خلا ء کا محکمہ
پارلیمانی سوال: خلائی شعبہ میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JUL 2026 4:04PM by PIB Delhi
اثر کا جائزہ (امپیکٹ اسسمنٹ)ان-اسپیس کی جانب سے انجام دیا گیا ہے۔ اس جائزے پر مبنی ابتدائی نوٹ ضمیمہ-1 کے طور پر منسلک ہے۔
سال 2026 کے دوران مجموعی طور پر187 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری رپورٹ کی گئی۔ اب تک ان-اسپیس نےغیر سرکاری اداروں(این جی ای ایس ) کو مختلف خلائی سرگرمیوں کے لیے108 منظوری نامے جاری کیے ہیں، جن میں سیٹلائٹ/پے لوڈ کے قیام اور آپریشن، خلائی نقل و حمل کے نظام(ایس ٹی ایس) کا آغاز اور دیگر متعلقہ سرگرمیاں شامل ہیں۔
ان-اسپیس کی جانب سے جاری کردہ ‘‘بھارتی خلائی پالیسی-2023 کے نفاذ کے لیے خلائی سرگرمیوں کی منظوری سے متعلق اصول، رہنما ہدایات اور طریق کار(این جی پی)’’ کے مطابق، نجی اداروں کو خلائی سرگرمیوں کی اجازت دیتے وقت منظوری کی درخواستوں کا جائزہ اس انداز سے لیا جاتا ہے کہ ملک کے تزویراتی، سلامتی اور قومی مفادات سمیت دیگر اہم پہلوؤں کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ،ان-اسپیس تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ساتھ ‘‘بھارتی اداروں کی جانب سے انجام دی جانے والی خلائی سرگرمیوں کے لیے حفاظتی اور سلامتی سے متعلق رہنما ہدایات’’ بھی تیار کر رہا ہے۔
حکومت ہند نے خلائی شعبے کےاسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے متعدد اقدامات اور اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔ نجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل پالیسیاں اور اقدامات نافذ کیے گئے ہیں:
- بھارتی خلائی پالیسی - 2023 نافذ کی گئی ہے، جس میں تمام متعلقہ فریقوں کے کردار اور ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کی گئی ہیں۔
- براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) سے متعلق آزادانہ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔
- iii. ان-اسپیس سے منظوری حاصل کرنے کے لیے اصول، رہنما ہدایات اور طریقۂ کار نافذ کیے جا چکے ہیں۔
- غیر سرکاری اداروں (این جی ایزکو اسرو کی سہولیات رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے رعایتی قیمتوں کی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔
- 1,000 کروڑ روپے کے وینچر کیپٹل (وی سی) فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
- خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی اور تجارتی استعمال کے لیے500 کروڑ روپےکے ٹیکنالوجی ایڈاپشن فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
- نئے خیالات کو مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیےان-اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم شروع کی گئی ہے۔
- نجی شعبے کواسرو کی سہولیات تک رسائی اور رہنمائی (مینٹر شپ) فراہم کی جا رہی ہے۔
- مہارتوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیےاسکل انی شی ایٹیو شروع کیا گیا ہے۔
- خلائی نظاموں کی کم لاگت پر جانچ اور سمیولیشن کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک تکنیکی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
- اسرو کی ٹیکنالوجی کی منتقلی(ٹی ٹی) کو ممکن بنایا گیا ہے۔
- پی او ای ایم پلیٹ فارم کے ذریعے خلائی موزونیت (ایس ڈبلیو) کی جانچ کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
- اسپیس ایڈاپشن اویئرنیس ورکشاپ(ایس اے اے ڈبلیو)، انڈسٹری میٹس اور دیگر تشہیری پروگراموں کے ذریعہ کاروباری مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ، اب تک 17 اسٹارٹ اپس کو مختلف خلائی سرگرمیوں کے لیے باضابطہ منظوری بھی دی جا چکی ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہند نے درج ذیل اسکیموں اور اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے:
- خلائی شعبے کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کی آزادانہ (لبرلائزڈ) پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔
- غیر سرکاری اداروں(این جی ایز) کواسرو کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے رعایتی قیمتوں کی پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
- iii. خلائی شعبے کےاسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے1,000 کروڑ روپے کے وینچر کیپٹل (وی سی) فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
- مقامی خلائی ٹیکنالوجیز کی ترقی، عملی مظاہرے اور تجارتی استعمال کو تیز کرنے کے لیے500 کروڑ روپے کاٹیکنالوجی ایڈاپشن فنڈ (ٹی اے ایف) شروع کیا گیا ہے۔
- نجی شعبے کی ترقی کے لیےاسرو کے بنیادی ڈھانچے، تکنیکی مہارت اور رہنمائی(مینٹرشپ) تک رسائی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
- خلائی شعبے کی بدلتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مہارتوں کی ترقی(ایس ڈی) کے مختلف اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔
- خلائی نظاموں کی کم لاگت پر جانچ ، توثیق اور سمیولیشن کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک تکنیکی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
- اسرو کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو تجارتی استعمال کے لیے صنعتوں کو منتقل کرنے کا نظام فعال بنایا گیا ہے۔
vii پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول(پی او ای ایم) پلیٹ فارم کے ذریعہ خلائی ٹیکنالوجیز کی جانچ اور توثیق کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
vii مقامی سیٹلائٹ پلیٹ فارم کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور سیٹلائٹ کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے‘‘سیٹلائٹ بس بطور سروس’’ اقدام کا آغاز کیا گیا ہے۔
viii ریاستی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ مخصوص خلائی مینوفیکچرنگ کلسٹرز قائم کریں، تاکہ ملکی سپلائی چین کو مضبوط بنایا جا سکے، سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور ایک مربوط خلائی صنعتی ماحولیاتی نظام(آئی ایس آئی ای ) تشکیل دیا جا سکے۔
حکومت نے خلائی شعبے کو آزاد بنانے کے ذریعے فعال اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں عالمی خلائی معیشت میں بھارت کے حصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں کیے گئے مختلف اقدامات درج ذیل ہیں:
پالیسی اور ضابطہ جاتی اصلاحات:
-
- ہندوستانی خلائی پالیسی-2023 کا نفاذ۔
- آزادانہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پالیسی اور معاون ضوابط و رہنما ہدایات کی تیاری۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی:
- غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو رسائی فراہم کرنے کے لیے اسرو کی سہولیات میں توسیع۔
- مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی سہولت کے ساتھ ان-اسپیس تکنیکی مرکز اورخلائی مینوفیکچرنگ کلسٹرز کا قیام۔
مہارتوں کی ترقی:
-
- صنعت کی ضروریات پر مبنی خلائی شعبے کے کورسز، طلبہ کے لیے عملی تربیتی پروگرام اور صلاحیت سازی کے اقدامات۔
- خلائی شعبے کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے والے 14 قلیل مدتی مہارت ترقیاتی کورسز تیار اور متعارف کرائے گئے ہیں۔
سرمایہ تک رسائی:
-
- 1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپٹل (وی سی) فنڈ۔
- ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال(کمرشلائزیشن ) کے لیے500 کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی ایڈاپشن فنڈ۔
- اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈنگ اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی معاونت کو فروغ دینا۔
