ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبیلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئی (پی ایم-سیتو)
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:18PM by PIB Delhi
پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز (پی ایم-ایس ای ٹی یو)اسکیم کا مقصد ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے مجموعی معیار اور اس کی افادیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے تحت جدید لیبارٹریاں، جدید مشینیں اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب فراہم کرکے صنعتی تربیتی اداروںکو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
اس اسکیم کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) اور قومی مہارتی تربیتی اداروں (این ایس ٹی آئی) میں تربیت کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانا؛
- بنیادی ڈھانچے اور آلات کو صنعت کے معیارات کے مطابق جدید بنانا؛
- صنعت سے ہم آہنگ طویل مدتی اور قلیل مدتی کورسز، خصوصاً نئے اورترقی پذیر شعبوں میں متعارف کرانا؛
- مانگ پر مبنی مہارتی تربیت اور بہتر روزگار کے نتائج کے لیے صنعت کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا؛ اور
- تربیت کاروں کی تربیت کے لیے این ایس ٹی آئی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا۔
اس اسکیم کے دو اجزاء ہیں:
(i) جز اوّل۔ ہب اور اسپوک ماڈل کے تحت ایک ہزار سرکاری آئی ٹی آئی کو جدید بنایا جائے گا، جن میں 200 ہب آئی ٹی آئی اور 800 اسپوک آئی ٹی آئی شامل ہیں۔ اس جدیدکاری کے تحت اسمارٹ کلاس رومز، جدید تجربہ گاہیں، ڈیجیٹل تعلیمی مواد اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے۔
(ii) جز دوم۔ بھونیشور، چنئی، حیدرآباد، کانپور اور لدھیانہ میں واقع پانچ این ایس ٹی آئی کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے تحت مختلف شعبوں کے لیے قومی مراکزِ امتیاز قائم کیے جائیں گے تاکہ عالمی شراکت داری کے ساتھ تربیت کاروں کی اعلیٰ سطح کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔
پی ایم-سیتو اسکیم کے تحت صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) کے انتخاب کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِانتظام علاقوں (یو ٹی) کی حکومتوں پر عائد ہے، جو صنعتوں سے مشاورت کے بعد یہ عمل انجام دیتی ہیں، تاکہ ابھرتی ہوئی مہارتی ضروریات اور مقامی صنعتی صلاحیت سے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی کے مطابق، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے منتخب آئی ٹی آئی کلسٹروں کی جدیدکاری کے لیے تجاویز پیش کرنا ہوتی ہیں۔ اب تک 34 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں نے اپنے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ریاستی اسٹیئرنگ کمیٹی (ایس ایس سی) تشکیل دے دی ہے، جو ریاست یا مرکز کے زیرانتظام علاقے کی سطح پر اسکیم کی رہنمائی اور اس کے مؤثر نفاذ کی نگرانی کرنے والا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔
تئیس ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں نے صنعتوں سے دلچسپی کی درخواستیں طلب کرنے کے لیے اپنی تجاویز جاری کر دی ہیں۔ اب تک ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے شناخت کیے گئے ہب اور اسپوک آئی ٹی آئی کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی (این ایس سی) نے اینکر انڈسٹری پارٹنرز (اے آئی پی) کی جانب سے پیش کیے گئے چھ (6) اسٹریٹجک سرمایہ کاری منصوبوں (ایس آئی پی)کی منظوری دے دی ہے، جن میں تین تلنگانہ، ایک آندھرا پردیش، ایک اڈیشہ اور ایک گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔ منظور شدہ کلسٹروں اور متعلقہ اینکر انڈسٹری پارٹنرزکے ناموں کی تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔
اس اسکیم کے تحت صنعت کی قیادت میں قائم اسپیشل پرپز وہیکلز (ایس پی وی) صنعتی تربیتی اداروں کی جدیدکاری کی قیادت کریں گے۔ انہیں مقامی صنعت کی ضروریات اور اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق نصاب کی ازسرنو تشکیل، تربیت کی فراہمی کے طریقۂ کار، بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری، صنعت میں عملی تجربے کے مواقع، ملازمت کی فراہمی اور خود روزگاری کے فروغ سے متعلق ضروری اقدامات تجویز کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ مزید برآں، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت 32 نئے دور کے کورسز متعارف کرائے ہیں۔ ان کورسز کی تفصیلات ضمیمہ-III میں دی گئی ہیں۔
اس اسکیم پر عمل درآمد کی نگرانی قومی اسٹیئرنگ کمیٹی (این ایس سی) کر رہی ہے، جس میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور صنعتی شراکت داروں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ کمیٹی مجموعی پالیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیرانتظام علاقے (یو ٹی) کے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں قائم ریاستی اسٹیئرنگ کمیٹیاں (ایس ایس سی) ریاستی سطح پر اسکیم کی پیش رفت کی نگرانی کرتی ہیں۔ اسکیم میں مؤثر عمل درآمد اور مطلوبہ نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی، کارکردگی کا جائزہ اور تیسرے فریق کے ذریعے اثرات کا جائزہ لینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
پی ایم-سیتو کے تحت صنعت کی مؤثر شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) نے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری اور سیکریٹری، ایم ایس ڈی ای کی صدارت میں آئزول، بھوپال، چندی گڑھ، چنئی، حیدرآباد، کانپور، ممبئی، پونے اور دیگر شہروں میں متعدد ورکشاپس اور علاقائی مشاورتی اجلاس منعقد کیے۔ ان میں ممکنہ اینکر انڈسٹری پارٹنرز (اے آئی پی)، صنعتی انجمنوں اور نمایاں صنعتوں کے ساتھ انفرادی سطح پر بھی مشاورت کی گئی۔ اس کے علاوہ، ملک بھر میں صنعتوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو صنعت سے متعلق بیداری کی سرگرمیوں، بشمول رابطہ پروگراموں، ورکشاپس اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاسوں کے انعقاد کے لیے 5.60 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
ضمیمہ-I
شناخت کیے گئے ہب اور اسپوک آئی ٹی آئی کی فہرست درج ذیل ہے:
|
نمبرشمار
|
ریاستیں / مرکز کے زیرِ نتظام علاقے
|
آئی ٹی آئی کی تعداد
|
ہب
|
اسپوک
|
-
|
انڈمان اور نکوبار
|
3
|
1
|
2
|
-
|
آندھرا پردیش
|
74
|
16
|
58
|
-
|
اروناچل پردیش
|
5
|
1
|
4
|
-
|
آسام
|
34
|
6
|
28
|
-
|
بہار
|
75
|
15
|
60
|
-
|
چندی گڑھ
|
2
|
1
|
1
|
-
|
چھتیس گڑھ
|
30
|
6
|
24
|
-
|
دمن اور دیو اور دادرہ اور نگر حویلی
|
4
|
1
|
3
|
-
|
دہلی
|
5
|
1
|
4
|
-
|
گوا
|
5
|
1
|
4
|
-
|
گجرات
|
60
|
12
|
48
|
-
|
ہریانہ
|
27
|
5
|
22
|
-
|
ہماچل پردیش
|
5
|
1
|
4
|
-
|
جموں و کشمیر
|
10
|
2
|
8
|
-
|
جھارکھنڈ
|
35
|
7
|
28
|
-
|
کرناٹک
|
10
|
2
|
8
|
-
|
کیرالہ
|
29
|
4
|
25
|
-
|
لداخ
|
2
|
1
|
1
|
-
|
لکشدیپ
|
1
|
1
|
0
|
-
|
مدھیہ پردیش
|
101
|
20
|
81
|
-
|
مہاراشٹر
|
15
|
3
|
12
|
-
|
منی پور
|
5
|
1
|
4
|
-
|
میگھالیہ
|
10
|
2
|
8
|
-
|
میزورم
|
5
|
1
|
4
|
-
|
ناگالینڈ
|
5
|
1
|
4
|
-
|
اڈیشہ
|
10
|
2
|
8
|
-
|
پڈوچیری
|
7
|
1
|
6
|
-
|
پنجاب
|
5
|
1
|
4
|
-
|
راجستھان
|
40
|
8
|
32
|
-
|
سکم
|
4
|
1
|
3
|
-
|
تمل ناڈو
|
30
|
6
|
24
|
-
|
تلنگانہ
|
65
|
13
|
52
|
-
|
تریپورہ
|
10
|
2
|
8
|
-
|
اتر پردیش
|
38
|
8
|
30
|
-
|
اتراکھنڈ
|
5
|
1
|
4
|
-
|
مغربی بنگال
|
51
|
11
|
40
|
|
|
کل تعداد
|
822
|
166
|
656
|
ضمیمہ-II
قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ کلسٹروں کی تفصیلات
|
S. No.
|
State Name
|
Cluster Name
|
Hub ITI
|
Spoke ITIs
|
|
1
|
Andhra Pradesh
|
Visakhapatnam Cluster
|
Govt. ITI,
Kancharapalem
|
Govt ITI(Women),
Vishakhapatanam
Govt ITI ,Bobbili,
Govt. ITI,Narsipatanam
|
|
2
|
Odisha
|
Keonihar-Barbil Cluster
|
Govt. ITI,Barbil
|
Govt. ITI Anandapur, Govt. ITI Koira,
Govt. ITI Karanjia,
Govt. ITI Barkote
|
|
3
|
Gujarat
|
Surat Cluster
|
Govt. ITI, Surat
|
Govt. ITI ,Surat (Women),
Govt. ITI ,Hajira,
Govt. ITI ,Bardoli,
Govt. ITI (Women), Sachin
|
|
4
|
Telangana
|
Old City Cluster
|
Govt. ITI,
Old City
|
Govt. ITI Warangal, Govt. ITI(Boys), Nalgonda
Govt. ITI Vikarabad, Govt. ITI Panjaguda
|
|
5
|
Telangana
|
Patancheru Cluster
|
