وزارتِ تعلیم
اعلیٰ تعلیم میں عہدے اور خالی آسامیاں
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 6:24PM by PIB Delhi
وزارتِ تعلیم کے تحت مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے(سی ایچ ای آئی)، جن میں سینٹرل یونیورسٹیز(سی یوز) اور انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی(این آئی ٹی) جیسے مرکزی مالی اعانت یافتہ تکنیکی ادارے (سی ایف ٹی آئیز) پارلیمنٹ کے متعلقہ مرکزی قوانین کے تحت قائم کردہ قانونی خود مختار ادارے ہیں اور ان قوانین کے تحت بنائے گئے ضوابط، قواعد، احکامات اور ضابطہ کاری کے مطابق کام کرتے ہیں۔خود مختار ادارے ہونے کے ناطے، تدریسی عملے کی بھرتی متعلقہ اداروں کے اندر ہی ان کے قوانین اور ضوابط کے مطابق کی جاتی ہے۔ بھرتی کے اختیارات متعلقہ بورڈ آف گورنرز/ایگزیکٹو کمیٹی / بورڈ آف مینجمنٹ کے پاس ہوتے ہیں۔
آسامیوں کی تخلیق اور ان کا پُر کیا جانا ایک مسلسل عمل ہے۔ آسامیاں ترقی، سبکدوشی، استعفیٰ، وفات، نئے اداروں کے قیام، اسکیموں یا منصوبوں کے آغاز اور طلبہ کی تعداد میں اضافے اور موجودہ اداروں میں گنجائش کی توسیع کے باعث پیدا ہونے والی اضافی ضروریات کی وجہ سے تخلیق پاتی ہیں۔
اگست 2021 میں وزارتِ تعلیم کے تحت تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے اداروں میں زیرِ التوا خالی آسامیوں کو مشن موڈ میں پُر کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائیں۔ سی ایچ ای آئی نے درج فہرست ذاتوں( ایس سی)، درج فہرست قبائل( ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سمیت خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی۔ ستمبر 2022 میں وزارتِ تعلیم نے تمام سی ایچ ای آئی پر زور دیا کہ وہ خالی آسامیوں کو مشن موڈ میں پُر کریں۔ اکتوبر 2025 میں تمام سی ایچ ای آئی سے دوبارہ درخواست کی گئی کہ وہ تمام زیرِ التوا خالی آسامیوں کو مشن موڈ میں پُر کریں۔ستمبر 2022 سے تمام سی ایچ ای آئی نے خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے مشن موڈ بھرتی مہم شروع کی ہے۔23 اپریل مئی2026 تک (یعنی آخری روزگار میلے کی تاریخ تک)، تمام سی ایچ ای آئی نے مشن موڈ کے تحت مجموعی طور پر 32,114 عہدے پُر کیے ہیں، جن میں 3,851 درج فہرست ذاتیں ، 1,643 درج فہرست قبائل ، 6,785 دیگر پسماندہ طبقات ، 1,191 معاشی طور پر کمزور طبقات شامل ہیں۔ان میں 18,757 تدریسی عہدے بھی شامل ہیں، جن میں 2,315 درج فہرست ذاتیں ، 910 درج فہرست قبائل ، 3,986 دیگر پسماندہ طبقات ، 568 معاشی طور پر کمزور طبقات شامل ہیں۔
سی ایچ ای آئی میں پی ایچ ڈی میں داخلوں کی تعداد مختلف داخلہ ادوار میں دستیاب تدریسی نگرانوں، شعبہ جاتی ضروریات اور مالی معاونت کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔اس کے علاوہ پی ایچ ڈی کے لیے دستیاب نشستوں کی تعداد ادارے میں موجود تدریسی عملے کی تعداد کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ نئے تدریسی اراکین کی تقرری سے تحقیقی نگرانی کی اضافی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جبکہ ایسے تدریسی اراکین کے تحقیقی طلبہ، جو استعفیٰ دیتے ہیں، سبکدوش ہوتے ہیں یا ان کا تبادلہ ہو جاتا ہے، ادارے کے تعلیمی ضوابط کے مطابق دیگر اہل نگرانوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں۔پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد 1,17,301 (آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن رپورٹ 15-2014 کے مطابق) سے بڑھ کر 3,43,559 (آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن رپورٹ 24-2023 کے مطابق) ہو گئی ہے، جو 192.89 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
یہ معلومات وزارتِ تعلیم کے وزیر مملکت، ڈاکٹر سکانت مجومدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کی۔
*****
(ش ح۔م ش۔ص ج)
877: UN No
(रिलीज़ आईडी: 2291319)
आगंतुक पटल : 11