وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم ایم ایس وائی کے تحت اندرون ملک ماہی گیری کا بنیادی ڈھانچہ

प्रविष्टि तिथि: 28 JUL 2026 4:09PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری  کی وزارت کےتحت محکمۂ ماہی پروری، مالی سال21-2020 سے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس اسکیم کی مجموعی لاگت 20,750 کروڑ روپے ہے، جس کا مقصد اتر پردیش سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ماہی پروری کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔سال21-2020  سے اب تک ماہی پروری کی مجموعی ترقی، بشمول بنیادی ڈھانچے جیسے تالاب، آبی ذخائر، ہیچریز (مچھلی کی ا فزائش گاہیں)، فیڈ ملز اور کولڈ چین سہولیات کے لیے منظور کیے گئے منصوبوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

مزید برآں، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت محکمۂ ماہی پروری نے حکومتِ اتر پردیش کی ماہی پروری کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز کو منظوری دی ہے، جن کی مجموعی لاگت 1,294.32 کروڑ روپے ہے۔ اس میں مرکزی حکومت کی مالی ذمہ داری 412.30 کروڑ روپے بنتی ہے۔ مرکزی حصے کے طور پر اب تک ریاست میں ماہی پروری کی ترقی کے لیے 336.61 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 316.61 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔حکومتِ اتر پردیش کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کا نفاذ ریاست کے تمام اضلاع، بشمول مشرقی اتر پردیش کے علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت سائنسی بنیادوں پر آبی زراعت، مربوط مچھلی پروری، تالابوں کی ترقی، ہیچریز (مچھلی کی ا فزائش گاہیں)، آبی ذخائر، فیڈ ملز، کولڈ چین انفراسٹرکچر، بایو فلاک ٹیکنالوجی، ری سرکیولیٹری آبی زراعتی نظام (آر اے ایس)، کیج کلچر اور ریاستی حکومت کی ضروریات کے مطابق ماہی پروری کے دیگر جدید اقدامات کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔مزید برآں، مشرقی اتر پردیش میں ماہی پروری کو فروغ دینے کے مقصد سے چندولی ضلع میں جدید سہولیات سے آراستہ ایک تھوک مچھلی بازار تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مشرقی اتر پردیش میں آبی زراعت کی تیز رفتار ترقی کے لیے سدھارتھ نگر ضلع میں پنگاسیئس مچھلی کی پرورش کے ایک کلسٹر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

 (ڈی) حکومت پی ایم ایم ایس وائی کے تحت مختلف اقدامات کے ذریعے مچھلی کی پیداوار اور ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافے کو فروغ دے رہی ہے ، جس میں آبی زراعت کی توسیع ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، جدید ٹیکنالوجیز ، فصل کے بعد کے انتظام ، کولڈ چین کی سہولیات ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ سے روابط شامل ہیں ۔  ان مداخلتوں نے اتر پردیش سمیت ملک میں ماہی گیری کے شعبے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔  پی ایم ایم ایس وائی کے نفاذ کی مدت کے دوران ، ملک میں ماہی گیری کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی ریکارڈ کی گئی ہے ، جس میں20-2019 میں 141.64 لاکھ ٹن سے سالانہ مچھلی کی پیداوار بڑھ کر 2024-25 میں 197.97 لاکھ ٹن ہو گئی ہے ، ماہی گیری کی برآمدات20-2019 میں 46,662.85 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 2025-26 میں 73,890 کروڑ روپئے ہو گئی ہے ، فی کس مچھلی کی کھپت 5-6 کلوگرام سے بڑھ کر 12-13 کلوگرام ہو گئی ہے اور آبی زراعت کی پیداواری صلاحیت 3 ٹن فی ہیکٹر سے بڑھ کر 4.7 ٹن فی ہیکٹر ہو گئی ہے ۔  توقع ہے کہ ان اقدامات سے ماہی گیری کی ترقی کو مزید تقویت ملے گی اور اتر پردیش کے مشرقی علاقے میں ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کی روزی روٹی اور آمدنی میں بہتری آئے گی ۔

یہ معلومات ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دی ۔

ضمیمہ-I

28 جولائی 2026 کو جواب دینے کے لیے ‘پی ایم ایم ایس وائی کے تحت اندرون ملک ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے’سے متعلق بیان:  2020-21 سے 2025-26 تک گزشتہ چھ برسوں کے دوران پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت جاری کئے گئے منظور شدہ پروجیکٹوں ، مرکزی فنڈ کی ریاست وار مجموعی تفصیلات ۔

 

نمبرشمار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کانام

پروجیکٹ  کی لاگت

مرکزی حصہ

ریاست کا حصہ

مستفید ہونے والا حصہ

جاری کردہ مرکزی فنڈ

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

269.84

245.33

0.00

24.51

17.09

2

آندھرا پردیش

2,328.89

681.38

1,213.59

433.92

444.95

3

اروناچل پردیش

230.31

159.18

17.68

53.45

127.09

4

آسام

541.63

298.44

40.49

202.70

218.51

5

بہار

579.62

193.12

131.25

255.25

121.93

6

چھتیس گڑھ

956.86

321.01

216.91

418.95

272.37

7

دہلی

5.33

2.86

0.00

2.47

1.63

8

گوا

147.24

72.19

48.13

26.92

53.05

9

گجرات

910.75

346.74

231.16

332.85

173.35

10

ہریانہ

760.87

262.16

192.54

306.17

162.75

11

ہماچل پردیش

156.03

79.93

9.58

66.52

78.91

12

جموں و کشمیر

154.57

81.43

0.00

73.14

79.61

13

جھارکھنڈ

472.63

166.58

111.05

195.00

118.50

14

کرناٹک

1,053.60

380.32

291.54

381.75

328.29

15

کیرالہ

1,329.63

570.49

447.98

311.16

432.22

16

لداخ

33.49

20.10

0.00

13.40

12.17

17

لکشدیپ

62.45

44.22

0.00

18.24

14.42

18

مدھیہ پردیش

910.81

305.51

206.50

398.80

292.27

19

مہاراشٹر

1,601.44

593.33

510.97

497.14

392.11

20

منی پور

201.82

95.84

10.65

95.32

29.92

21

میگھالیہ

132.62

74.26

8.25

50.12

65.44

22

میزورم

154.17

85.61

10.35

58.21

83.52

23

ناگالینڈ

168.33

109.56

12.17

46.60

89.17

24

اوڈیشہ

1,301.19

484.66

467.42

349.11

361.35

25

پڈوچیری

351.26

296.44

0.00

54.82

92.40

26

پنجاب

162.23

46.96

31.31

83.95

29.46

27

راجستھان

70.38

24.53

16.72

29.13

8.90

28

سکم

83.68

51.70

5.77

26.22

43.98

29

تمل ناڈو

1,236.21

474.99

488.36

272.85

223.02

30

تلنگانہ

353.02

112.69

83.01

157.33

41.19

31

دادر اورنگرحویلی اور دمن اور دیو

135.17

132.44

0.00

2.73

1.79

32

تریپورہ

262.93

150.60

17.49

94.85

91.45

33

اتر پردیش

1,294.32

412.30

286.80

595.22

336.61

34

اتراکھنڈ

317.25

170.20

18.92

128.13

166.68

35

مغربی بنگال

546.38

223.19

148.79

174.41

87.04

اے

کل(سی یس ایس)

19,276.97

7,770.28

5,275.37

6,231.33

5,093.16

بی

سی ایس

2,117.90

1,740.61

0.00

377.29

1,019.96

اے+بی

کل

(سی ایس ایس + سی ایس)

21,394.88

9,510.89

5,275.37

6,608.62

6,113.12

***

ش  ح۔ ش ت- ف ر

Uno-827                                                                                                                                             


(रिलीज़ आईडी: 2290940) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी