ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: نیو کلیائی توانائی کے منصوبے
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:16PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، نیو کلیائی توانائی اور خلاء کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ زیرِ نفاذ نیو کلیائی توانائی کے منصوبوں کا مختلف سطحوں پر مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ انہیں مقررہ وقت کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔ سال 24-2023 ء میں 10 ری ایکٹرز زیرِ تعمیر/کمیشننگ کے مرحلے میں تھے۔ ان میں سے مجموعی طور پر 2100 میگاواٹ صلاحیت کے حامل تین ری ایکٹروں نے تجارتی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ ان کی تفصیلات درج ذیل جدول میں دی گئی ہیں:
|
ریاست
|
محل وقوع
|
پروجیکٹ
|
صلاحیت ( ایم ڈبلیو )
|
|
گجرات
|
ککرا پار
|
کے اے پی پی – 3 اور 4
|
2 X 700
|
|
راجستھان
|
راوت بھاٹا
|
آر اے پی پی – 7
|
1 X 700
|
سال 24-2023 ء کے بعد دو مزید یونٹس، یعنی کائگا-5 اور کائگا-6 (2 × 700 میگاواٹ) کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ اس طرح، اس وقت مجموعی طور پر 8000 میگاواٹ صلاحیت کے حامل 10 ری ایکٹرز زیرِ تعمیر ہیں۔ ان کی تفصیلات درج ذیل جدول میں دی گئی ہیں:
|
ریاست
|
محل وقوع
|
پروجیکٹ
|
صلاحیت ( ایم ڈبلیو )
|
|
راجستھان
|
راوت بھاٹا
|
آر اے پی پی – 8
|
1 X 700
|
|
تمل ناڈو
|
کودان کولم
|
کے کے این پی پی – 3 اور 4
|
2 X 1000
|
|
کے کے این پی پی – 5 اور 6
|
2 X 1000
|
|
کلپکّم
|
ایف بی آر – 1
|
1 X 500
|
|
کرناٹک
|
کائگا
|
کائگا – 5 اور 6
|
2 X 700
|
|
ہریانہ
|
گورکھپور
|
جی ایچ اے وی پی – 1 اور 2
|
2 X 700
|
سال 2025 ء میں شانتی ایکٹ کے نفاذ سے نیو کلیائی توانائی کے شعبے میں نجی صنعتوں اور تحقیقی اداروں سمیت مختلف اداروں کی وسیع تر شمولیت ممکن ہو سکے گی، جس سے توانائی کے شعبے کی ترقی کو فروغ ملے گا۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – ا ک - ع ا )
U.No. 865
(रिलीज़ आईडी: 2291252)
आगंतुक पटल : 10