دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دیہی ترقیاث کی وزارت اور پی سی آئی انڈیا کے درمیان سرکاری خریداری کے ذریعے خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے غیر مالی مفاہمت نامے پر دستخط

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 6:16PM by PIB Delhi

دیہی ترقیات کی وزارت (ایم او آر ڈی ) نے دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی۔این آر ایل ایم) کے تحت آج پروجیکٹ کنسرن انٹرنیشنل (پی سی آئی) انڈیا کے ساتھ ایک غیر مالی مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں، خصوصاً اپنی مدد آپ گروپس (ایس ایچ جی ایس) کے زیرِ انتظام کاروباروں کو سرکاری خریداری اور منڈی سے منسلک کاروباری ترقی کے ذریعے مضبوط بنانا ہے۔

مفاہمت نامہ پر دستخط کی تقریب محکمۂ دیہی ترقیات کے سکریٹری، جناب روہت کانسل کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ معاہدے پر وزارتِ دیہی ترقیات کی جوائنٹ سکریٹری (دیہی ذریعہ معاش)، محترمہ سواتی شرما اور پی سی آئی انڈیا کے سی ای او و کنٹری ڈائریکٹر، جناب اندراجیت چودھری نے دستخط کیے اور دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

یہ مفاہمت نامہ 2022 میں شروع کیے گئے اقدام "خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے سرکاری خریداری سے فائدہ اٹھانا" کو باضابطہ شکل دیتی ہے، جسے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (بی ایم جی ایف) کی معاونت حاصل ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں اور اپنی مدد آپ گروپوں کو کاروباری تیاری، استعداد کار میں اضافے اور مارکیٹ سے روابط کے ذریعے سرکاری اور ادارہ جاتی خریداری میں زیادہ مؤثر شرکت کے قابل بنانا ہے۔

2026 سے 2029 تک کے لیے ہونے والا یہ تین سالہ معاہدہ مکمل طور پر غیر مالی نوعیت کا ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کے درمیان کسی قسم کے فنڈز کی منتقلی یا مالی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ ہر فریق اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرے گا۔

اس شراکت داری کا ایک اہم حصہ (ڈی اے وائی۔این آر ایل ایم) کے تحت  نیشنل ریسورس سیل (این آر سی) یا پبلک پروکیورمنٹ اینڈ بزنس ماڈل سپورٹ سیل کا قیام ہے، جسے پی سی آئی  انڈیا تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ یہ سیل مختلف ریاستی دیہی روزگار مشنز(ایس آر ایل ایم ایس) میں سرکاری خریداری سے منسلک کاروباری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے حکمتِ عملی اور عملی معاونت فراہم کرے گا۔

اس تعاون کے تحت کاروباری انکیوبیشن فریم ورک، معیاری طریقۂ کار(ایس او پی )، آپریشنل ٹول کٹس اور معیاری تربیتی ماڈیولز تیار کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایس آر ایل ایم) کی ٹیموں اور اپنی مدد آپ گروپوں کے کاروباری اداروں کو گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر رجسٹریشن، ٹینڈر میں شرکت، معیار کے تقاضوں، دستاویزی کارروائی اور خریداری سے متعلق ضوابط پر تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، قابلِ تجدید توانائی، پائیدار پیداواری طریقوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے پائیدار کاروباری ماڈلز کو فروغ دینے پر بھی کام کیا جائے گا۔

مالی سال 27-2026 کے دوران ابتدائی طور پر آسام، بہار، جھارکھنڈ، کرناٹک، مہاراشٹر، راجستھان اور اتر پردیش میں خصوصی تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ دیگر ریاستوں کو بھی مرحلہ وار اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر تکنیکی تربیتی اجلاس، ریاستوں کے درمیان تجربات کے تبادلے، کاروباری مواقع کی نشاندہی اور سرکاری خریداری سے منسلک قابلِ توسیع کاروباری ماڈلز کی تیاری بھی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ مفاہمت نامہ اپنی مدد آپ گروپوں کے کاروباری اداروں کو سرکاری خریداری کی منڈیوں تک رسائی، پائیدار اور توسیع پذیر کاروبار قائم کرنے اور خواتین کے معاشی بااختیار بنانے کے لیے تکنیکی معاونت کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ شراکت داری(ڈی اے وائی۔این آر ایل ایم) کے مقاصد اور 6 کروڑ "لکھ پتی دیدیوں" کی تشکیل کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد کاروبار پر مبنی، پائیدار اور منڈی سے مربوط روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

یہ تعاون وکست بھارت 2047، پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی ) اور بھارت کے صفر کاربن اخراج کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا، کیونکہ اس کے ذریعے دیہی خواتین کے لیے جامع، پائیدار اور مارکیٹ پر مبنی معاشی مواقع کو فروغ دیا جائے گا۔

 

 ***

(ش ح۔م ع۔ م ذ۔)

UR No.899


(रिलीज़ आईडी: 2291407) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी