قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قبائلی برادریوں کو حاصل سہولیات اور مراعات

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 1:45PM by PIB Delhi

لوک سبھا میں آج پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیرمملکت برائے قبائلی امور جناب درگاداس اوئیکے نے بتایا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی آبادی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

نمبر شمار

مرکز کے زیر انتظام علاقے

درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی آبادی (تعداد)

1

جموں و کشمیر

12,75,106

2

لداخ

2,18,193

3

انڈمان اور نکوبار جزائر

28,530

4

چندی گڑھ

این ایس ٹی

5

دادرہ اور نگر حویلی اور دمن دیو

1,93,927

6

لکشدیپ

61,120

7

پدوچیری

این ایس ٹی

8

دہلی

این ایس ٹی

 

نوٹ: ’این ایس ٹی سے مراد کوئی نوٹیفائڈ درج فہرست قبائل نہیں ہے۔

 

درج فہرست قبائل کی آبادی کے مردم شماری پر مبنی تازہ ترین اعداد و شمار آئندہ مردم شماری کے جاری ہونےکے بعد دستیاب ہوں گے۔

 

حکومت، قبائلی امور کی وزارت کی مختلف اسکیموں اور اقدامات کے ذریعے درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مسلسل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ان میں قبائلی دیہات میں بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولیات کی تکمیل کے لیے دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اُتکرش ابھیان (ڈی اے جے جی یو اے) خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی وی) کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پردھان منتری جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم جَن من) قبائلی طلبہ کو معیاری رہائشی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول ( ای ایم آر ایس) تعلیمی معاونت کے لیے پری میٹرک، پوسٹ میٹرک، اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ، نیشنل فیلوشپ اور نیشنل اوورسیز اسکالرشپ اسکیمیں؛ درج فہرست علاقوں اور قبائلی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی اہم کمیوں کو پورا کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 275(1) کے تحت گرانٹس؛ تعلیم، صحت اور روزگار سے متعلق اقدامات کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کو امدادی گرانٹس؛ پائیدار روزگار، کاروباری سرگرمیوں اور رعایتی قرضوں کے فروغ کے لیے پردھان منتری جنجاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم)، نیشنل شیڈیولڈ ٹرائبز فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( این ایس ٹی ایف ڈی سی) اور درج فہرست قبائل کے لیے وینچر کیپیٹل فنڈ (وی سی ایف-ایس ٹی) اور تحقیق، دستاویز بندی اور صلاحیت سازی کے لیے قبائلی تحقیق، معلومات، تعلیم، مواصلات اور تقریبات (ٹی آر آئی-ای سی ای) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، پینے کے پانی، رابطہ کاری اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات متعلقہ وزارتوں/محکموں کے اشتراک سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق دہلی مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں رہائش کی مدت کی بنیاد پر کسی بھی برادری کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کا درجہ دینے کی کوئی تجویز اس وزارت کے زیرِ غور نہیں ہے۔ درج فہرست قبائل کا درجہ دینے کا عمل آئین کے آرٹیکل 342 کے تحت کیا جاتا ہے، جس کے مطابق کسی برادری کو درج فہرست قبائل میں صرف صدرِ جمہوریہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے ذریعے شامل کیا جا سکتا ہے، جو متعلقہ گورنر/ایڈمنسٹریٹر سے مشاورت کے بعد جاری کیا جاتا ہے، اور بعد میں کسی برادری کو شامل کرنے یا خارج کرنے کا عمل صرف پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے آئین (درج فہرست قبائل) آرڈر، 1950 میں ترمیم کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ ایسی تجاویز کا جائزہ لوکر کمیٹی (1965) کی جانب سے تجویز کردہ معیار کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، جن میں قدیم طرزِ زندگی کی علامات، منفرد ثقافت، جغرافیائی تنہائی، عام آبادی سے میل جول میں جھجھک اور سماجی و اقتصادی پسماندگی شامل ہیں، اور اس کے لیے متعلقہ ریاستی حکومت/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کی مخصوص سفارش ضروری ہوتی ہے، جس کے بعد رجسٹرار جنرل آف انڈیا اور قومی کمیشن برائے درج فہرست قبائل کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن اس وقت درج ذیل طریقے سے فراہم کیا جاتا ہے:

(i) سیاسی ادارے: مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں/پنچایتوں/بلدیاتی اداروں میں درج فہرست قبائل کے لیے نشستوں کا ریزرویشن ان کی آبادی کے تناسب سے یونین ٹیریٹریز گورنمنٹ ایکٹ، 1963، حد بندی ایکٹ، 2002 اور دیگر متعلقہ مقامی قوانین کے تحت ان مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں فراہم کیا جاتا ہے جہاں درج فہرست قبائل کی آبادی کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے، یعنی لکشدیپ، انڈمان و نکوبار جزائر، اور دادرا و نگر حویلی و دمن و دیو، چنڈی گڑھ، دہلی اور پدوچیری میں ایسا کوئی ریزرویشن نافذ نہیں ہے، کیونکہ وہاں کسی درج فہرست قبائل کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا ہے۔

(ii) انتظامی خدمات: مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت سول عہدوں اور خدمات میں براہِ راست بھرتی کے لیے ریزرویشن، حکومتِ ہند کے محکمہ عملہ و تربیت ( ڈی او پی ٹی) کی ریزرویشن پالیسی کے مطابق ہوتا ہے، جس کے تحت ملک گیر سطح پر درج فہرست قبائل کے لیے 7.5 فیصد ریزرویشن مقرر ہے۔ ایسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں جہاں درج فہرست قبائل کی آبادی زیادہ یا نمایاں ہے (جیسے لکشدیپ اور دادرا و نگر حویلی) وہاں مقامی/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے کیڈر میں بھرتی کے لیے زیادہ فیصد ریزرویشن فراہم کیا جاتا ہے، جو مقامی درج فہرست قبائل کی آبادی کے تناسب سے ہوتا ہے، جیسا کہ متعلقہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرتی ہے۔

*****

ش ح۔ ع و۔ ص ج

U.No. 929


(रिलीज़ आईडी: 2291698) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil