دیہی ترقیات کی وزارت
نقشہ کو سمجھنا: مارگاؤ کا نیا شہری نقشہ سازی پائلٹ پروگرام جائیداد مالکان کا تحفظ کرتا ہے
प्रविष्टि तिथि:
30 JUL 2026 2:23PM by PIB Delhi
محکمہ سیٹلمنٹ اور لینڈ ریکارڈز (ڈی ایس ایل آر) کی جانب سے مارگاؤ، کنکولم اور پنجی شہر میں نقشہ پائلٹ پروگرام کے تحت ایک ماہ تک جاری رہنے والی جانچ شروع کرنے کی تیاری کے دوران، مقامی سطح پر تجسس کے ساتھ ساتھ کچھ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان خدشات کی بڑی وجہ زمین کے مالکانہ حقوق کے تحفظ، ممکنہ حدود میں تبدیلی اور غیر مقیم گوا باشندوں کے حقوق سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں ہیں۔ شہریوں کو اس تبدیلی کے مرحلے سے اعتماد کے ساتھ گزرنے میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے کہ بے بنیاد خدشات اور قابلِ تصدیق حقائق میں فرق کیا جائے۔
نقشہ (نیشنل جیو اسپیشل نالج بیسڈ لینڈ سروے آف اربن ہیبی ٹیشنز) ایک جدید جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی شہری زمین کے پلاٹوں کی نقشہ سازی کا منصوبہ ہے۔ اسے حکومتِ ہند کے محکمہ اراضی وسائل (ڈی او ایل آر) نے شروع کیا ہے اور یہ ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام (ڈی آئی ایل آر ایم پی) کے وسیع فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے۔ روایتی دیہی سروے کے برعکس، نقشہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پیچیدہ شہری اور نیم شہری علاقوں کے انتہائی درست ڈیجیٹل نقشے تیار کرتا ہے، تاکہ ہمارے شہر مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار ہو سکیں۔
مقامی جائیداد مالکان کے درمیان سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ آیا یہ نیا ڈیجیٹل سروے موجودہ زمین کے ریکارڈ یا مالکانہ دستاویزات میں کوئی تبدیلی کرے گا۔ ریاستی انتظامیہ نے اس معاملے پر واضح طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
اسی طرح، بیرونِ ریاست یا بیرونِ ملک مقیم زمین مالکان اور غیر مقیم گوا باشندوں سے متعلق خدشات بھی بے بنیاد ہیں۔ سروے کے دوران کسی شخص کا گاؤں میں موجود نہ ہونا یا بیرونِ ملک رہائش پذیر ہونا اس کی جائیداد کے لیے خطرہ نہیں بنتا اور نہ ہی اس سے اس کے قانونی حقوق ختم ہوتے ہیں۔ نقشہ کے طریقۂ کار میں کئی مراحل پر مشتمل ایک منظم تصدیقی عمل شامل ہے، جس میں عوامی جانچ کے لیے باقاعدہ طور پر مقرر کردہ مواقع بھی شامل ہیں، تاکہ غیر حاضر مالکان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ مزید یہ کہ صرف اس وجہ سے کہ کوئی پڑوسی سروے کے وقت موقع پر موجود تھا، وہ قانونی طور پر اس جائیداد کا مالک ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جائیداد کی ملکیت کا تعین ہمیشہ قانونی طریقۂ کار اور درست مالکانہ دستاویزات کے مطابق ہی ہوگا۔
عوام کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نقشہ نہ تو زمین حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی ٹیکس وصولی کی کوئی مہم۔ اس منصوبے کے تحت نہ تو نجی زمین پر قبضہ کیا جائے گا اور نہ ہی مقامی جائیداد ٹیکس میں اضافے کے لیے یہ عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کا واحد مقصد قابلِ اعتماد ڈیجیٹل زمین کے نقشے تیار کرنا ہے، جو بہتر شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کے انتظام اور عوامی سہولیات کے مؤثر نظام میں مددگار ثابت ہوں گے۔ موجودہ قانونی یا مالکانہ تنازعات بھی اس سے متاثر نہیں ہوں گے اور وہ متعلقہ قانونی و انتظامی طریقۂ کار کے مطابق ہی حل کیے جاتے رہیں گے۔
زمینی حقائق کی تصدیق کے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد، جس میں الیکٹرانک نقشہ سازی کے اعداد و شمار کو حقیقی زمینی صورتحال سے ملایا گیا، باضابطہ جانچ کا عمل 16 جولائی 2026 سے 14 اگست 2026 تک جاری رہے گا۔ جائیداد مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی جائیداد کے مالکانہ دستاویزات کے ساتھ انسپکٹر آف سروے اینڈ لینڈ ریکارڈز (آئی ایس ایل آر) کے دفتر، اوسیا کمرشل آرکیڈ، ایس جی پی ڈی اے مارکیٹ، مارگاؤ میں متعلقہ انسپکٹر کے سامنے پیش ہوں۔شہریوں کو اس عمل میں حصہ لینے کے لیے سروے کی تکنیکی مہارت رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ مقرر کردہ افسران تصدیقی عمل کے ہر مرحلے میں ان کی رہنمائی کریں گے۔ اس جدید کاری کے عمل کو اپنانے سے آپ کی حقیقی جائیداد اور ڈیجیٹل ریکارڈ میں مطابقت پیدا ہوگی، جس سے مستقبل میں پوری برادری کے لیے شفافیت، وضاحت اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
***
ش ح۔ا ک ۔ ف ر
U-930
(रिलीज़ आईडी: 2291728)
आगंतुक पटल : 10