر ویلیو چین سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت، برآمدات کے فروغ سے متعلق ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر جدید مچھلی پروسیسنگ پلانٹس، کولڈ چین کی سہولیات اور ویلیو ایڈیشن یونٹس کی تخلیق و توسیع کے لیے نجی کمپنیوں اور صنعت کاروں کے لیے 18 پروجیکٹس کی منظوری دی گئی ہے۔

(d): حکومت ماہی پروری کے شعبے میں مہارت کے فروغ کو اعلیٰ ترجیح دیتی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت، ماہی گیروں، ماہی پروروں اور صنعت کے کارکنوں کی صلاحیتوں میں اضافےکے لیے مخصوص سب-کمپونینٹس قائم کیے گئے ہیں۔ محکمہ نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کو نوڈل ایجنسی کے طور پر رکھ کر ملک بھر میں تربیت اور صلاحیت سازی کے پروگرام نافذ کر رہا ہے۔ این ایف ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق اس نے پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 4041 تربیتی پروگرام منعقد کیے ہیں، جن سے ملک بھر کے 1,75,261 ماہی گیروں کو فائدہ پہنچا ہے۔

یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للَن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک پوچھے گئے سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

******

ش ح۔ ک ح –ت ع

U.NO.942


(रिलीज़ आईडी: 2291754) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English