مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم-سواندھی اسکیم کا نفاذ

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 7:17PM by PIB Delhi

پی ایم-سوانِدھی اسکیم کا نفاذ، شروع میں قانونی طور پر تسلیم شدہ شہری علاقوں میں کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کا دائرہ بعد ازاں اردگرد کے نیم شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان گلی محلوں کے دکانداروں تک بھی بڑھا دیا گیا جو شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) کی جغرافیائی حدود کے اندر اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ ازسرِنو تشکیل دی گئی پی ایم-سوانِدھی اسکیم کے تحت اس کا دائرۂ کار مرحلہ وار تسلیم شدہ شہری علاقوں سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں مردم شماری کے تحت آنے والے قصبے، نیم شہری علاقے اور دیگر متعلقہ علاقے بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

پی ایم-سوانِدھی اسکیم کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے حیدرآباد کے انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) نے 2023 اور 2025 میں مطالعات انجام دیں۔2023 کا مطالعہ ملک بھر کے 100 شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) میں کیا گیا، جس میں5,000 سے زائد مستفید افراد شامل تھے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ 95 فیصد مستفید افراد کے لیے پی ایم-سوانِدھی اسکیم کے تحت حاصل کیا گیا قرض ان کا بینک سے لیا جانے والا پہلا قرض تھا اور انہوں نے اس قرض کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا۔2025 کا مطالعہ ملک بھر کے 99 شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) میں کیا گیا، جس میں5,000 سے زائد مستفید افراد شامل تھے۔ ان میں تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان وہی افراد تھے جو 2023 کے جائزہ مطالعات میں شامل تھے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ پی ایم-سوانِدھی قرض حاصل کرنے والوں کی اوسط سالانہ کاروباری آمدنی میں2023 سے 2025 کے درمیان تقریباً20 فیصد اضافہ ہوا۔

تمام مراحل کے قرض حاصل کرنے والوں میں سے تقریباً30 فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے پاس پی ایم-سوانِدھی قرض کے علاوہ بھی دیگر قرض موجود ہیں۔ یہ بات اس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ اسکیم ایسے خوانچہ فروشوں اور گلی محلوں کے دکانداروں کے لیے باقاعدہ قرض تک رسائی حاصل کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جن کے پاس اس سے پہلے رسمی قرض کی سہولت بہت کم یا بالکل موجود نہیں تھی۔ مزید یہ کہ مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023 سے 2025 کے درمیان گلی محلوں کے دکانداروں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کو اپنانے میں نمایاں اضافہ ہوا۔

مطالعے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس اسکیم کے اثرات صرف کاروبار کی بحالی تک محدود نہیں ہیں۔ قرض کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو کم کرکے اور گھریلو مالی حالات کو مستحکم بنا کر، اس اسکیم نے دکاندار کنبوں  کو زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے، صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے اور بچوں کی تعلیم میں معاونت فراہم کرنے کے قابل بنایا ہے۔

گلی محلوں کے دکانداروں (اسٹریٹ وینڈرز) کی شناخت ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے ان سروے کے ذریعے کی جاتی ہے جو ‘‘گلی فروشوں کے روزگار کے تحفظ اور گلی فروشی کے ضابطے سے متعلق قانون، 2014’’ کی دفعات کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔سروے کرانے، سرٹیفکیٹ آف وینڈنگ جاری کرنے اور دیگر متعلقہ امور کی ذمہ داری متعلقہ شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز)  اور ریاستی یا مرکز کے زیرانتظام علاقے کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

گزشتہ تین برسوں (مالی سال 24-2023 سے مالی سال 26-2025 تک) کے دوران کٹنی، پنا اور کھجوراہو میں جاری کیے گئے سفارشی خطوط (ایل او آر) ، مرحلہ وار طریقے سے منظور کیے گئے، قرضوں اور تقسیم کیے گئے قرضوں کی تعداد کی تفصیلات ضمیمہ۔ 1  میں فراہم کی گئی ہیں۔

دوسرے مرحلے کی قرض کی قسط واپس کرنے والے مستفید افراد کے لیے یو پی آئی سے منسلک روپے کریڈٹ کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ یو پی آئی سے منسلک روپے کریڈٹ کارڈ 23 جنوری2026 کو جاری کیا گیا تھا اور 12 جولائی2026 تک کٹنی، پنا اور کھجوراہو شہروں میں بالترتیب14،2 اور 1 کریڈٹ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔

پی ایم-سوانِدھی اسکیم کے تحت تمام گلی محلوں کے دکاندار، بشمول موسمی دکاندار، گھوم پھر کر کاروبار کرنے والے دکاندار، خواتین دکاندار اور سیاحت پر انحصار کرنے والے دکاندار شامل ہیں، بشرطیکہ وہ اسکیم کی رہنما ہدایات میں مقرر کردہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔

ریاستیں اور شہری مقامی ادارے (یو ایل بیز) اسکیم کے تحت اہل گلی محلوں کے دکانداروں کی شناخت اور نئے درخواست گزاروں کو شامل کرنے کے عمل کے ذمہ دار ہیں۔ پی ایم-سوانِدھی پورٹل کے مطابق، قرض کی منظوری میں اوسطاً 23 دن کا وقت لگتا ہے۔ اسکیم کی رسائی بڑھانے اور گلی محلوں کے دکانداروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ریڈیو پیغامات، ٹیلی وژن اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے وقتاً فوقتاً بیداری مہمات چلانا شامل ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو مقامی زبانوں میں معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) سے متعلق مواد بھی باقاعدگی سے فراہم کیا جاتا ہے، تاکہ گلی محلوں کے دکانداروں تک اسکیم کے فوائد کی رسائی اور تشہیر کو آسان بنایا جاسکے۔ریاستوں، مرکز کے زیرانتظام علاقوں، شہری مقامی اداروں اور بینکوں یا قرض فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

اس اسکیم کے تحت، گلی محلوں کے دکانداروں تک رسائی بڑھانے کے لیے ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) نے مختلف مہمات اور تقریبات کا انعقاد کیا ہے۔27 اگست 2025 کو ازسرِنو تشکیل دی گئی پی ایم-سوانِدھی اسکیم کی منظوری کے بعد، 17 ستمبر 2025 سے 15 اکتوبر 2025 تک شہری مقامی اداروں(یو ایل بیز) میں ‘‘لوک کلیان میلوں’’  کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ 3 نومبر 2025 سے 2 دسمبر 2025 تک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خصوصی مہم بھی چلائی گئی، جس کا مقصد بینکوں اور شہری مقامی اداروں دونوں سطحوں پر زیرالتوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانا تھا۔شہری مقامی ادارے، ڈیجیٹل ادائیگی کے سہولت کار اداروں (ڈی پی اے) کے تعاون سے، ڈیجیٹل خواندگی کے کیمپ بھی باقاعدگی سے منعقد کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل نظام میں شمولیت بڑھانے اور گلی محلوں کے دکانداروں میں نقدی کے بغیر ادائیگی کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے مستفید افراد کو نقد واپسی (کیش بیک) کی ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں۔وزارت کی جانب سے 1 جون سے 30 جون 2026 تک ملک گیر خصوصی مہم بھی شروع کی گئی، جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں ‘‘سوانِدھی مہوتسو’’ اور ‘‘لوک کلیان میلے’’ شامل تھے۔ ان میلوں کے ذریعے اسکیم کی نئی خصوصیات کو اجاگر کیا گیا اور دکانداروں کو متحرک کرنے، قرض کی درخواستیں جمع کرانے، قرض کی جلد تقسیم اور مستفید افراد کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے میں معاونت فراہم کی گئی۔

مزید برآں، وزارت نے پی ایم۔سوانِدھی اسکیم کے تحت ‘‘اسٹریٹ فوڈ ہبز’’ (گلی محلوں کے کھانے کے مقامات) کی ترقی کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایسے بہتر منصوبہ بند، محفوظ اور پُررونق کاروباری مقامات قائم کرنا ہے جہاں خاص طور پر عوامی آمد و رفت اور سیاحوں کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں دکانداروں کے لیے مناسب فروخت کاری کی سہولیات دستیاب ہو سکیں۔

یہ معلومات ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت جناب توکھن ساہو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

ضمیمہ-1

پی ایم-سوانِدھی اسکیم کے تحت گزشتہ تین برسوں (مالی سال 24-2023 سے مالی سال 26-2025 تک) کے دوران کٹنی، پنا اور کھجوراہو میں جاری کیے گئے سفارشی خطوط،(ایل او آر)مرحلہ وار منظور کیے گئے قرضوں اور تقسیم کیے گئے قرضوں کی تعدادکی تفصیلات ضمیمہ میں درج ہیں۔

شہر

ایل او آر جاری

قرض کی منظوریاں

ادا کیے گئے قرض

پہلی قسط

دوسری قسط

تیسری قسط

پہلی قسط

دوسری قسط

تیسری قسط

کٹنی

1,999

2,684

2,804

1,233

2,765

2,846

1,221

پنا

247

351

462

385

349

471

385

کھجوراہو

280

590

405

238

585

402

236

(ڈیٹا سورس: پی ایم سواندھی پورٹل)

 

*********

 ش ح۔م م ع۔ش ت

Urdu No-721


(रिलीज़ आईडी: 2290299) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil