امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انصاف پر مبنی نظام

प्रविष्टि तिथि: 28 JUL 2026 3:14PM by PIB Delhi

نئی سنہتائیں ایک شہری مرکوز، زیادہ قابل رسائی اور مؤثر انصاف کے نظام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ نئی سنہتاؤں میں کیے گئے وہ اہم دفعات، جن کا مقصد سزا دینے کے بجائے انصاف کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنا ہے، ضمیمے میں دی گئی ہیں۔

بھارتیہ نیائے سنہتا-2023 میں نابالغ کے ساتھ عصمت دری کے جرم کے لیے سزائے موت تک کی سخت سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ نابالغ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا جرم عمر قید یا سزائے موت کا مستوجب ہوگا۔

نئی سنہتاؤں میں شامل وہ اہم دفعات کی تفصیلات، جن کا مقصد سزا کے بجائے انصاف کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنا ہے:

 (الف) متاثرہ فرد پر مرکوز دفعات

  1. واقعات کی آن لائن رپورٹنگ: اب کوئی بھی شخص الیکٹرانک ذرائع سے واقعات کی رپورٹ درج کرا سکتا ہے، جس کے لیے پولیس اسٹیشن میں ذاتی طور پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے رپورٹ درج کرانے کا عمل آسان اور تیز ہوگا اور پولیس کو فوری کارروائی کرنے میں سہولت ملے گی۔
  2. کسی بھی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرانا: زیرو ایف آئی آر کے آغاز کے بعد کوئی بھی شخص دائرۂ اختیار سے قطع نظر کسی بھی پولیس اسٹیشن میں  فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرا سکتا ہے۔ اس سے قانونی کارروائی شروع کرنے میں تاخیر ختم ہوگی اور جرم کی فوری رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
  • iii. ایف آئی آر کی مفت نقل:متاثرہ شخص کو ایف آئی آر کی مفت نقل حاصل کرنے کا حق ہوگا، جس سے قانونی عمل میں اس کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے گی۔
  1. گرفتاری کے وقت اطلاع دینے کا حق: گرفتاری کی صورت میں متعلقہ شخص کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی صورتحال کے بارے میں اپنی پسند کے کسی بھی فرد کو مطلع کر سکے۔ اس سے گرفتار شخص کو فوری مدد اور تعاون حاصل ہو سکے گا۔
  2. گرفتاری کی معلومات کی نمائش: اب ہر پولیس اسٹیشن اور ضلع میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے عہدے سے کم رینک کا نہ ہونے والا ایک مقررہ پولیس افسر تعینات ہوگا اور تمام گرفتار افراد کی معلومات ہر پولیس اسٹیشن میں نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں گی۔ اس سے ملزمان کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور پولیس کی جانب سے حراستی تشدد اور غیر قانونی حراست کے واقعات میں کمی آئے گی۔
  3. متاثرین کو مقدمے کی پیش رفت سے آگاہی: متاثرہ افراد کو اپنے مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں 90 دن کے اندر معلومات حاصل کرنے کا حق ہوگا۔ یہ شق متاثرین کو قانونی عمل سے باخبر رکھنے اور اس میں شامل رکھنے کے ساتھ ساتھ شفافیت اور اعتماد کو بھی فروغ دے گی۔
  4. پولیس رپورٹ اور دیگر دستاویزات کی فراہمی: ملزم اور متاثرہ شخص دونوں کو ایف آئی آر، پولیس رپورٹ/چارج شیٹ، بیانات، اعترافات اور دیگر دستاویزات کی نقول 14 دن کے اندر فراہم کرنے کا حق ہوگا۔
  5. گواہوں کے تحفظ کا منصوبہ: نئے قوانین کے تحت تمام ریاستی حکومتوں کے لیے گواہوں کے تحفظ کا منصوبہ نافذ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ گواہوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سے قانونی کارروائی کی ساکھ اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا۔
  6. پولیس اسٹیشن جانے سے استثنیٰ:خواتین، 15 سال سے کم عمر افراد، 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد، معذور افراد اور شدید بیماری میں مبتلا افراد کو پولیس اسٹیشن میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
  7. متاثرہ شخص کو سنے جانے کا حق: بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 360 کے تحت مقدمہ واپس لینے سے قبل متاثرہ شخص کو سنا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ متاثرہ شخص کو سنے جانے کے حق کو قانونی منظوری دینا فوجداری انصاف کے نظام میں نیائے مرکوز طریق کارکی ایک اہم مثال ہے۔ مقدمات واپس لینے سے متعلق کارروائی میں متاثرہ شخص کی رائے کو لازمی طور پر شامل کرنے سے انصاف کا نظام جرم سے براہ راست متاثر ہونے والے افراد کی ضروریات اور خدشات کے تئیں زیادہ جواب دہ بن جاتا ہے۔

 (ب) مقررہ مدتیں

  1. تیز تر اور منصفانہ انصاف کی فراہمی: نئے قوانین مقدمات کے جلد اور منصفانہ فیصلے کو یقینی بناتے ہیں، جس سے عوام کا قانونی نظام پر اعتماد مضبوط ہوگا۔ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے اہم مراحل کے لیے واضح مدتیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں ابتدائی جانچ (14 دن کے اندر)، مزید تفتیش (90 دن کے اندر)، متاثرہ شخص اور ملزم کو دستاویزات کی فراہمی (14 دن کے اندر)، مقدمے کو سماعت کے لیے عدالت کے سپرد کرنا (90 دن کے اندر)، بریت کی درخواست دائر کرنا (60 دن کے اندر)، الزامات عائد کرنا (60 دن کے اندر)، فیصلہ سنانا (45 دن کے اندر) اور رحم کی درخواست دائر کرنا (گورنر کے سامنے 30 دن کے اندر اور صدرِ جمہوریہ کے سامنے 60 دن کے اندر) شامل ہیں۔ ان تمام مراحل کو منظم کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  2. خواتین اور بچوں سے متعلق جرائم کی تیز رفتار تفتیش: نئے قوانین میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی تفتیش کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ اطلاع درج ہونے کے دو ماہ کے اندر تفتیش مکمل کی جا سکے۔
  • iii. التوا کی محدود گنجائش: غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے عدالتیں کسی مقدمے میں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ہی التوا دے سکیں گی، تاکہ بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

 (ج) اصلاحی نقطۂ نظر

 (i) سماجی خدمت: نئے قوانین کے تحت معمولی نوعیت کے جرائم پرسماجی خدمت کی سزا متعارف کرائی گئی ہے۔ اس سے مجرموں کو معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور معاشرے کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کا موقع ملے گا۔

 (ii) خلاصہ سماعت کے دائرۂ کار میں توسیع: خلاصہ سماعت کے دائرۂ کار کو مزید جرائم تک وسیع کر دیا گیا ہے، تاکہ مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ ممکن بنایا جا سکے۔

 (د) ملزم کے حقوق

صرف عدالتی کارروائی شروع کرنے کے مقصد سے کسی شخص کی من مانی گرفتاری پر روک لگا دی گئی ہے۔ اب پولیس کے لیے صرف اس غرض سے ملزم کو گرفتار کرنا ضروری نہیں ہوگا کہ مجسٹریٹ پولیس رپورٹ کا نوٹس لے سکے، اور نہ ہی دستخط، تحریر، انگلیوں کے نشانات یا آواز کے نمونے حاصل کرنے کے لیے گرفتاری کی ضرورت ہوگی۔

 (ہ) ملزم کی غیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت

اشتہاری مجرم قرار دیے گئے افراد کے لیےغیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت کی نئی شق متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت عدالت ملزم کی عدم موجودگی میں بھی مقدمے کی کارروائی جاری رکھتے ہوئے فیصلہ سنا سکتی ہے۔ اس شق کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انصاف نہ تاخیر کا شکار ہو اور نہ ہی اس سے انکار کیا جائے۔

یہ معلومات وزیر مملکت، وزارت داخلہ  جناب بندی سنجے کمار نے ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح- ظ الف- ت ع

UR-739


(रिलीज़ आईडी: 2290468) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil