وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل لرننگ، تحقیقی اور تخلیقی ٹیکنالوجی کے اقدامات کی توسیع

प्रविष्टि तिथि: 27 JUL 2026 6:50PM by PIB Delhi

وزارت تعلیم ڈیجیٹل تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ کا کام 100 کروڑ روپے کی الگ مختص رقم کے بجائے اپنی مرکزی معاونت یافتہ فلیگ شپ اسکیم سمگر شکشا (Samagra Shiksha) کے ذریعے انجام دیتی ہے۔ اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) لیبارٹریوں اور اسمارٹ کلاس رومز کے قیام کے لیے مرکزی سطح پر فنڈنگ اور پروگرام کے نفاذ کا طریقۂ کار ”سمگر شکشا – فریم ورک فار امپلیمینٹیشن“ میں درج رہنما اصولوں کے مطابق عمل میں لایا جاتا ہے (http://education.gov.in/static/uploads/2025/09/bab5af8d0e4cb47c3727b6450d0217a7.pdf

وزیر اعظم ریسرچ چیئر (پی ایم آر سی) اسکیم کا مقصد بیرون ملک تجربہ رکھنے والے بھارتی نژاد محققین اور پیشہ ور افراد کی معاونت کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تین زمروں میں تعاون فراہم کیا جاتا ہے: ینگ ریسرچ فیلوز (پی ایچ ڈی کے بعد زیادہ سے زیادہ 5 سال کا تجربہ)۔ سینئر فیلوز (پی ایچ ڈی کے بعد 5 سے 10 سال کا تجربہ)۔ ریسرچ چیئرز (پی ایچ ڈی کے بعد 10 سال سے زائد کا تجربہ)۔ یہ اسکیم انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے 13 موضوعاتی شعبوں پر مشتمل ہے۔ اسکیم کی تفصیلات، اہلیت کے معیار اور اہل اداروں کی فہرست پی ایم آر سی پورٹل پر دستیاب ہیں https://pmrc.education.gov.in/about۔

مرکزی بجٹ 2026-27 کے تحت حکومت ہند نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی)، ممبئی کے اشتراک سے 15,000 ثانوی اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی کانٹینٹ کری ایٹر لیب قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ طلبہ کو اینیمیشن، ویژوئل افیکٹس، گیمنگ اور کامکس کے شعبوں میں صنعت سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

حکومت نے ملٹی ڈسپلنری ایجوکیشن اینڈ ریسرچ امپروومنٹ ان ٹیکنیکل ایجوکیشن (ایم ای آر آئی ٹی ای) اسکیم بھی شروع کی ہے، جس کے لیے 4,200 کروڑ روپے کی مجموعی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد 275 تکنیکی تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار، مساوات اور انتظامی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اس میں تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے، بشمول آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ اور ہماچل پردیش شامل ہیں۔

وزارت تعلیم، سمگر شکشا کے تحت پی ایم ای ودیا اور دکشا (DIKSHA) جیسے آئی سی ٹی اور ڈیجیٹل اقدامات نافذ کر رہی ہے، تاکہ ملک بھر کے سرکاری اسکولوں، خصوصاً دیہی، دور دراز اور قبائلی علاقوں، جیسے گجرات کے اراولی اور سابَرکانٹھا اضلاع میں، ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ان اقدامات کا مقصد تدریس اور تعلم کے عمل میں ٹیکنالوجی کو شامل کرکے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاستوں کی جانب سے سالانہ ورک پلان اور بجٹ میں پیش کردہ ضروریات کے مطابق آئی سی ٹی لیبز اور اسمارٹ کلاس رومز کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

پی ایم ای ودیا ایک جامع اقدام ہے، جس کا آغاز 17 مئی 2020 کو آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ملک بھر میں ڈیجیٹل، آن لائن اور نشریاتی تعلیم سے متعلق تمام کوششوں کو یکجا کرکے تعلیم تک کثیر نوع رسائی فراہم کرنا ہے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اپنی ضروریات کے مطابق این سی ای آر ٹی کے ساتھ مل کر ان اقدامات کے استعمال، نگرانی اور مؤثریت کا جائزہ لیتے ہیں۔ پی ایم ای ودیا کے اہم اجزاء میں 200 ڈی ٹی ایچ ٹی وی چینلز اور 400 ریڈیو چینلز شامل ہیں، جن کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مختلف بھارتی زبانوں میں اضافی تعلیمی مواد فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ پی ایم ای ودیا کے 200 ڈی ٹی ایچ ٹی وی چینلوں کے تحت ریاست گجرات کو پانچ مخصوص چینل (GJ PM eVidya 78-82) مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت ہند نے بجٹ 2025 میں بی ایس این ایل کے بھارت نیٹ منصوبے کے تحت دیہی علاقوں کے تمام سرکاری ثانوی اسکولوں کو مرحلہ وار براڈبینڈ کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت ریاست گجرات کے 1,416 دیہی سرکاری ثانوی اسکولوں کو بھی براڈبینڈ سہولت فراہم کی جائے گی۔

