بھاری صنعتوں کی وزارت
بھارت میں (ہائبرڈ اور) الیکٹرک گاڑیوں کو تیزی سے اپنانے اور مینوفیکچرنگ (فیم انڈیا) اسکیم – مرحلہ دوم
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 6:47PM by PIB Delhi
(الف): جی ہاں۔
(ب): وزارتِ بھاری صنعت کے زیرِ غور اس وقت کوئی قومی الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی یا قومی فریم ورک موجود نہیں ہے۔
(ج) اور (د): چونکہ حصہ (ب) کا جواب نفی میں ہے، اس لیے یہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔
(ہ): ملک بھر میں متوازن اور مربوط الیکٹرک وہیکل ماحولیاتی نظام (ای وی ایکو سسٹم) کی ترقی کے لیے حکومت درج ذیل اسکیمیں نافذ کر رہی ہے:
(i) فیم انڈیا اسکیم – مرحلہ دوم:حکومت نے اس اسکیم کو یکم اپریل 2019 سے 31 مارچ 2024 تک پانچ سال کی مدت کے لیے 11,500 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ نافذ کیا۔اس کے تحت:الیکٹرک دو پہیہ، تین پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کی خرید پر مالی ترغیب دی گئی۔الیکٹرک بسوں اور عوامی ای وی چارجنگ اسٹیشنوں (ای وی پی سی ایس) کے قیام کے لیے گرانٹ فراہم کی گئی۔فیم-II کے تحت:تقریباً 16.72 لاکھ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کو مالی معاونت دی گئی۔30 جون 2026 تک 5,197 الیکٹرک بسیں تعینات کی جا چکی ہیں۔ملک بھر میں عوامی چارجنگ اسٹیشنوں کے قیام کے لیے 912.50 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
(ii) آٹوموبائل اور آٹو پرزہ جات کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی-آٹو):حکومت نے 23 ستمبر 2021 کو 25,938 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کا اعلان کیا تاکہ الیکٹرک گاڑیوں سمیت جدید آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (اےاے ٹی) مصنوعات کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
(iii) جدید کیمیائی سیل (اے سی سی) بیٹری ذخیرہ کرنے کے قومی پروگرام کے لیے پی ایل آئی اسکیم:حکومت نے 9 جون 2021 کو 18,100 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ یہ اسکیم متعارف کرائی۔اس کا مقصد ملک میں 50 گیگا واٹ گھنٹہ صلاحیت کی جدید کیمیائی سیل بیٹریوں کی مسابقتی گھریلو مینوفیکچرنگ کا نظام قائم کرنا ہے۔(iv) پی ایم الیکٹرک ڈرائیو ریولوشن اِن انوویٹو وہیکل اینہانسمنٹ ( پی ایم ای- ڈرائیو) اسکیم29 ستمبر 2024 کو 10,900 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کا اعلان کیا گیا۔اس کے تحت:تقریباً 28.30 لاکھ الیکٹرک گاڑیوں (دو پہیہ، تین پہیہ، ٹرک، بسیں اور ایمبولینسیں) کو مراعات دی جائیں گی۔عوامی چارجنگ اسٹیشنوں کے لیے گرانٹ اور ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔مزید برآں:14,028 الیکٹرک بسوں کی تعیناتی کے لیے 4,391 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ان میں سے 13,800 بسیں سات بڑے شہروں — دہلی، بنگلورو، حیدرآباد، ممبئی، احمد آباد، پونے اور سورت — کے لیے مختص کی گئی ہیں۔جموں و کشمیر کے لیے 200 الیکٹرک بسوں کی منظوری دی گئی ہے۔ملک بھر میں عوامی چارجنگ اسٹیشنوں کے قیام کے لیے 2,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
(v) پی ایم ای بس سیوا – ادائیگی تحفظی نظام (پی ایس ایم) اسکیم:یہ اسکیم 28 اکتوبر 2024 کو 3,435.33 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ متعارف کرائی گئی۔اس کا مقصد:38,000 سے زائد الیکٹرک بسوں کی تعیناتی میں مدد فراہم کرنا۔اگر عوامی ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (پی ٹی ایز) ادائیگی میں ناکام رہیں تو الیکٹرک بس آپریٹروں کو ادائیگی کا تحفظ فراہم کرنا۔
(vi) بھارت میں الیکٹرک مسافر کاروں کی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی اسکیم ( پی ایم ای پی سی آئی):یہ اسکیم 15 مارچ 2024 کو الیکٹرک کاروں کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرائی گئی۔اس کے تحت درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ:کم از کم 4,150 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کریں۔تیسرے سال کے اختتام تک کم از کم 25 فیصد مقامی ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) حاصل کریں۔پانچویں سال کے اختتام تک کم از کم 50 فیصد مقامی ویلیو ایڈیشن حاصل کریں۔
اس کے علاوہ حکومتِ ہند نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے درج ذیل اقدامات بھی کیے ہیں:
- الیکٹرک گاڑیوں اور ان کے چارجرز/چارجنگ اسٹیشنوں پر جی ایس ٹی کو کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
- وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نے اعلان کیا ہے کہ بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو سبز رنگ کی رجسٹریشن نمبر پلیٹیں دی جائیں گی اور انہیں پرمٹ کی شرائط سے استثنا حاصل ہوگا۔
- وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نے ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر روڈ ٹیکس میں رعایت دی جائے تاکہ ان کی ابتدائی خریداری کی لاگت کم ہو سکے۔
******
(ش ح ۔ ش ت ۔ م ا)
UR. No-816
(रिलीज़ आईडी: 2290858)
आगंतुक पटल : 5