مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
جناب توکھن ساہو نے امرت 2.0 کے شیلو ایکویفر مینجمنٹ پروگرام کا جائزہ لیااور ‘کیچ دی رین’مہم کے تحت عوامی شمولیت بڑھانے پر زوردیا
ایس اے ایم 2.0 کے تحت 870 مقامات کی نقشہ سازی، 28 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 539 تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس (ڈی پی آر)تیار
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 8:13PM by PIB Delhi
’کیچ دی رین‘ مہم کے تحت آبی تحفظ اور شہروں میں پانی کے پائیدار انتظام کے لیے حکومت ہند کے عزم کو مزید مضبوط بناتے ہوئے، ہاؤسنگ اور شہری امورکے وزیر مملکت جناب توکھن ساہو نے آج نئی دہلی کے سنکلپ بھون میں امرت مشن کے عہدیداروں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) کے نمائندوں کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔
اجلاس کے دوران جناب ساہو نے امرت 2.0 کے تحت شالو ایکویفر مینجمنٹ (ایس اے ایم) پروگرام کے ذریعے ملک گیر ’کیچ دی رین‘ مہم میں وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کے کردار کا جائزہ لیا۔ اس پروگرام کے تحت وزارت ملک بھر کی 75 شہری مقامی اداروں (یو ایل بی) کو شہری آبی تحفظ کو مضبوط بنانے اور شہری سیلاب کے خطرات میں کمی لانے کے لیے زیر زمین پانی کی سائنسی بنیادوں پر ری چارجنگ سے متعلق منصوبہ بندی اور نفاذ میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔


میٹنگ میں ہاؤسنگ ا و رشہری امورکے وزارت کی جوائنٹ سیکریٹری محترمہ ایشا کالیا، امرت مشن کے ڈائریکٹروں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) کے پروگرام اسپیشلسٹ (آب و ماحولیات) نے شرکت کی۔ عہدیداروں نے وزیر کو 20 جولائی 2026 کو منعقدہ 75 ایس اے ایم شہروں کے قومی تبادلۂ خیال کے نتائج سے آگاہ کیا اور پروگرام پر عمل درآمد کرنے والے شہروں سے حاصل ہونے والی اہم پیش رفت اور تجربات پیش کیے۔
جناب ساہو نے ایس اے ایم 1.0 کی کامیابیوں اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کا بھی جائزہ لیا، جسے 2022 سے 2024 کے درمیان امرت کے دس شہروں میں ایک آزمائشی منصوبے کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ اس پائلٹ پروگرام نے زیر زمین پانی کے سائنسی انتظام کی مؤثریت کو ثابت کیا، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ اور پانی کے پائیدار تحفظ کے طریقوں کے بارے میں عوامی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہی کامیابیوں نے سام 2.0 کے تحت اس پروگرام کو ملک بھر میں وسعت دینے کی بنیاد فراہم کی۔
جائزے کے دوران بتایا گیا کہ ایس اے ایم 2.0 کے تحت اب تک زیرزمین پانی سے متعلق اہم خصوصیات کے لیے مجموعی طور پر 870 مقامات کی نقشہ بندی کی جا چکی ہے، جبکہ شریک شہروں میں زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ کے ڈھانچوں کے نفاذ کو ممکن بنانے کے لیے 28 کروڑ روپے سے زائد کی تخمینی لاگت والی 539 تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس (ڈی پی آرز) تیار کی جا چکی ہیں۔
پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے جناب توکھن ساہو نے اس بات پر زور دیا کہ آبی تحفظ کے حوالے سے بھارت کا نقطۂ نظر سائنسی اختراع اور روایتی حکمت، دونوں کا امتزاج ہونا چاہیے۔ انہوں نے عہدیداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ جدید زیرزمین پانی کی ری چارجنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مقامی برادریوں کی قیادت میں صدیوں سے رائج مقامی آبی تحفظ کے روایتی طریقوں کو بھی دستاویزی شکل دی جائے اور فروغ دیا جائے، جنہوں نے نسل در نسل مقامی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن پر زور دیتے ہوئے کہ پانی کا تحفظ ایک "جن آندولن" بننا چاہیے، جناب توکھن ساہو نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ زیرزمین پانی کی ری چارجنگ سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد میں مقامی برادریوں، سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی)، رہائشی فلاحی انجمنوں (آر ڈبلیو اے)، تعلیمی اداروں اور دیگر نچلی سطح کی تنظیموں کو فعال طور پر شامل کرکے عوامی شمولیت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پروگرام کی طویل مدتی پائیداری اور کامیابی کو یقینی بنانے میں عوامی شرکت اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ ایس اے ایم پروجیکٹوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شہروں کی دستاویز سازی کی جائے، بہترین طریقۂ کار پر مشتمل ایک مجموعہ تیار کیا جائے، جاری مون سون کے موسم میں زیر زمین پانی کی ری چارجنگ کے ڈھانچوں کی تعمیر میں تیزی لائی جائے، اور ایسے اختراعی اور قابل توسیع ماڈلز کی نشاندہی کی جائے جنہیں شہری بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی اپنایا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل شہروں کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جناب ساہو نے کہا کہ ایس اے ایم پروگرام کے تحت زیر زمین پانی کے سائنسی انتظام، جدید ٹیکنالوجی اور عوام کی فعال شمولیت کا امتزاج شہری آبی تحفظ کو مضبوط بنانے اور 'کیچ دی رین' مہم کے مقاصد کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔
***
)ش ح۔ش آ۔ص ج)
720: UN No
(रिलीज़ आईडी: 2290298)
आगंतुक पटल : 3