خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
حکومت کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی بااختیاری کے لیے کثیر جہتی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے
’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘مہم سرکاری پالیسی اقدام سے آگے بڑھ کر مختلف متعلقہ فریقوں کی فعال شمولیت سے ملک گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 3:34PM by PIB Delhi
حکومت ملک میں لڑکیوں کے تحفظ، سلامتی اورانہیں بااختیار بنانے کو انتہائی زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت لڑکیوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی بااختیاری کے لیے حکومت نے کثیر جہتی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ (بی بی بی پی) اسکیم کا مقصد بچوں میں صنفی تناسب (سی ایس آر) کو بہتر بنانا اور لڑکیوں و خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ 22 جنوری 2015 کو شروع ہونے والی یہ اسکیم وزارتِ بہبودی خواتین و اطفال ، وزارتِ تعلیم اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس کا مقصد جنس کی بنیاد پر جنین کے انتخاب کی روک تھام، بچیوں کی بقا اور تحفظ کو یقینی بنانا اور ان کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہے۔
یہ اسکیم مختلف متعلقہ فریقوں کو معلومات فراہم کرنے، ان پر مثبت اثر ڈالنے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے، انہیں شامل کرنے اور بااختیار بنانے کے ذریعے بچیوں کے بارے میں معاشرتی سوچ اور طرز سلوک میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرتی ہے۔ پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے دوران، مشن شکتی کے ’سمبل‘ ورٹیکل جزو کے طور پر ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ اسکیم کا دائرۂ کار ملک کے تمام اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت مختلف شعبوں کی اجتماعی مداخلت کے ذریعے ایسے اقدامات پر زیادہ وسائل صرف کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جن کے زمینی سطح پر ٹھوس نتائج برآمد ہوں۔ مختلف سرکاری اداروں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور عوام کی وسیع شمولیت کے باعث ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘سرکاری پالیسی اقدام سے آگے بڑھ کر ملک گیر عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ملک بھر میں بچیوں کے حوالے سے معاشرتی طرز سلوک اور سوچ میں مثبت اور دیرپا تبدیلی پیدا کرنا ہے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق پیدائش کے وقت صنفی تناسب ( ایس آر بی) میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ قومی سطح پر یہ تناسب مالی سال 2014-15 میں 918 سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 929 (عارضی اعداد و شمار) ہو گیا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)، 2020 کے مطابق سمگر شکشا اسکیم کے تحت جماعت ششم سے بارہویں تک پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصدطالبات، خصوصاً کمسن لڑکیوں کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور انہیں ہنر پر مبنی تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)، 2020 کے پیراگراف 16.5 کے مطابق آئندہ دس برسوں کے دوران مرحلہ وار تمام سیکنڈری اسکولوں کے تعلیمی نصاب میں پیشہ ورانہ تعلیم کو شامل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں میں ’’ہب اینڈ اسپوک‘‘ ماڈل کے تحت اسکل لیب بھی قائم کی جائیں گی، تاکہ دیگر اسکول بھی ان سہولتوں سے استفادہ کر سکیں۔
یہ اسکیم لڑکیوں کی غیر روایتی اور ابھرتے ہوئے پیشہ ورانہ شعبوں، جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، روبوٹکس، صحت کی نگہداشت، قابلِ تجدید توانائی، آٹوموبائل، ٹیلی مواصلات اور قومی ہنرکی اہلیت کا فریم ورک (این ایس کیو ایف) سے ہم آہنگ دیگر ملازمتوں میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ یہ سہولت مقامی ضروریات اور دستیاب بنیادی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جاتی ہے۔
اس پروگرام کے تحت پیشہ ورانہ تجربہ گاہوں ،انٹرن شپ، صنعتی اداروں میں عملی تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی (کیریئر گائیڈنس) کے ذریعے عملی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) سے متعلق تعلیمی کورسوں اور پیشوں کو اختیار کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ پیشہ ورانہ نصاب کو قومی ہنرمندی کی اہلیت کا فریم ورک (این ایس کیو ایف) کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اسے قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (این سی وی ای ٹی) اور سیکٹر اسکل کونسل کےساتھ مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، تاکہ یہ صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ رہے۔
سمگر شکشا اسکیم کے تحت مالی سال 2025-26 تک پیشہ ورانہ تعلیم کے نفاذ کے لیے مجموعی طور پر 31,477 اسکولوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے 25,181 اسکولوں میں ہنر پر مبنی تعلیم کا آغاز ہو چکا ہے، جس سے 39,49,875 طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار مارچ 2026 تک ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 اور سمگر شکشا اسکیم کے ذریعہ لڑکیوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مساوی اور جامع تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا التزام ہے۔ موجودہ دور میں ترقی کا انحصار بڑی حد تک سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر ہے، اور لڑکیوں و خواتین کی بااختیاری بھی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کی تعلیم سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی لیے یہ اسکیم لڑکیوں کو ایس ٹی ای ایم اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پیشوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکیں۔ ان اقدامات کا مقصد کمسن لڑکیوں کو بازار کی ضروریات کے مطابق مہارتوں سے آراستہ کرنا، ان کے روزگار کے مواقع بہتر بنانا اور ایس ٹی ای ایم سمیت دیگر غیر روایتی پیشوں میں ان کی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔
تعلیم آئینِ ہند کی مشترکہ فہرست (کنکرنٹ لسٹ) میں شامل موضوع ہے اور زیادہ تر اسکول متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ لہٰذا اسکولوں میں بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ سمگر شکشا اسکیم کے تحت وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اسکولی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، بشمول لڑکیوں کے لیے علیحدہ بیت الخلا کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ امداد یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن (یو ڈی آئی ایس ای پلس) کے ذریعے نشان زد کردہ ضروریات اور متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ بنیادی ڈھانچے، بشمول لڑکیوں کے بیت الخلا، کی ضرورت کا جائزہ ریاستی حکومتیں ہر سال ضرورت اور ترجیح کے مطابق مرحلہ وار لیتی ہیں۔
حکومتِ ہند مالی سال 2022-23 سے مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ’’نیو انڈیا لٹریسی پروگرام‘‘ (این آئی ایل پی) نافذ کر رہی ہے ، جو عوامی طور پر ’’اُلّاس – نو بھارت ساکشرتا کاریہ کرم‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق یہ اسکیم 15 سال یا اس سے زائد عمر کے ناخواندہ افراد کو ہدف بناتی ہے۔ اب تک 3,36,52,317 افراد نے بنیادی خواندگی اور عددی مہارت کے جائزہ امتحان (ایف ایل این اے ٹی) میں شرکت کی، جن میں تقریباً 2,29,84,292 خواتین شامل ہیں، جبکہ مجموعی کامیابی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ درج کی گئی ہے۔ خواتین کی یہ بھرپور شرکت شرحِ خواندگی میں صنفی فرق کم کرنے اور تعلیم میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے مسلسل نفاذ کے نتیجے میں بھارت میں خواتین کی شرحِ خواندگی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 65.46 فیصد سے بڑھ کر پیریاڈک لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) 2025 کے مطابق 74.9 فیصد ہو گئی ہے، جو ملک بھر میں خواتین کی خواندگی اور تعلیمی شمولیت کے فروغ میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ معلومات بہبودی خواتین و اطفال کی وزیرِ مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔
******
( ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا )
Urdu.No-853
(रिलीज़ आईडी: 2291170)
आगंतुक पटल : 14