وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

کیرالہ میں ماہی گیر برادری کو تعاون

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 2:52PM by PIB Delhi

ماہی  گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں  بتایا کہ  ماہی گیری ‘ ایک ریاستی موضوع ہے اور حکومت ہند کے ماہی  گیری کے محکمے (ڈی او ایف، حکومت ہند) نے کیرالہ میں روایتی ماہی گیروں کو درپیش سماجی و اقتصادی حالات اور روز گار سے متعلق چیلنجوں  کا آزادانہ  طور پر کوئی جائزہ نہیں لیا ہے۔ علاقائی سمندری حدود کے اندر  12  سمندری میل (این ایم) تک نظم و نسق ماہی گیری  کی متعلقہ ساحلی ریاستوں کے میرین فشنگ ریگولیشن ایکٹ (ایم ایف آر اے) کے ذریعے کیا جاتا ہے، جب کہ 12  سمندری میل سے آگے ماہی گیری   کا شعبہ حکومت ہند کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ اسی مناسبت سے، ریاستی حکومتوں نے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں ماہی گیری کی ترقی اور بندوبست کے لیے اپنا ضابطہ جاتی فریم ورک/رہنما اصول وضع کیے ہوئے ہیں۔ حکومت کیرالہ  نے مطلع کیا ہے کہ وہ فیلڈ سطح کی ایجنسیوں، مستفیدین کے ڈاٹا بیس، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور وقتاً فوقتاً جائزوں کے ذریعے روایتی ماہی گیروں کے سماجی و اقتصادی حالات اور  روز گار کے چیلنجوں  کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیتی  رہتی ہے۔

اس کے علاوہ، حکومت ہند کا محکمہ ماہی  گیری اپنی اسکیموں، پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعے کیرالہ سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ماہی گیری کی ہمہ گیر ترقی کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ان کی روزی روٹی کو  مستحکم کرنا  ، ان اقدامات کا بنیادی حصہ رہا ہے۔

حکومت ہند کا محکمہ ماہی  گیری سال  21-2020 ء   سے اپنی اہم اسکیم پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) نافذ کر رہا ہے۔ گزشتہ  5 برسوں اور موجودہ سال کے دوران، حکومت ہند کے ماہی گیری  کے محکمے نے کیرالہ میں 1413.91 کروڑ روپے کے ماہی گیری کی ترقی سے متعلق منصوبوں کو منظوری دی ہے۔ منظور شدہ سرگرمیوں میں دیگر کے علاوہ  ، روزی روٹی اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات شامل ہیں، جن میں ماہی گیری پر پابندی کے دوران روایتی ماہی گیروں کے لیے روزی روٹی معاونت (1,71,033 تعداد) ، کشتیوں اور ماہی گیری کے جالوں کے لیے معاونت (200 یونٹس) ، مربوط جدید ساحلی ماہی گیر بستیوں کا قیام (9  تعداد) ، موسمیاتی لچکدار ساحلی ماہی گیر بستیوں کا قیام (6 تعداد)  ،  لچکدار ساحلی ماہی گیر بستیوں کا قیام (6 تعداد) ، گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں کی خریداری ( 20 یونٹس ) ،   اضافی روزگار کے طور پر دو  صدفی کی کاشت (1140 یونٹس) ، مچھلی کی نقل و حمل کے یونٹس ( 468 یونٹس) ، مچھلی کے ذخائر میں اضافے کے لیے مصنوعی چٹانوں کی تنصیب ( 42 یونٹس) ، متسیہ سیوا کیندروں کا قیام ( 10 تعداد) اور توسیعی و مشاورتی خدمات کے لیے ساگر متروں کی تعیناتی (222 تعداد) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ماہی گیروں کو ان کی قلیل مدتی قرض کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈز (کے سی سی) بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اب تک، کیرالہ میں ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے 18,908 کسان کریڈٹ کارڈ منظور کیے جا چکے ہیں۔

حکومت ہند کا ماہی پروری کا محکمہ ، ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشاورت سے وقتاً فوقتاً ماہی گیری کے شعبے  میں استحکام اور پائیداری میں اضافے کے لیے ضروری اقدامات کرتا ہے۔ حکومت ہند کے محکمہ ماہی پروری کے ذریعے نافذ کی جانے والی پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) میں دیگر امور کے علاوہ  ، وسائل کے پائیدار استعمال، جدید ساحلی ماہی گیر بستیوں کی ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچکدار بستیوں کی ترقی سے متعلق اقدامات کا تصور کیا گیا ہے۔ ممکنہ ماہی گیری زون (پی ایف زیڈ) آلات کی خریداری، ماہی گیری پر پابندی کے دوران روزی روٹی معاونت، فعال ماہی گیروں کے لیے اجتماعی حادثاتی بیمہ کوریج، اضافی اور متبادل روزگار کی سرگرمیوں جیسے سمندری زراعت بشمول سمندری گھاس کی کاشت، دو صدفی کی کاشت، کھلے سمندر میں کیج کلچر، آرائشی ماہی گیری، مچھلی منڈیاں اور کیوسک، کولڈ چین سہولیات، زندہ مچھلی فروخت مراکز، ضرورت پر مبنی تربیت اور ہنر مندی کے فروغ کے پروگرام وغیرہ کے لیے بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ان میں سے متعدد اقدامات کیرالہ کے لیے پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں، جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس سے روزی روٹی کو  مستحکم کرنے، موسمیاتی لچک کو فروغ دینے اور پائیداری کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

حکومت کیرالہ نے مزید مطلع کیا ہے کہ وہ ماہی پروری  کے محکمے اور متعلقہ اداروں کے ذریعے مختلف اقدامات نافذ کر رہی ہے، جن میں روزی روٹی معاونت کی اسکیمیں، پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کا فروغ، ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں تنوع، وسائل کے تحفظ سے متعلق اقدامات اور ماہی گیر برادریوں کی موسمیاتی لچک میں اضافے کے مقصد سے پروگرام شامل ہیں۔

****

) ش ح – ا ع خ      -  ع ا )

U.No. 846


(रिलीज़ आईडी: 2291071) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Malayalam