وزارتِ تعلیم
اعلیٰ تعلیم کے قرض کے لیے پی ایم- ودیہ لکشمی پورٹل
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 6:43PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند نے نومبر 2024 میں ایک نئی مرکزی سیکٹر اسکیم کے طور پر پی ایم ودیہ لکشمی کا آغاز کیا۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی طالب علم مالی تنگی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے موقع سے محروم نہ رہے۔ اس اسکیم کے تحت، ان تمام طلباء کو کسی بھی چیز کو گروی رکھے بغیر اور بغیر کسی ضامن کے تعلیمی قرض فراہم کیا جاتا ہے جو ملک کے اعلیٰ معیار کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرتے ہیں اور تعلیمی قرض لینے کے خواہشمند ہیں۔ مزید برآں، ایسے طلباء جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی 8 لاکھ روپے تک ہے، یہ اسکیم انہیں 10 لاکھ روپے تک کے قرض پر 3 فیصد سود کی رعایت فراہم کرتی ہے۔ ہر سال ایسے ایک لاکھ تک نئے طلباء اس سود کی رعایت کے اہل ہیں جو کسی دوسری اسکالرشپ یا تعلیمی قرض پر سود کی رعایت کا فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ سال 25-2024 سے 31-2030 تک کی مدت کے لیے 3,600 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، تاکہ اس دوران کل 7 لاکھ تک نئے طلباء کو 3 فیصد سود کی رعایت کا فائدہ پہنچایا جا سکے۔
ایک مخصوص آن لائن پلیٹ فارم، یعنی پی ایم ودیہ لکشمی پورٹل https://pmvidyalaxmi.co.in تیار کیا گیا ہے، جو 25 فروری 2025 سے فعال ہے، جس پر طلباء ایک آسان درخواست کے عمل کے ذریعے تعلیمی قرض اور سود کی رعایت دونوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، اور اسے تمام بینکوں کی طرف سے استعمال کیا جانا ہے۔ 6 نومبر 2024 کو اس اسکیم کے آغاز سے لے کر 21 جولائی 2026 تک، بغیر کسی چیز کو گروی رکھے اور بغیر کسی ضامن کے کل 1,12,817 پی ایم ودیہ لکشمی تعلیمی قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔ اب تک منظور شدہ قرضوں کی کل رقم 15,634.78 کروڑ روپے ہے۔
مزید برآں، اعلیٰ تعلیم کا محکمہ "تعلیمی قرضوں کے لیے پی ایم اُچتر شکشا پروتساہن کریڈٹ گارنٹی فنڈ اسکیم" نافذ کر رہا ہے۔ اس سی جی ایف ایس ای ایل کے تحت، مرکزی حکومت طلباء کے ذریعے حاصل کیے گئے تعلیمی قرضوں کے لیے کسی بھی چیز کو گروی رکھے بغیر اور کسی تیسرے فریق کی ضمانت کے بغیر زیادہ سے زیادہ 7.5 لاکھ روپے کے قرض کی حد تک گارنٹی دیتی ہے۔ یہ اسکیم، طے شدہ ضابطے کے طور پر، قرض کی رقم کے 75 فیصد تک کا گارنٹی کور فراہم کرتی ہے۔ 2015 میں اس اسکیم کے آغاز سے لے کر 21 جولائی 2026 تک، 59,843.74 کروڑ روپے کی رقم کے لیے 14,65,880 کریڈٹ گارنٹیاں جاری کی جا چکی ہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ صرف اہل طلباء ہی سود کی رعایت کا فائدہ حاصل کر سکیں، آدھار پر مبنی ڈی-ڈپلیکیشن کی جاتی ہے۔ جیسے ہی سود کی رعایت کی درخواست منظور ہوتی ہے، طالب علم کو رجسٹرڈ موبائل نمبر پر پی ایم ودیہ لکشمی ڈجیٹل روپی ایپ انسٹال کرنے کا ایک ایس ایم ایس (SMS) موصول ہوتا ہے۔ بینکوں سے دعوے موصول ہونے پر، حکومت کی طرف سے سود کی رعایت کی رقم ہر طالب علم کے ڈجیٹل والٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ جب طالب علم اسے چھڑانے کا متبادل چنتا ہے، تو سود کی رعایت کی رقم ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے طور پر اس کے تعلیمی قرض کے کھاتے میں جمع کر دی جاتی ہے۔
مزید برآں، اس اسکیم کے تحت دوسرے سال سے سود کی رعایت کا جاری ہونا طالب علم کی تسلی بخش تعلیمی کارکردگی سے مشروط ہے۔ پی ایم ودیا لکشمی پورٹل پر رجسٹرڈ یا شامل اعلیٰ معیار کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں یہ سہولت موجود ہے کہ وہ کارکردگی کی نگرانی کے لیے پورٹل پر طلباء کی چھ ماہی پروگریس رپورٹ اپ لوڈ کر سکیں۔
یہ اسکیم تمام تر درج فہرست بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں اور کوآپریٹو بینکوں کے لیے قابلِ اطلاق ہے۔ فی الوقت، پی ایم ودیہ لکشمی پورٹل پر 12 سرکاری شعبے کے بینک، 20 پرائیویٹ بینک، 25 علاقائی دیہی بینک اور 7 کوآپریٹو بینک شامل کیے جا چکے ہیں تاکہ دیہی، قبائلی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء سمیت تمام اہل طلباء کو پی ایم ودیا لکشمی کے فوائد حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
وظائف اور تعلیمی قرضے مل کر ہونہار اور مستحق طلباء کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے تعلیم چھوڑنے کی شرح میں کمی آتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اعلیٰ تعلیم میں گراس انرولمنٹ ریشو 2013-14 میں 23.0 سے بڑھ کر 2023-24 میں 30.0 ہو گیا ہے۔
یہ جانکاری وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانتا مجومدار کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:698
(रिलीज़ आईडी: 2290157)
आगंतुक पटल : 8