زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
ایم آئی ڈی ایچ کے تحت کسانوں کی معاونت
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 6:17PM by PIB Delhi
حکومت ملک میں باغبانی کے شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے باغبانی کی مربوط ترقی کے مشن (ایم آئی ڈی ایچ) پر عمل درآمد کر رہی ہے، جو ایک مرکزی حکومت کے تعاون سے چلنے والی اسکیم ہے۔
اس اسکیم کے تحت کسانوں کو محفوظ کاشت کی جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں مدد دینے کے لیے ادارہ جاتی، تکنیکی اور زرعی توسیعی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ سہولت ریاستی باغبانی مشنوں، تکنیکی معاونتی گروپوں، دقیق کاشت کاری کے ترقیاتی مراکز، مراکزِ امتیاز، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے اداروں، ریاستی زرعی جامعات، کرشی وگیان کیندروں اور دیگر تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔
قومی باغبانی بورڈ بھی صاف اور صحت مند پودا پروگرام اور باغبانی کلسٹر ترقیاتی پروگرام جیسے منصوبوں کے ذریعے ادارہ جاتی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔
ایم آئی ڈی ایچ کے تحت قائم کیے گئے اعلی درجے کے مراکز، نمائشی اور تربیتی مراکز کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں اور محفوظ کاشت کے لیے اعلیٰ معیار کے پودے اور سبزیوں کی نرسریاں فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس وقت بھارت–اسرائیل تعاون، بھارت–نیدرلینڈز تعاون اور مختلف تحقیقی اداروں کے اشتراک سے 61 فصلوں سے متعلق مخصوص مراکزِ امتیاز قائم کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، انسانی وسائل کی ترقی کے جزو کے تحت کسانوں اور فیلڈ عملے کے لیے عملی مظاہروں، صلاحیت سازی اور تربیتی پروگراموں کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
باغبانی کی مربوط ترقی کے مشن کی عملی رہنما ہدایات میں غیر سرکاری تنظیموں یا نجی شعبے کے اداروں کی شمولیت کے لیے کوئی مخصوص انتظام موجود نہیں ہے۔ تاہم، مشن انتظامی جزو کے تحت ریاستی باغبانی مشنوں کو ان کی سالانہ مجموعی مالی تخصیص کا 2.5 فیصد حصہ ریاستی اور ضلعی سطح پر مختلف انتظامی اور عملی سرگرمیوں کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔
باغبانی کی مربوط ترقی کے مشن (ایم آئی ڈی ایچ) کے تحت محفوظ کاشت کے لیے ادارہ جاتی معاونتی نظام کو مضبوط بنانے کی غرض سے دقیق کاشت کاری ترقیاتی مراکز، مراکزِ امتیاز، ریاستی باغبانی مشنوں، قومی باغبانی بورڈ، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے اداروں، ریاستی زرعی جامعات اور کرشی وگیان کیندروں کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، ایم آئی ڈی ایچ کے تحت محفوظ کاشت کے ڈھانچوں کی تعمیر کے لیے مالی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے، جن میں پولی ہاؤس، شیڈ نیٹ ہاؤس، پلاسٹک نان وووین کلاتھ ٹنل ، واک ان ٹنلس وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، محفوظ کاشت کو تجارتی پیمانے پر فروغ دینے کے لیے قومی باغبانی بورڈ کے ذریعے مربوط تجارتی باغبانی پیداوار اور پروسیسنگ منصوبوں کے قیام کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ان منصوبوں میں پودے لگانے کے مواد، شجرکاری، آبپاشی، کھاد کے محلول کے ذریعے غذائی فراہمی، مشینی کاری وغیرہ جیسے اجزا شامل ہوتے ہیں۔
یہ معلومات زراعت اور کسان بہبود کے وزیر مملکت جناب رامناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ع و ۔ ن م۔
U-832
(रिलीज़ आईडी: 2290930)
आगंतुक पटल : 4