الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی مشن کے تحت "محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت" کا ستون محفوظ، منصفانہ اور ذمہ دارانہ اے آئی حل کے ذریعے شہریوں کے اعتماد کو مضبوط بنا رہا ہے
انڈیا اے آئی مشن کے تحت 13 ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے منصوبے، 58 اے آئی سنٹرز آف ایکسی لینس اور 27 انڈیا ڈیٹا و اے آئی لیبز محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت کے فروغ کو مضبوط بنا رہے ہیں
ہندوستان کا "محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت" کا ستون ذمہ دارانہ اختراع کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 4:42PM by PIB Delhi
انڈیا اے آئی مشن: ہندوستان کی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے متعلق پالیسی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ٹیکنالوجی کو عوام تک پہنچانے کے وژن پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ ممکنہ خطرات سے بھی نمٹنا ہے۔
اسی مقصد کے تحت حکومتِ ہند نے مارچ 2024 میں انڈیا اے آئی مشن کی منظوری دی، جس کے لیے پانچ برسوں میں 10,371 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاکہ ملک میں مصنوعی ذہانت کا ایک جامع اور مضبوط نظام قائم کیا جا سکے۔
اس مشن کے سات اہم ستون ہیں: انڈیا اے آئی کمپیوٹ، فاؤنڈیشن ماڈلز، اے آئی کوش، انڈیا اے آئی ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، فیوچر اسکلز، اسٹارٹ اپ فنانسنگ، اور محفوظ و قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت۔
اب تک کی پیش رفت:
اے آئی ماڈلز: حکومتِ ہند بھارتی اسٹارٹ اپس اور اداروں کو بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) تیار کرنے میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے 20 مقامی خودمختار اے آئی ماڈلز کی تجاویز منتخب کی گئی ہیں، جن میں 12 بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) اور 8 چھوٹے لینگویج ماڈلز (SLMs) شامل ہیں۔
اب تک کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہیں:
- سروَم اے آئی کے 30 ارب اور 105 ارب پیرامیٹرز والے لینگویج ماڈلز۔
- گنانی اے آئی (Gnani.AI) کا تقریر سے تقریر (Speech-to-Speech) ماڈل۔
- بھارت جین (BharatGen) کے کثیر لسانی فاؤنڈیشن ماڈلز۔
- اوتار اے آئی (Avataar AI) کا ویڈیو جنریشن ماڈل۔
اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے لیے مخصوص چھوٹے لینگویج ماڈلز (SLMs)، جن میں صحت، لسانی ٹیکنالوجی اور ایجنٹک اے آئی نظام سے متعلق خصوصی ماڈلز اور اے آئی فریم ورک شامل ہیں، تیاری اور نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔
سستی کمپیوٹنگ سہولیات:
- کمپیوٹ سروس فراہم کرنے والے 15 ادارے پینل میں شامل کیے گئے ہیں۔
- 237 منصوبوں کو معاونت فراہم کی گئی ہے۔
- مجموعی طور پر 93 لاکھ جی پی یو گھنٹے مختص کیے گئے ہیں۔
اے آئی ایپلی کیشنز کی تیاری:
- قومی سطح پر 12 ہیکاتھونز اور اختراعی چیلنجز کا آغاز کیا گیا۔
- 62 مصنوعی ذہانت کے پروٹوٹائپس کی تیاری اور 20 اے آئی حلوں کے عملی نفاذ میں معاونت فراہم کی گئی۔
صلاحیت سازی (ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ):
- ملک کے 178 تعلیمی اداروں میں انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ پروگراموں کے لیے 686 فیلوشپس دی گئی ہیں۔
- "یووا اے آئی فار آل" پروگرام 26 لاکھ سے زائد افراد کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں۔
انڈیا اے آئی لیبز:
- ملک بھر میں 27 انڈیا ڈیٹا اینڈ اے آئی لیبز قائم کی جا چکی ہیں، جہاں 2,500 سے زائد طلبہ کو تربیت دی گئی ہے۔
- مزید 188 لیبز کے قیام پر کام جاری ہے۔
اے آئی سنٹر ز آف ایکسی لینس:
- ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے 58 مصنوعی ذہانت کے سنٹر زآف ایکسی لینس قائم کیے جا رہے ہیں۔
محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت
حکومت مصنوعی ذہانت سے وابستہ ممکنہ خطرات سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔ اسی لیے انڈیا اے آئی مشن کے "محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی" ستون کا مقصد مقامی طرزِ حکمرانی کے فریم ورک، معیارات، جدید آلات اور جانچ کے مؤثر نظام کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ تیاری، مؤثر نفاذ اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا ہے۔
اس سلسلے میں ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں ذمہ دار مصنوعی ذہانتسے متعلق 13 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں تعصب کو کم کرنا، مشین اَن لرننگ ، رازداری کے تحفظ پر مبنی اے آئی، فیصلوں کی وضاحت ، ڈیپ فیک کی شناخت، اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات کا جائزہ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
اہم اقدامات:
- ساکشیہ : آئی آئی ٹی جودھپور اور آئی آئی ٹی مدراس نے مشترکہ طور پر ڈیپ فیک کی شناخت کے لیے ایک ملٹی ایجنٹ فریم ورک تیار کیا ہے۔
- اے آئی وشلیشک: آڈیو اور ویڈیو میں جعل سازی کی بہتر شناخت کے لیے ایک جدید نظام تیار کیا گیا ہے۔
- آئی آئی ٹی کھڑگ پور حقیقی وقت میں آواز پر مبنی ڈیپ فیک کی شناخت کے نظام پر کام کر رہا ہے۔
تعصب میں کمی، وضاحت پذیری، رازداری کے تحفظ اور مشین لرننگ سے متعلق منصوبوں کے مقاصد
تعصب میں کمی:
این آئی ٹی رائے پور صحت کے شعبے میں میڈیکل تصاویر کے تجزیے، طبی فیصلوں اور دیگر طبی استعمالات میں تعصب کو کم کرنے کے لیے ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے الگورتھم تیار کر رہا ہے۔
رازداری کے تحفظ اور وضاحت پذیر اے آئی:
آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ٹی دھارواڑ کے اشتراک سے فیڈریٹڈ لرننگ کی مدد سے ایسے مشین لرننگ ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں جو صارفین کی رازداری کا تحفظ بھی کریں اور اپنے فیصلوں کی وضاحت بھی کر سکیں۔
ڈیفنس انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی قومی سلامتی سے متعلق استعمالات کے لیے وضاحت پذیر اور رازداری کے تحفظ پر مبنی مصنوعی ذہانت تیار کر رہا ہے۔
مشین اَن لرننگ:
آئی آئی ٹی جودھپور ایسے طریقے تیار کر رہا ہے جن کے ذریعے جنریٹو فاؤنڈیشن ماڈلز سے غیر ضروری، حساس یا پرانی معلومات اور تصورات کو مؤثر انداز میں حذف کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر ان منصوبوں کا مقصد مصنوعی ذہانت کو زیادہ منصفانہ، شفاف، محفوظ، رازداری کا محافظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
- اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ (AI Safety Institute) قائم کیا گیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ ادارہ ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت جامعات، اسٹارٹ اپس، صنعت اور سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ اے آئی کی سلامتی، تحفظ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے۔
- انڈیا اے آئی گورننس رہنما اصول (India AI Governance Guidelines) خطرات پر مبنی ایک حکمرانی کا فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جس میں الگورتھمک تعصب، غلط معلومات، ڈیپ فیک اور معاشرتی نقصانات جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے رہنمائی دی گئی ہے۔ ان رہنما اصولوں کے تحت نگرانی، معیارات اور حفاظتی تحقیق کے لیے اے آئی گورننس اینڈ اکنامک گروپ (AIGEG)، ٹیکنالوجی اینڈ پالیسی ایکسپرٹ کمیٹی (TPEC) اور اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ (AISI) جیسے ادارہ جاتی نظام تجویز کیے گئے ہیں۔
انڈیا اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کا اعلان جنوری 2025 میں کیا گیا تھا تاکہ مصنوعی ذہانت کی سلامتی اور حکمرانی کے شعبے میں سائنسی بنیادوں پر مقامی تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ ادارہ ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کی محفوظ، قابلِ اعتماد، جامع اور ذمہ دارانہ تیاری، نفاذ اور استعمال کو فروغ دینے کا ذمہ دار ہے۔
یہ ادارہ محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی ستون کے تحت جاری کیے گئے اظہارِ دلچسپی (EoI) کے دو مراحل میں منتخب منصوبوں کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
ہندوستان کا ذمہ دار مصنوعی ذہانت کا وژن "سب کے لیے مصنوعی ذہانت (AI for All)" کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو جامع ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے، جبکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی محفوظ، قابلِ اعتماد اور ملک کی سماجی و معاشی ترجیحات سے ہم آہنگ رہے۔
ہندوستان مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق مختلف بین الاقوامی فورمز، جن میں گلوبل پارٹنرشپ آن آرٹیفیشل انٹیلی جنس، جی-20 اور اقوام متحدہ شامل ہیں، میں فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ عالمی معیار طے کرتے وقت گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے نقطۂ نظر اور ترجیحات کو بھی مناسب اہمیت دی جا سکے۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کی میزبانی کرتے ہوئے، جو نئی دہلی میں منعقد ہوئی، ہندوستان نے ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے عالمی ایجنڈے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر درج ذیل اہم اقدامات سامنے آئے:
- نیو دہلی فرنٹیئر اے آئی امپیکٹ کمٹمنٹس کے تحت عالمی سطح کے اے آئی ڈویلپرز نے جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ اور ذمہ دارانہ ترقی کے لیے رضاکارانہ عہد کیے۔
- اے آئی گورننس گائیڈنس نوٹ جاری کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کو اپنی ضروریات کے مطابق مصنوعی ذہانت کے مؤثر حکمرانی کے نظام وضع کرنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔
- ٹرسٹڈ اے آئی کامنزکے نام سے ایک مشترکہ اوپن ریسورس پلیٹ فارم قائم کیا گیا تاکہ محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت تک سب کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے اصول وضع کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قومی، تزویراتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو نے 24 جولائی 2026 کو راجیہ سبھا میں تحریری جواب کے ذریعے پیش کیں۔
******
(ش ح۔ف ا۔ م ذ۔)
UR No.691
(रिलीज़ आईडी: 2290173)
आगंतुक पटल : 6