کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے مقامی پوٹاش کی پیداوار اور متبادل غذائی ذرائع کا فروغ
شیرے (مولاسس) سے حاصل کردہ پوٹاشیم (پی ڈی ایم) کو غذائی اجزا پر مبنی سبسڈی اسکیم کے تحت ترغیب دی جا رہی ہے
خود کفالت کو مضبوط بنانے کے لیے جی ایس آئی نے پوٹاش کی تلاش کے عمل میں تیزی لائی ہے، جبکہ آئی سی اے آر نے پوٹاش پر مبنی حیاتیاتی کھادیں تیار کی ہیں
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 5:45PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے مقامی سطح پر پوٹاش کی پیداوار کو فروغ دینے اور پائیدار متبادل ذرائع کو ترقی دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں تاکہ درآمدی پوٹاش کھادوں پر ملک کا انحصار کم کیا جا سکے۔ ان اقدامات میں گنے کے شیرے (مولاسس) سے حاصل کردہ پوٹاشیم (پی ڈی ایم) کے استعمال کی حوصلہ افزائی، ملک میں پوٹاش کی تلاش میں تیزی لانا، اور سائنسی تحقیق و تکنیکی مداخلت کے ذریعے پوٹاش پر مبنی حیاتیاتی کھادوں (بایوفرٹیلائزرز) کو فروغ دینا شامل ہے۔
مولاسس سے حاصل کردہ پوٹاشیم (پی ڈی ایم) چینی کی صنعت کی ایک ضمنی پیداوار ہے۔ اس میں کم از کم 14.5 فیصد پوٹاش موجود ہوتا ہے اور کسان اسے کھیتوں میں میوریٹ آف پوٹاش (ایم او پی) کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، جس میں 60 فیصد پوٹاش ہوتا ہے۔ اس طرح پی ڈی ایم درآمدی پوٹاش پر انحصار کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم کو سال 2009 میں فرٹیلائزر کنٹرول آرڈر (1985) کے تحت نوٹیفائی کیا گیا تھا، اور اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے 13 اکتوبر 2021 سے غذائی اجزا پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم میں شامل کیا گیا۔
روایتی میوریٹ آف پوٹاش (ایم او پی) کے ایک پائیدار، ماحول دوست اور کم لاگت متبادل کے طور پر پی ڈی ایم کی تیاری اور کسانوں کو اس کی دستیابی کو فروغ دینے کے لیے خریف 2026 کے موسم کے لیے 345 روپے فی ٹن سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، پی ڈی ایم کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے محکمہ خوراک و عوامی تقسیم، محکمہ کھاد، انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (آئی ایس ایم اے) اور کھاد ساز کمپنیوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) تشکیل دیا گیا ہے۔
قومی اہم معدنیات مشن (این سی ایم ایم) کے مقاصد سے ہم آہنگ رہتے ہوئے ملک میں پوٹاش کی مقامی تلاش کو فروغ دینے کے لیے جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے اپنی تلاش کی سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے، جس میں خاص توجہ اہم معدنیات کی تلاش پر مرکوز ہے۔ 2024-25 میں این سی ایم ایم کے آغاز کے بعد جی ایس آئی نے راجستھان اور پنجاب میں پوٹاش کی تلاش کے 8 منصوبے شروع کیے۔ اس کے علاوہ، 2026-27 کے دوران جی ایس آئی نے راجستھان اور پنجاب میں پوٹاش کی تلاش کے 6 مزید معدنیاتی منصوبے شروع کیے۔ مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی ایکٹ، 2015 کے نفاذ کے بعد سے جی ایس آئی نے راجستھان اور پنجاب میں مختلف معیار اور مختلف کٹ آف درجات پر 456.52 ملین ٹن پوٹاش کے وسائل کی نشاندہی کی ہے۔
مقامی اور متبادل غذائی ذرائع کے ذریعے پوٹاش کی پیداوار میں خود کفالت کو فروغ دینے کے لیے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) نے ایسے خرد حیاتیات کی شناخت کی ہے جو پوٹاش کو حل پذیر بناتے ہیں۔ ان خرد حیاتیات کو پوٹاش بایوفرٹیلائزر کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ مٹی میں قدرتی طور پر موجود پوٹاش کی دستیابی بہتر ہو اور درآمدی پوٹاش کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔
کیمیکل اور کھاد کی وزارت میں وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
28-07-2026
U: 792
(रिलीज़ आईडी: 2290740)
आगंतुक पटल : 8