Govt. ITI, Patancheru
|
Govt. ITI Nalgonda (New),
Govt. ITI Marpally, Govt. ITI Bhongir,
Govt. ITI Shadnagar
|
|
6
|
Telangana
|
Sangareddy Cluster
|
Govt. ITI,
Sangareddy
|
Govt. ITI Hathnoora, Govt. ITI Medak,
Govt. ITI Yellareddy, Govt. ITI Dubbaka
|
ضمیمہ III
آئی ٹی آئی میں چل رہے 32 نئے دور کی تجارتوں کی فہرست:
|
S. No.
|
Trade Name
|
|
1
|
Additive Manufacturing (3D Printing) Technician
|
|
2
|
Aeronautical Structure and Equipment Fitter
|
|
3
|
Artificial Intelligence Programming Assistant
|
|
4
|
Advanced CNC Machining Technician
|
|
5
|
Computer Aided Manufacturing (CAM) Programmer
|
|
6
|
Cyber Security Assistant
|
|
7
|
Data Annotation Assistant
|
|
8
|
Drone Pilot (Junior)
|
|
9
|
Drone Technician
|
|
10
|
Engineering Design Technician (Artisan Using Advanced Tool)
|
|
11
|
Fiber to Home Technician
|
|
12
|
Geo Informatics Assistant
|
|
13
|
Green Hydrogen Production Technician
|
|
14
|
Industrial Internet of Things (IIoT) Technician
|
|
15
|
Industrial Robotics and Digital Manufacturing
|
|
16
|
Information Technology
|
|
17
|
Internet of Things Technician (Smart Agriculture)
|
|
18
|
Internet of Things Technician (Smart City)
|
|
19
|
Internet of Things Technician (Smart Healthcare)
|
|
20
|
Manufacturing Process Control & Automation
|
|
21
|
Mechanic Electric Vehicle
|
|
22
|
Multimedia, Animation & Special Effects
|
|
23
|
Semiconductor Technician
|
|
24
|
Small Hydro Power Plant Technician
|
|
25
|
Smartphone Technician Cum App Tester
|
|
26
|
Software Testing Assistant
|
|
27
|
Solar Technician (Electrical)
|
|
28
|
Technician Mechatronics
|
|
29
|
Virtual Analysis and Designer – FEM (Finite Element Method) (Basic Designer and Virtual Verifier)
|
|
30
|
Wind Plant Technician
|
|
31
|
5G Network Technician
|
|
32
|
Nuclear Power Plant Technician
|
یہ معلومات ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
********
ش ح۔ ۔رض
U-913
(रिलीज़ आईडी: 2291586)
आगंतुक पटल : 7