دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لکھپتی دیدی پہل قدمی کے تحت لائحہ عمل

प्रविष्टि तिथि: 28 JUL 2026 6:30PM by PIB Delhi

لکھپتی دیدی پہل قدمی دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کا ایک نتیجہ ہے، جو کہ ایک مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم ہے جسے وزارت کی طرف سے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (چنڈی گڑھ اور دہلی کے علاوہ) کی شراکت داری سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں غریب دیہی خاندانوں کے روزگار کو بہتر بنانا اور ان کی سماجی و مالیاتی شمولیت کے لیے دیہی خاندانوں کو سیلف ہیلپ گروپس میں منظم کرنا ہے۔

لکھپتی دیدی پہل پہل قدمی کا مقصد سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو بااختیار اور اس قابل بنانا ہے کہ وہ کم از کم چار زرعی موسموں اور/یا کاروباری چکروں کے دوران پائیدار بنیادوں پر سالانہ کم از کم ایک لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کر سکیں۔

ڈے-این آر ایل ایم کے تحت، ملک بھر میں 10.08 کروڑ دیہی خاندانوں کو تقریباً 92 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس میں منظم کیا گیا ہے۔ آج کی تاریخ تک، 3.46 کروڑ سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپ کی خواتین ممبران کو 'لکھپتی دیدی' کے طور پر بااختیار بنایا جا چکا ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش میں، 23,67,520 سیلف ہیلپ گروپ ممبران کو 'لکھپتی دیدی' بنایا گیا ہے، جن میں ضلع چھندواڑہ کی تقریباً 46,000 سیلف ہیلپ گروپ ممبران بھی شامل ہیں۔

ڈی اے وائی-این آر ایل ایم 'اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام' (ایس وی ای پی) کے ذریعے مدھیہ پردیش سمیت ملک بھر میں کاروباری معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یہ ڈی اے وائی-این آر ایل ایم پروگرام کے تحت ایک ذیلی اسکیم ہے جو سیلف ہیلپ گروپس اور ان کے خاندان کے ارکان کو غیر زرعی شعبے میں چھوٹے کاروبار قائم کرنے میں مدد اور سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیم 'کمیونٹی ریسورس پرسن فار انٹرپرائز پروموشن' (سی آر پی- ای پی) کے ذریعے تربیت اور مسلسل رہنمائی، 'کمیونٹی انٹرپرائز فنڈ' (سی ای ایف) کے ذریعے مالی مدد، اور متعلقہ شعبے و کاروبار سے متعلق رہنمائی فراہم کر کے کسی بھی بلاک میں کاروبار کا ایک سازگار ماحول تیار کرتی ہے۔ جون 2026 تک، ایس وی ای پی کے تحت ملک بھر میں 4.32 لاکھ کاروباری اداروں کی مدد کی جا چکی ہے، جن میں مدھیہ پردیش کے 30,573 کاروباری ادارے بھی شامل ہیں۔

ڈی اے وائی - این آر ایل ایم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کے ذریعے قرض اور مائیکرو فنانس کی سہولیات تک رسائی بھی فراہم کر رہا ہے، جو کہ درج ذیل ہیں:

 سیلف ہیلپ گروپس کو 'ریوالونگ فنڈ' اور 'کمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ'  کی شکل میں فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ ایک بنیادی فنڈ بنانے میں ان کی مدد کی جا سکے، جس سے سیلف ہیلپ گروپ کے ارکان مختلف مقاصد کے لیے قرض حاصل کر سکتے ہیں۔

 رعایتی شرحِ سود پر قرض حاصل کرنے کے لیے سیلف ہیلپ گروپس کو بینکوں کے ساتھ جوڑنے کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ سال 14-2013 سے لے کر اب تک، سیلف ہیلپ گروپس کو 13.41 لاکھ کروڑ روپے کے بینک قرض تک رسائی میں مدد فراہم کی جا چکی ہے۔

سیلف ہیلپ گروپ کے ارکان کو اکاؤنٹنگ، ریکارڈ کیپنگ، بجٹ سازی، اور لون مینجمنٹ وغیرہ سے متعلق تربیت کے ذریعے مالیاتی خواندگی کی مہارتیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔

ڈی اے وائی-این آر ایل ایم ایک جامع برانڈنگ اور مارکیٹنگ ایکو سسٹم کے ذریعے مدھیہ پردیش سمیت تمام ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سیلف ہیلپ گروپس کی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ وزارت نے سیلف ہیلپ گروپس کی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے 'سارس'، 'سارس آجیویکا' اور 'آجیویکا' برانڈز کو رجسٹر کیا ہے، جبکہ 25 ریاستوں نے اپنے ریاستی سطح کے برانڈز تیار کیے ہیں، جیسے کہ اومید (مہاراشٹرا)، پلاش اور آدیوا (جھارکھنڈ)، ہمیرا (ہماچل پردیش) اور مٹھی (تمل ناڈو)۔"

مارکیٹ تک رسائی کو مزید بڑھانے کے لیے، قومی، علاقائی، ریاستی اور ضلعی سطحوں پر 'سرس میلوں' کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں ہر سال دو قومی سطح کے سرس میلے، ایک سرس فوڈ فیسٹیول اور 50 سے زیادہ ریاستی سطح کے سرس میلے شامل ہیں۔ وزارت سینٹرل دہلی میں بہترین اور منتخب شدہ سیلف ہیلپ گروپس کی مصنوعات کی فروخت کے لیے 'سرس آجیویکا گیلری' بھی چلاتی ہے، جبکہ کئی ریاستوں نے اپنے اپنے ریاستی برانڈز کے تحت مستقل ریٹیل آؤٹ لیٹس قائم کیے ہیں۔ مزید برآں، وزارت نے سیلف ہیلپ گروپس کی مصنوعات کے لیے مارکیٹ کی رسائی اور فروخت کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے 'ای-سرس' ای کامرس پلیٹ فارم تیار کیا ہے اور جی ای ایم، او این ڈی سی، ایمیزون، فلپ کارٹ، میشو اور جیو مارٹ کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

یہ جانکاری وزیر مملکت برائے دیہی ترقی ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔


**********

 

(ش ح –ا ب ن)

U.No:804


(रिलीज़ आईडी: 2290800) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी