وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

نِپُن بھارت مشن اور بنیادی خواندگی و حسابی مہارت

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 7:21PM by PIB Delhi

اسکولی تعلیم و خواندگی کا محکمہ، وزارتِ تعلیم نے 5 جولائی 2021 کو "نیشنل انیشیٹو فار پروفیشنسی اِن ریڈنگ وِد انڈرسٹینڈنگ اینڈ نیومریسی (نِپُن بھارت مشن)" کا آغاز کیا، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک کا ہر بچہ دوسری جماعت (گریڈ 2) کے اختتام تک لازماً بنیادی خواندگی اور حسابی مہارت (FLN) حاصل کر لے۔

یہ مشن قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق سمگر شکشا کے مرکزی امداد یافتہ مربوط اسکولی تعلیمی پروگرام کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ تمام ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے نِپُن بھارت مشن پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ پہلی بار 3 سے 6 سال عمر کے بچوں کو بھی اسکولی نظام کے بنیادی مرحلے میں شامل کیا گیا ہے، جو 5+3+3+4 تعلیمی ڈھانچے کے تحت تین سالہ بال واٹیکا اور جماعت اول و دوم پر مشتمل ہے۔ سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں بنیادی مرحلے کے طلبہ کے ریاست وار اندراج کی تفصیلات ضمیمہ اول میں دی گئی ہیں۔

سمگر شکشا کے تحت، نِپُن بھارت مشن سمیت مختلف اقدامات کے نفاذ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ان کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق تیار کردہ سالانہ ورک پلان اور بجٹ  کی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بعد ازاں ان منصوبوں کا پروجیکٹ اپروول بورڈ  ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے مشاورت کے بعد اسکیم کے پروگراماتی اور مالی ضوابط کے مطابق جائزہ لے کر منظوری یا تخمینہ منظور کرتا ہے۔

سمگر شکشا کے لیے فنڈز مجموعی طور پر جاری کیے جاتے ہیں، بشرطیکہ بعض شرائط پوری ہوں، جن میں اخراجات کی رفتار، ریاستی حصے کی بروقت وصولی، آڈٹ شدہ حسابات، مجموعی ریاستی حصے کا گوشوارہ، بقایا پیشگی رقوم کی تفصیل، تازہ ترین اخراجاتی بیان اور آڈٹ شدہ استعمالی سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔

گزشتہ تین برسوں اور موجودہ مالی سال کے دوران نِپُن بھارت مشن کے تحت (سمگر شکشا کے حصے کے طور پر) ریاست وار مختص کیے گئے فنڈز کی تفصیلات ضمیمہ دوم میں دی گئی ہیں۔

نِپُن بھارت مشن کے تحت ملک بھر میں بنیادی خواندگی اور حسابی مہارتکو یقینی بنانے اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اہم اقدامات کیے گئے ہیں:

  • 29 جولائی 2021 کو جماعت اول کے طلبہ کے لیے تین ماہ پر مشتمل کھیل پر مبنی "ودیا پرویش" اسکول تیاری پروگرام اور اس کی رہنما ہدایات جاری کی گئیں۔ اس پروگرام کا مقصد مختلف پس منظر سے آنے والے بچوں، جیسے بال واٹیکا، آنگن واڑی مراکز، گھر یا نجی پلے اسکولوں سے آنے والے بچوں، کو جماعت اول میں آسانی سے منتقل ہونے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس میں کھیل پر مبنی، عمر کے مطابق اور بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما سے ہم آہنگ تعلیمی سرگرمیاں شامل ہیں، جو خوشگوار ماحول میں بچوں کی قبل از خواندگی، قبل از حسابی مہارت، ذہنی اور سماجی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ پروگرام ملک بھر میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ 2022-23 سے اب تک 8.8 لاکھ اسکولوں کے 5 کروڑ سے زائد طلبہ اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔
  • 20 فروری 2023 کو جادوئی پٹارا  متعارف کرایا گیا، جو 3 سے 6 سال کے بچوں کے لیے تدریسی و تعلیمی مواد (LTM) کا مجموعہ ہے۔ اس میں 53 تعلیمی وسائل شامل ہیں، جن میں کھلونے، کھیل، پہیلیاں، کٹھ پتلیاں، پوسٹر، فلیش کارڈز، کہانیوں کے کارڈز، سرگرمیوں کی کتابیں اور اساتذہ کے لیے رہنما کتابچے شامل ہیں۔ اس کے تمام سرگرمی کارڈز، تصویری پوسٹر، کہانی کارڈز اور ہدایات 22 زبانوں میں ترجمہ کیے جا چکے ہیں۔ اس میں تربیت کاروں کے لیے "اُنمکھ" نامی جامع رہنما کتاب بھی شامل ہے، جس میں 3 سے 6 سال کے بچوں کے لیے مختلف سرگرمیاں دی گئی ہیں۔
  • 10 فروری 2024 کو ای-جادوئی پٹارا کا آغاز کیا گیا، جو جادوئی پٹارا پر مبنی موبائل ایپ اور ویب سائٹ ہے۔ اس میں 3 سے 8 سال کے بچوں کے لیے کھیل پر مبنی تدریسی مواد فراہم کیا گیا ہے تاکہ سیکھنے کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ پلیٹ فارم اس ویب سائٹ پر دستیاب ہے: https://ejaaduipitara.ncert.gov.in/
  • قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور قومی نصابی فریم ورک برائے بنیادی مرحلہ  کے مطابق جماعت اول اور دوم کے لیے کھیل اور سرگرمیوں پر مبنی نصابی کتابیں تیار کر کے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں ہندی کی "سرنگی"، انگریزی کی "مردنگ"، ریاضی کی "جوانی فل میتھمیٹکس" اور "آنندمئے گنت"، جبکہ اردو کی "شہنائی" شامل ہیں۔
  • مادری زبان میں بنیادی خواندگی اور حسابی مہارت کی تعلیم کے لیے 121 مقامی زبانوں میں ابتدائی کتابچے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ وہ زبانیں ہیں جنہیں کم از کم 10 ہزار افراد بولتے ہیں۔
  • بال واٹیکا سے جماعت دوم تک بنیادی خواندگی اور حسابی مہارت کے لیے تعلیمی نتائج کی بنیاد پر واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جو قومی اور بین الاقوامی تحقیق سے اخذ کیے گئے ہیں۔
  • اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے اکتوبر 2020 میں دیکشا پلیٹ فارم پر نِشٹھا آن لائن پروگرام شروع کیا۔ اس میں بنیادی خواندگی اور حسابی مہارت سے متعلق مختلف زبانوں میں تربیتی مواد، تحریری اسباق اور ویڈیوز فراہم کیے جاتے ہیں۔ دیکشا  پر ایف ایل این کے لیے ایک خصوصی سیکشن بھی موجود ہے، جہاں ملک بھر، خصوصاً سماجی و معاشی طور پر پسماندہ اضلاع کے لیے معیاری تعلیمی وسائل دستیاب ہیں۔ اس وقت دیکشاپر 133 زبانوں (126 بھارتی اور 7 غیر ملکی زبانیں) میں مواد موجود ہے، جبکہ نِشٹھا ایف ایل این  اور ای سی سی ای پروگرام کے تحت 15.57 لاکھ سے زائد صارفین آن لائن تربیت کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں تعلیم کے وزیرِ مملکت جناب جینت چودھری نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں بنیادی مرحلے کے لیے ریاست کے لحاظ سے اندراج

ریاستوں اور مرکزی کے زیر انتظام علاقے

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبار جزائر

11,291

11,042

10,913

11,474

آندھرا پردیش

6,40,500

6,64,776

5,82,824

5,44,883

اروناچل پردیش

48,179

46,616

40,359

37,964

آسام

13,14,702

12,22,654

11,15,213

10,35,658

بہار

36,35,668

25,90,376

25,11,248

24,28,158

چندی گڑھ

30,164

29,309

26,925

30,343

چھتیس گڑھ

7,21,279

7,23,579

6,76,804

6,24,948

دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو

20,347

22,362

22,464

24,704

دہلی

4,50,703

4,16,484

3,85,120

3,54,797

گوا

58,296

57,245

55,037

52,387

گجرات

13,89,600

13,35,387

12,69,636

17,25,726

ہریانہ

3,90,089

3,04,590

3,15,643

3,24,882

ہماچل پردیش

1,57,190

1,56,867

1,45,519

1,43,975

جموں و کشمیر

4,02,784

4,18,042

3,90,012

3,60,676

جھارکھنڈ

11,24,858

10,56,983

9,11,220

8,54,140

کرناٹک

12,31,328

9,96,359

9,14,375

8,91,573

کیرالہ

9,08,195

8,79,307

8,14,291

7,49,451

لداخ

8,934

8,357

8,314

8,166

لکشدیپ

3,322

3,403

3,409

3,423

مدھیہ پردیش

17,37,576

15,28,342

12,45,396

11,82,094

مہاراشٹر

25,85,858

24,19,182

22,26,691

22,06,774

منی پور

81,599

77,863

75,344

66,876

میگھالیہ

2,96,253

2,88,573

2,77,943

3,00,931

میزورم

45,663

43,612

39,308

38,971

ناگالینڈ

61,265

53,689

51,483

47,521

اوڈیشہ

10,64,315

10,08,836

9,17,659

10,51,011

پڈوچیری

24,007

21,877

20,329

20,109

پنجاب

7,99,946

7,97,689

7,24,138

6,96,921

راجستھان

16,49,319

13,24,618

10,54,543

10,53,570

سکم

14,292

12,731

12,556

12,526

تمل ناڈو

9,78,945

8,81,865

7,93,853

7,65,646

تلنگانہ

5,07,830

4,08,333

3,69,732

3,86,831

تریپورہ

94,516

90,103

85,881

84,963

اتراکھنڈ

48,81,250

37,37,647

28,95,290

30,32,603

اتر پردیش

1,64,080

1,40,936

1,06,552

77,636

مغربی بنگال

34,85,224

35,19,543

32,71,717

31,33,498

کل

3,10,19,367

2,72,99,177

2,43,67,741

2,43,65,809

ضمیمہ-II ضمیمہ کا حوالہ راجیہ سبھا کے حصہ (ج) کے جواب میں سوال نمبر ۔ 1142 کا جواب 29.07.2026 کو پارلیمنٹ ایس ایم ٹی کے معزز اراکین کے ذریعہ پوچھا گیا ۔ سیما دویدی ، جناب برج لال ، ڈاکٹر سندیپ کمار پٹھک اور جناب کرسریوسنگھ جھالا "نپن بھارت مشن اور بنیادی ادب اور نیاپن" کے حوالے سے نپن بھارت مشن کے تحت ریاست وار مختص فنڈز ۔

 

روپے لاکھ میں

نمبر شمار

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں

2023-24

2024-25

2025-26

2026-27

مکمل

مکمل

4,60,780.93

2,81,690.24

4,19,572.53

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

866.74

764.23

836.32

837.88

2

آندھرا پردیش

6,184.48

7,842.35

3,732.30

7,455.05

3

اروناچل پردیش

3,596.81

3,704.90

3,514.69

839.3

4

آسام

13,800.57

34,663.28

7,068.95

16,510.92

5

بہار

48,337.02

65,361.86

25,385.06

60,614.96

6

چندی گڑھ

483.79

406.52

372.62

450.92

7

چھتیس گڑھ

15,886.90

17,678.32

7,506.32

11,841.47

9

دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو

1,046.74

1,018.90

1,003.29

928.55

8

دہلی

6,428.72

8,553.69

5,577.95

7,072.44

10

گوا

296.94

293.58

49.49

43.99

11

گجرات

11,135.59

13,461.54

13,120.29

13,438.93

12

ہریانہ

11,755.65

9,737.24

2,301.23

5,302.37

13

ہماچل پردیش

11,526.46

15,288.30

14,986.39

14,158.11

14

جموں و کشمیر

19,390.83

18,399.82

15,955.20

11,974.55

15

جھارکھنڈ

11,939.48

15,334.93

6,119.98

20,321.90

16

کرناٹک

10,044.22

9,463.97

9,397.99

21,140.29

17

کیرالہ

5,250.79

5,631.18

3,666.76

3,610.35

18

لداخ

2,131.85

752.75

758.37

681.35

19

لکشدیپ

30.7

44.21

46.36

36.66

20

مدھیہ پردیش

32,797.48

43,175.68

15,572.15

26,147.31

21

مہاراشٹر

21,853.42

18,918.77

7,905.88

20,714.46

22

منی پور

4,121.95

4,589.13

1,895.21

2,105.18

23

میگھالیہ

4,884.50

1,082.32

1,203.50

143.6

24

میزورم

1,655.45

1,370.69

1,315.08

1,214.12

25

ناگالینڈ

4,591.07

982.64

389.16

665.65

26

اوڈیشہ

15,000.99

15,060.12

29,408.09

27,811.61

27

پڈوچیری

775.64

174.87

113.65

307.72

28

پنجاب

10,162.88

14,894.76

12,281.56

11,970.94

29

راجستھان

15,156.90

15,379.14

5,682.64

15,437.26

30

سکم

1,835.15

1,157.59

753.7

883

31

تمل ناڈو

13,086.10

16,917.51

5,462.43

12,279.21

32

تلنگانہ

2,753.43

4,421.39

8,148.11

4,990.27

33

تریپورہ

1,939.47

2,166.86

1,241.07

1,762.33

34

اتراکھنڈ

4,571.27

5,085.57

2,285.12

4,043.02

35

اتر پردیش

53,987.75

66,364.13

55,996.36

85,487.14

36

مغربی بنگال

13,983.12

20,638.20

10,637.00

6,349.71

 

 ****

 

(ش ح۔م ع۔ م ذ۔)

UR No.910


(रिलीज़ आईडी: 2291482) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी