خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے خدمات کی فراہمی اور برقت نگرانی کے لیے ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کے ذریعے ایک مربوط اور متحد مشن و تسالیہ پورٹل تیار کیا
گمشدہ/ملنے والے بچوں کے لیے ٹریک چائلڈ پورٹل اور گمشدہ/دیکھے گئے بچوں کے لیے کھویا-پایا ایپلی کیشن کو اس متحد مشن وتسالیہ پورٹل کے ساتھ ضم کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 3:36PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت جوینائل جسٹس (بچوں کی نگران اور تحفظ) ایکٹ، 2015' (جے جے ایکٹ، 2015) کے انتظام و انصرام کے لیے نوڈل وزارت ہے، جو بچوں کی حفاظت، سکیورٹی، وقار اور ان کی بہتری و خوشحالی کو یقینی بنانے کا بنیادی قانون ہے اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ قانون ریاستی اور ضلع سطحوں پر قانونی ڈھانچے قائم کرتا ہے جن میں بچوں کی حفاظت سے متعلق ریاستی سوسائٹی، بچوں کی بہبود سے متعلق کمیٹیز، جوینائل جسٹس بورڈز (جے جے بیز) اور بچوں کی حفاظت سے متعلق ضلع یونٹس شامل ہیں۔ اس میں بچوں کی نگہداشت سے متعلق اداروں(سی سی آئیز) کے قیام کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
جے جے ایکٹ 2015 (دفعات 27 تا 30) کے تحت، بچوں کی بہبود سے متعلق کمیٹیز (سی ڈبلیو سیز) کو بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھ بھال اور تحفظ کے محتاج بچوں سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہیں بچوں کی نگہداشت سے متعلق اداروں (سی سی آئیز) کے کام کاج کی نگرانی کا بھی اختیار حاصل ہے۔ جے جے ایکٹ 2015 کی دفعہ 106 کے مطابق، اس قانون کے نفاذ کی بنیادی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ قومی اور ریاستی سطح پر، جے جے ایکٹ میں اس قانون (دفعہ 109)کے نفاذ کی نگرانی کے لیےحقوق اطفال کے تحفظ کے لیے قومی اور ریاستی کمیشنوں کے انتظام کا بھی قیام کیا گیا ہے۔
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت یتیم بچوں سمیت مشکل حالات سے دوچار بچوں کے لیے مختلف خدمات کی فراہمی کی خاطر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان طے شدہ لاگت کی شراکت کی بنیاد پر ایک مرکز کے زیرِ سرپرستی اسکیم ’مشن و تسالیہ‘ نافذ کر رہی ہے۔ یہ اسکیم ادارہ جاتی دیکھ بھال اور غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال فراہم کرتی ہے۔ مشن و تسالیہ اسکیم کے تحت قائم کردہ چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز دیگر امور کے علاوہ عمر کے مطابق تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی، تفریح، صحت کی دیکھ بھال، کونسلنگ وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ نان انسٹی ٹیوشنل کیئر سروس کے تحت اسپانسرشپ، فوسٹر کیئر اور آفٹر کیئر کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔
مشن و تسالیہ مشکل حالات سے دوچار بچوں کی خاندانی بنیاد پر غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کو فروغ دیتا ہے، جس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ بچوں کو ادارے میں رکھنا آخری حل کے طور پر ہونا چاہیے۔ غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کے تحت بچوں کو اسپانسرشپ، فوسٹر کیئر،گود لینے اور آفٹر کیئر کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال (اسپانسرشپ/فوسٹر کیئر/آفٹر کیئر) کے اہل بچوں کو 4000/ـ روپے ماہانہ فراہم کیے جاتے ہیں۔
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے خدمات کی فراہمی اور بروقت نگرانی کے لیے ریاستی اور ضلع سطح کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کے ذریعے ایک مربوط اور متحد '’مشن و تسالیہ پورٹل‘ تیار کیا ہے۔ گمشدہ/ملنے والے بچوں کے لیے ٹریک چائلڈ پورٹل اور گمشدہ/دیکھے گئے بچوں کے لیے کھویا-پایا ایپلی کیشن کو اس متحد مشن و تسالیہ پورٹل کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔ مشن و تسالیہ پورٹل کا ٹریک چائلڈ ماڈیول مختلف اسٹیک ہولڈرز جیسے کہ وزارتِ داخلہ، وزارتِ ریلوے، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتطام علاقوں کی انتظامیہ، چائلڈ ویلفیئر کمیٹیز، جوینائل جسٹس بورڈز، نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی وغیرہ کے تعاون اور شمولیت سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں معیاری طریقہِ کار جاری کر دیا گیا ہے۔ اس پورٹل کے نفاذ کے حوالے سے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتطام علاقوں بشمول تمام ریاستوں اور مرکزکے زیر انتطام علاقوں کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایڈوائزریز بھی جاری کی گئی ہیں۔ اسے وزارتِ داخلہ کے کرائم اینڈ کرمنل ٹریکنگ اینڈ نیٹ ورک سسٹمز (سی سی ٹی این ایس) کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے تاکہ متعلقہ ریاستی اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی پولیس کے ذریعہ گمشدہ بچوں کا سراغ لگانے کے لیے مشن و تسالیہ پورٹل کے ڈیٹا بیس کے ساتھ گمشدہ بچوں کی ایف آئی آرز کا ملان ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، کھویا پایا ماڈیول کے ذریعے، کوئی بھی شہری کسی بھی گمشدہ یا دیکھے گئے بچے کے بارے میں اطلاع دے سکتا ہے۔
مشن و تسالیہ کے تحت ہنگامی ردِعمل اور رسائی کی سروس ٹول فری چائلڈ ہیلپ لائن (1098#) کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے جو مشکل حالات میں گھِرے بچوں کے لیے 24x7x365 سروس ہے۔ اسے وزارتِ داخلہ کے ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم-112 (ای آر ایس ایس-112) ہیلپ لائن اور وومن ہیلپ لائن (181) کے ساتھ ضم کیا گیا ہے۔ تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چائلڈ ہیلپ لائن کے لیے ریاستی سطح پر خصوصی ڈبلیو سی ڈی-کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔
حقوق اطفال کے تحفظ کی قومی کمیشن (این سی پی سی آر) کے ذریعہ ایک ایپلی کیشن ماسی (بلا رکاوٹ معائنہ کی نگرانی کے لیے ایپ) تیار کی گئی ہے جو بچوں کی نگہداشت سے متعلق اداروں (سی سی آئیز) کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کو ممکن بناتی ہے اور سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والے بچوں کی نگرانی اور بحالی کے لیے این سی پی سی آر نے بال سوراج پورٹل کے تحت ’’سی آئی ایس ایس ایپلی کیشن‘‘شروع کی ہے۔ این سی پی سی آر نے شکایات کے آسان ازالے اور مقدمات کی مزید مؤثر تصفیے کے لیے اپنے موجودہ ای-بال ندان پورٹل کو ایک مزید جدید آئی ٹی پلیٹ فارم میں اپ گریڈ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، این سی پی سی آر کا گو ہوم اینڈ ری-یونائیٹ (گھر) پورٹل مشن و تسالیہ پورٹل کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ ک ح۔ ش ہ ب
U.No. 855
(रिलीज़ आईडी: 2291317)
आगंतुक पटल : 10