ٹیکنالوجی اور صلاحیت کی ترقی:
-
- اسرو کی ٹیکنالوجی کی منتقلی جن میں ایس ایس ایل وی بھی شامل ہے۔
- مقامی تحقیق و ترقی اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی۔
طلب پیدا کرنا:
-
- ارتھ آبزرویشن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(ای او- پی پی پی) اور پروف آف کانسیپٹ(پی او سی) پروگرام۔
- حکومتی شعبوں میں خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا۔
بین الاقوامی تعاون اور عالمی منڈی تک رسائی:
-
- دو طرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے سرکردہ خلائی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانا۔
- بین الاقوامی خلائی تقریبات، کاروباری فورمز اوربی2بی روابط میں شرکت کی معاونت کے ذریعے عالمی منڈی تک رسائی کو آسان بنانا۔
- ابھرتی ہوئی خلائی منڈیوں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا تاکہ برآمدات، ٹیکنالوجی شراکت داری اور عالمی سپلائی چین کے انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ معلومات وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
نتائج
ایک ترقی پذیر نجی خلائی معیشت
جون 2020 میں کی جانے والی اصلاحات کے ذریعے خلائی شعبہ نجی اداروں کے لیے کھولے جانے کے چھ سال بعد اس کے نتائج واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ فعال خلائی اسٹارٹ اپس کی تعداد 2014 میں صرف ایک سے بڑھ کر آج 400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ نجی سرمایہ کاری600 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور بھارت کے نجی خلائی شعبے نے حقیقی لانچ اور مداری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
دو کمپنیوں نے ذیلی مداری لانچ وہیکلز کامیابی سے خلا میں بھیجے ہیں (نومبر 2022 اور مئی 2024 میں)، غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) نے 30 سے زیادہ سیٹلائٹس مدار میں پہنچائے ہیں، جبکہ پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول (پی او ای ایم) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے تقریباً 45 پے لوڈز خلا میں بھیجے جا چکے ہیں۔
خلائی معیشت: سرمایہ کاری میں اضافہ، وسیع سرمایہ کار بنیاد اور ایف ڈی آئی
نجی سرمایہ ایک ہی وقت میں بڑھا بھی ہے اور اس کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ مجموعی فنڈنگ:
- سال 2021-22 میں100.5 ملین امریکی ڈالرسے تجاوز کر گئی،
- 2023-24 میں348.5 ملین امریکی ڈالرتک پہنچ گئی، اور
- 31 مارچ 2026 تک 618.5 ملین امریکی ڈالر ہو گئی،
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کا رجحان ابتدائی مرحلے کی سیڈ فنڈنگ سے بڑھ کر ترقی کے مرحلے(جی ایس) کی سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔بھارت کے خلائی ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانے والے سرمایہ کاروں کی بنیاد اب ابتدائی سرمایہ کاروں سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہے۔ اب خودمختار دولت فنڈز(ایس ڈبلیو ایف)، عالمی اثاثہ جاتی منتظمین(جی اے ایم) اور اسٹریٹجک کارپوریٹس بھی سرمایہ کاری کے ڈھانچہ میں شامل ہو چکے ہیں۔
اس ترقی پذیر منظرنامے نے اسکائی روٹ ایرو اسپیس(ایس اے) کو شعبے کا پہلا یونیکارن بنانے میں مدد دی، جسے جی آئی سی اور بلیک راک کی حمایت حاصل ہے۔ اسی طرح **دگنتارا نے 50 ملین امریکی ڈالرکی سرمایہ کاری حاصل کی، جس میں جاپان کی ایس بی آئی انویسٹمنٹ بھی شامل تھی، جبکہ پکسل کو عالمی ٹیکنالوجی کمپنی الفا بیٹ کی حمایت حاصل ہوئی۔
سال 2026 میں بھی یہ رفتار برقرار رہی، جس کی مثالیں درج ذیل ہیں:
-
- اگنیکُل کاسموس نے2.7 ملین امریکی ڈالرکی ایکویٹی سرمایہ کاری حاصل کی، اس کے علاوہ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے تاریخی25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
- گلیکسی آئی نے سال کے ابتدائی متعدد راؤنڈز میں 11 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا۔
- دھرو اسپیس (ڈی ایس) نے مئی میں105 کروڑ روپے (12.5 ملین امریکی ڈالر) حاصل کیے تاکہ اپنی سیٹلائٹ کانسٹیلیشن کی صلاحیتوں کو تیزی سے وسعت دے سکے۔
اگرچہ یہ نمایاں کامیابیاں تجارتی امکانات اور مارکیٹ اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن یہ بھارت کے وسیع، متحرک اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قومی خلائی ماحولیاتی نظام کی صرف ایک جھلک ہیں۔
نجی مشنز کا ایک سال: اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تعاون اور اعتماد
گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی کمپنیوں نے اپنی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہے، اور اکثر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
جنوری 2025 میں پکسل، دگنتارا اورایکس ڈی لنکس اسپیس لیبز نے مشترکہ طور پر مدار حاصل کیا۔ اسی سال اگست میں پکسل نےفالکن 9 کے ذریعے مزید تین سیٹلائٹس خلا میں بھیجے اور اپنی چھ سیٹلائٹ پر مشتمل فائر فلائی کانسٹیلیشن کے پہلے مرحلے کو مکمل کیا، جو اس وقت فعال تجارتی ہائپراسپیكٹرل نظاموں میں سب سے زیادہ ریزولوشن رکھنے والا نظام ہے۔
دھرو اسپیس نے اپنے تھائی بولٹ-3 اور لیپ-1 مشنز خلا میں بھیجے اور ایم او آئی- 1 اور لچھت جیسے مشترکہ مشنز میں تعاون کیا۔
بیلاٹرکس ،گلیکسی آئی ، گراہا اسپیس ، ایچ ای ایکس-20، ٹیک می 2اسپیس، آربٹ ایڈاور دیگر کئی کمپنیوں نے بھی نجی شعبے کی مداری صلاحیتوں کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔
لانچ وہیکل اور پروپلشن کے شعبے میں:
اگنیکُل نے اپنا ڈی3پرنٹ شدہ سیمی کریوجینک انجن کامیابی سے آزمایا۔
اسکائی روٹ نے وکرم راکٹ کے لیے سالڈ موٹر کی جانچ اسرو (ISRO) کی سہولت میں کی۔
پی او ای ایم: خلائی ٹیکنالوجی کی توثیق میں انقلاب
پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول (پی او ای ایم) نے خلائی قابلیت کی جانچ کے عمل میں انقلاب برپا کیا ہے۔ اس نے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کو مدار میں ٹیکنالوجی کی توثیق کے لیے ایک آسان، کم لاگت اور قابلِ رسائی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
چوتھے پی او ای ایم ماڈیول نے گلیکسی آئی، بیلا ٹرکس ، ٹیک می 2 اسپیس ،پیئر سائٹ اسپیس، این اسپیس ٹیک، منستو اسپیس کے پے لوڈز کے ساتھ ساتھ اسرو اور تعلیمی اداروں کے تجربات بھی خلا میں پہنچائے۔
تجارتی رسائی میں توسیع
خلائی شعبے کی تجارتی رسائی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دگنتاراامریکہ اور یورپ میں اپنے دفاتر قائم کر رہی ہے اور سنگاپور و برطانیہ کی ایجنسیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، جبکہ پکسل کئی براعظموں کے صارفین کو ہائپراسپیكٹرل ڈیٹا فراہم کر رہی ہے۔
ان-اسپیس کے 45 سے زیادہ ممالک کے ساتھ عملی تعلقات قائم ہیں اور اس نے غیر ملکی خلائی ایجنسیوں کے ساتھ تین تعاون معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
بھارت میں ارتھ آبزرویشن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ( ای او- پی پی پی) کے تحت پکسل۔ اسپیس، دھرو، سٹ شیوراور پیئر سائٹ نے مل کر الائیڈ آربٹ تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد بھارت کی پہلی نجی ملکیت والی زمین کے مشاہدے (ای او) کی کانسٹیلیشن تیار کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پانچ سال کے دوران 12 ملٹی موڈل سیٹلائٹس تیار کیے جائیں گے، جو اعلیٰ معیار کا خودمختار ڈیٹا فراہم کریں گے۔ اس منصوبے کے لیے نجی شعبے کی جانب سے تقریباً 1,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا عزم کیا گیا ہے۔
*****
ش ح- ظ الف- ن م
UR-919
(ریلیز آئی ڈی: 2291599)
وزیٹر کاؤنٹر : 4