وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مادری زبان پر مبنی تعلیم کے فروغ کو ترجیح

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 7:08PM by PIB Delhi

بھارتی آئین کے آرٹیکل 350-اے کے مطابق "ہر ریاست اور ریاست کے اندر ہر مقامی ادارے کی یہ کوشش ہوگی کہ لسانی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں ان کی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔"

قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے پیراگراف 4.11 میں کہا گیا ہے کہ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ کم عمر بچے اپنی گھریلو زبان یا مادری زبان میں پیچیدہ تصورات کو زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں سمجھتے اور سیکھتے ہیں۔ عموماً گھریلو زبان وہی ہوتی ہے جو مادری زبان یا مقامی برادری کی بولی جانے والی زبان ہو۔

اسی لیے جہاں تک ممکن ہو، کم از کم جماعت پنجم تک، اور ترجیحاً جماعت ہشتم یا اس سے آگے تک تعلیم کا ذریعہ گھریلو زبان، مادری زبان، مقامی زبان یا علاقائی زبان ہونا چاہیے۔ اس کے بعد بھی، جہاں ممکن ہو، گھریلو یا مقامی زبان کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا رہے۔ اس پالیسی پر سرکاری اور نجی دونوں طرح کے اسکولوں میں عمل کیا جائے گا۔

گھریلو یا مادری زبانوں میں اعلیٰ معیار کی درسی کتابیں، بشمول سائنس کی کتابیں، تیار کی جائیں گی۔ اگر کسی زبان میں درسی مواد دستیاب نہ ہو تو بھی، جہاں تک ممکن ہو، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان تدریسی رابطے کی زبان مادری یا گھریلو زبان ہی رکھی جائے گی۔

اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ دو لسانی طریقۂ تدریس اختیار کریں اور دو لسانی تدریسی مواد استعمال کریں، خصوصاً ایسے طلبہ کے لیے جن کی مادری زبان، ذریعۂ تعلیم سے مختلف ہو۔ تمام طلبہ کو ہر زبان معیاری انداز میں سکھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

حقِ تعلیم قانون  2009 (آر ٹی ای) کی دفعہ 29(2) (ف) میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ "جہاں تک ممکن ہو، تعلیم کا ذریعہ بچے کی مادری زبان ہونا چاہیے۔"

قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر عمل درآمد کے سلسلے میں نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے اسکولی تعلیم کے لئے قومی درسیات کا خاکہ (این ایس ایف۔ایس ای) 2023 تیار کیا، جو پالیسی کے وژن اور سفارشات کے مطابق ہے۔

اس کے بعد این سی ای آر ٹی نے جماعت اول سے جماعت نہم تک کے لیے نئی درسی کتابیں تیار کرکے متعارف کرائی ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کثیر لسانی تعلیم کے فروغ کے لیے این سی ای آر ٹی نے جماعت اول، دوم، سوم اور ششم کی درسی کتابوں کا آئین کی آٹھویں فہرست میں شامل تمام 22 زبانوں میں ترجمہ کیا ہے، اور یہ کتابیں ڈیجیٹل صورت میں دستیاب ہیں۔

اسی طرح جماعت چہارم، پنجم، ہفتم اور ہشتم کی 460 درسی کتابوں میں سے 368 کتابوں کا ترجمہ بھی مکمل کرکے ڈیجیٹل طور پر دستیاب کر دیا گیا ہے۔

این سی ای آر ٹی ریاستوں، کندریہ ودیالیہ سنگٹھن (کے وی ایس)، نوودیہ ودیالیہ سمیتی (این وی ایس)، آرمی ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی (اے ڈبلیو ای ایس) اور دیگر تعلیمی اداروں کو نصاب سازی، نئی درسی کتابوں پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تدریسی و تعلیمی مواد (ٹی ایل ایم) جدید تدریسی طریقوں اور ہمہ جہت آموزش کے حوالے سے مسلسل تعلیمی معاونت اور تربیت فراہم کر رہی ہے۔

این سی ای آر ٹی نے اسکولی تعلیم کے لئے قومی درسیات کا خاکہ (این سی ایف۔ایس ای) 2023 میں طے کردہ نصابی اہداف، صلاحیتوں اور تعلیمی نتائج کے مطابق ہندوستانی زبانوں میں زبان کی تعلیم کے لیے تدریسی و تعلیمی مواد اور درسی کتابیں تیار کی ہیں، تاکہ تدریس، سیکھنے اور جانچ کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔

بال واٹیکا 1، 2 اور 3 کے لیے "جادوئی پٹارا" اور "ای-جادوئی پٹارا" کے نام سے تد ریسی و تعلیمی مواد تیار کیا گیا ہے، جو مختلف ہندوستانی زبانوں میں دستیاب ہے۔

قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور ابتدائی مرحلے کے قومی نصابی فریم ورک (این سی ایف۔ایس ای) 2022 کے مطابق، این سی ای آر ٹی نے "آنند" (بال واٹیکا سرگرمی کتاب) اور "اُنمکھ" (اساتذہ کے تربیت کاروں کے لیے رہنما کتاب) سمیت بنیادی تعلیمی وسائل آئین کی آٹھویں فہرست میں شامل تمام 22 زبانوں میں تیار کیے ہیں۔

مزید برآں، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق کثیر لسانی تعلیم کے فروغ اور بھارت کے لسانی تنوع کے تحفظ کے لیے این سی ای آر ٹی نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے نصابی مواد کے ترجمے اور تیاری کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔

  1. ان میں ایک اہم اقدام ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فار نالج شیئرنگ (دیکشا): ہے، جو اسکولی تعلیم کا قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ یہ پلیٹ فارم "ایک قوم، ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم" کے وژن کے تحت تمام جماعتوں کے لیے معیاری ڈیجیٹل تعلیمی مواد اور کیو آر کوڈ سے مزین درسی کتابیں فراہم کرتا ہے۔دکشا پلیٹ فارم کو تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے علاوہ مرکزی خودمختار تعلیمی اداروں اور مختلف تعلیمی بورڈز، بشمول سی بی ایس ای  اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس) نے اختیار کیا ہے۔یہ پلیٹ فارم ملک بھر کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے دستیاب ہے اور اس وقت 135 زبانوں کی معاونت کرتا ہے، جن میں 128 ہندوستانی زبانیں اور 7 غیر ملکی زبانیں شامل ہیں۔
  2. نشٹھا (این آئی ایس ایچ ٹی ایچ اے):وزارتِ تعلیم نے نیشنل انیشی ایٹو فار اسکول ہیڈز اینڈ ٹیچرز ہولسٹک ایڈوانسمنٹ(این آئی ایس ایچ ٹی ایچ اے) کے نام سے ایک جامع قومی پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے اساتذہ اور اسکول سربراہان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا کر اسکولی تعلیم کے مجموعی معیار کو بلند کرنا ہے۔ یہ پروگرام تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بالمشافہ، آن لائن اور مخلوط  تربیتی طریقوں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے آن لائن کورسز دِکشا  پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں اور مختلف پروگراموں کے مطابق 11 ہندوستانی زبانوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
  3. ہندوستانی زبانوں میں ابتدائی تعلیمی کتابچوں کی تیاری:اوڈیشہ کی مرکزی یونیورسٹی، کوراپوٹ اور سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز (سی آئی آئی ایل)، میسورو کے اشتراک سے این سی ای آر ٹی  نے آئین کی آٹھویں فہرست میں شامل اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں ابتدائی خواندگی کے لیے کتابچے تیار کیے ہیں۔ وزارتِ تعلیم اب تک 121 پرائمرز جاری کر چکی ہے، جو این سی ای آر ٹی کی ویب سائٹ اور دِکشاپلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔
  4. تعلیمی ماڈیولز کا ترجمہ:این سی ای آر ٹی نے نوچیتنا، نئے فوجداری قوانین اور چندریان سے متعلق تعلیمی ماڈیولز کا مصنوعی ذہانت(اے آئی)پر مبنی ترجمہ مختلف ہندوستانی زبانوں میں کیا ہے، تاکہ یہ مواد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
  5. دِکشا پر بھاشا سنگم: ’’بھاشا سنگم‘‘ کے نام سے ایک خصوصی صفحہ قائم کیا گیا ہے، جہاں آئین کی آٹھویں فہرست میں شامل تمام 22 ہندوستانی زبانوں میں ویڈیوز اور روزمرہ گفتگو کے بنیادی جملے فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ تدریس اور زبان سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
  6. بھارتیہ بھاشا اُتسو کا فروغ: علاقائی زبانوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے زبانوں کے فروغ اور ثقافتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے ستمبر سے دسمبر 2023 تک ملک گیر سطح پر 75 روزہ "بھارتیہ بھاشا اُتسو" کا انعقاد کیا گیا۔
  7. بھارتیہ بھاشا سمر کیمپ:وزارتِ تعلیم کی سرپرستی میں گزشتہ دو برسوں سے بھارتیہ بھاشا سمر کیمپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے آئین کی آٹھویں فہرست میں شامل 22 ہندوستانی زبانوں میں کثیر لسانی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام میں طلبہ، اساتذہ اور مقامی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔

یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومتِ ہند اور این سی ای آر ٹی طلبہ کو ان کی مادری زبانوں میں معیاری اور مساوی تعلیم فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملک بھر میں کثیر لسانی تعلیمی مواد کی تیاری اور فراہمی کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

مزید برآں، چونکہ تعلیم بھارتی آئین کی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے، اس لیے متعلقہ ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ اپنی مقامی ضروریات اور عوامی تقاضوں کے مطابق علاقائی زبانوں میں نصاب تیار کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روح اور سفارشات سے ہم آہنگ ہو۔

یہ معلومات مرکزی وزیرِ مملکت برائے تعلیم، جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

***

(ش ح۔م ع۔ م ذ۔)

UR No.908


(रिलीज़ आईडी: 2291469) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English