وزارت تعلیم نے اساتذہ اور اسکولی سربراہان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں جامع بہتری لانے اور اسکولی تعلیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے پیمانے کا جامع پروگرام نشٹھا شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کو ریاست گجرات سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بالمشافہ، آن لائن اور مخلوط تربیتی طریقوں کے ذریعے دِکشا پلیٹ فارم پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

ریاست مہاراشٹر میں راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) کے تحت اسکیم کے مختلف اجزاء کے تحت 1,431.31 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت سے 144 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں 61 منصوبے اسکیم کے تیسرے مرحلے یعنی پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم-اوشا) کے تحت منظور کیے گئے ہیں، جن میں درج ذیل اجزاء شامل ہیں: کثیر شعبہ تعلیم و تحقیق کی جامعات (ایم ای آر یو)، جامعات کو مضبوط بنانے کے لیے گرانٹس (جی ایس یو)، کالجوں کو مضبوط بنانے کے لیے گرانٹس (جی ایس سی) اور صنفی شمولیت اور مساوات کے اقدامات (جی آئی ای آئی)۔ ان منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 814.24 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ، ضلع جلگاؤں میں 52 کروڑ روپے مالیت کے 5 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں پردھان منتری اوشا (پی ایم-اوشا) کے تحت 25 کروڑ روپے مالیت کے 2 منصوبے بھی شامل ہیں۔

چونکہ تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست میں شامل ہے، اس لیے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا مرکزی اور ریاستی حکومتوں دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم، مرکزی معاونت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کی معاونت کے لیے مختلف مرکزی معاونت یافتہ اسکیمیں نافذ کی ہیں، جن میں راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) بھی شامل ہے۔ حکومت نے جون 2023 میں راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) کے تیسرے مرحلے کو پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم-اوشا) کی شکل میں شروع کیا، جس کے لیے 12,926.10 کروڑ روپے کی مجموعی رقم مختص کی گئی۔ اس میں آر یو ایس اے کے سابقہ مراحل کی واجب الادا ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ یہ اسکیم مالی سال 2023-24 سے 2025-26 تک ان علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی، جہاں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات ناکافی یا دستیاب نہیں ہیں۔ بعد ازاں اس اسکیم کی مدت پی ایم-اوشا منصوبوں کی تکمیل کے لیے 31 مارچ 2028 تک بڑھا دی گئی، جبکہ جاری آر یو ایس اے منصوبوں کی تکمیل کے لیے مزید 6 ماہ یعنی 30 ستمبر 2026 تک توسیع دی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ریاستی اعلیٰ تعلیمی نظام میں مختلف اجزاء کے ذریعے رسائی، مساوات اور معیار کو بہتر بنانا ہے، جن میں شامل ہیں: کثیر شعبہ تعلیم و تحقیق کی جامعات (ایم ای آر یو)، جامعات کو مضبوط بنانے کے لیے گرانٹس (جی ایس یو)، کالجوں کو مضبوط بنانے کے لیے گرانٹس (جی ایس سی) اور صنفی شمولیت اور مساوات کے اقدامات (جی آئی ای آئی)۔

پردھان منتری اوشا (پی ایم-اوشا) کے تحت ریاست آندھرا پردیش میں مجموعی طور پر 33 اکائیوں کو 378.74 کروڑ روپے کی منظور شدہ رقم کے ساتھ معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس میں تروپتی کی سری پدماؤتی مہیلا وشو ودیالیہ کو ایم ای آر یو جزو کے تحت 100 کروڑ روپے کی مالی معاونت بھی شامل ہے۔

ایم ای آر یو جزو کے تحت متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جامعات سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ متعدد لازمی اقدامات نافذ کریں، جن میں اہم طور پر درج ذیل شامل ہیں: نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) اور چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم (سی بی سی ایس) کا نفاذ، نیز اختیاری مضامین کے نظام کو نافذ کرنا اور اکیڈمک بینک آف کریڈٹس کو اپنانا۔ ان اقدامات کا مقصد اعلیٰ تعلیم میں رسائی، مساوات اور معیار کو مزید فروغ دینا اور جامع و کثیر شعبہ تعلیم کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیر مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

*************

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                          U: 700


(रिलीज़ आईडी: 2290144) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil