جل شکتی وزارت
کلپسر منصوبے کے سماجی و اقتصادی اثرات اور تکنیکی پیش رفت
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 4:17PM by PIB Delhi
گجرات کی ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، گلف آف کھمبھات (کلپسر) منصوبہ ریاستی حکومت کا آبی وسائل سے متعلق ایک نہایت اہم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلیجِ کھمبھات پر ایک بند (ڈیم) تعمیر کر کے دنیا کے سب سے بڑے ساحلی میٹھے پانی کے ذخائر میں سے ایک قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ منصوبے پر عمل درآمد کے بعد میٹھے پانی کی دستیابی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ قابلِ اعتماد آبی ذریعہ فراہم ہونے سے سوراشٹر کے علاقے میں آبپاشی اور دیگر متعین مقاصد کے لیے پانی کی قلت میں خاطر خواہ کمی آنے کی توقع ہے۔
اس منصوبے میں خلیجِ کھمبھات پر مجوزہ بند کے اوپر شاہراہ اور ریلوے پر مشتمل ایک مشترکہ راہداری بھی شامل ہے۔ موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق، اس راہداری کے ذریعے بھاؤنگر اور سورت کے درمیان سفر کا فاصلہ تقریباً 179 کلومیٹر کم ہو جائے گا، جو موجودہ زمینی راستے سے تقریباً 356 کلومیٹر ہے، جبکہ مجوزہ ڈیم راہداری کے ذریعے یہ فاصلہ تقریباً 177 کلومیٹر رہ جائے گا۔ اس سے علاقائی رابطے میں بہتری آئے گی اور سفر کا وقت بھی نمایاں طور پر کم ہوگا۔
حکومت گجرات کے مطابق، کلپسر منصوبے کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ بھارت اور نیدرلینڈز کے درمیان جاری تکنیکی تعاون سے توقع ہے کہ ساحلی انجینئرنگ، ہائیڈرولک ماڈلنگ، کھارے پن کے انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت اور آبی وسائل کے انتظام جیسے شعبوں میں بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار اور جدید تکنیکی مہارت کو شامل کر کے اس رپورٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اس اشتراک کا مقصد منصوبے کی تکنیکی مضبوطی میں اضافہ کرنا اور اس پر عمل درآمد کے دوران مؤثر اور باخبر فیصلہ سازی کو یقینی بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اس زمین پر، جو اس وقت مدِّجزر(ہائی ٹائیڈ) کے دوران زیرِ آب رہتی ہے، تقریباً 2,470 میگاواٹ ہائبرڈ قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے کی گنجائش پیدا کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کو دیگر مقاصد کے ساتھ ساتھ سوراشٹر کے ساحلی علاقوں میں آبپاشی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے میٹھا پانی پمپ کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) میں کھارے پانی کے دراندازی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب انجینئرنگ اقدامات، ہائیڈرولک مطالعات اور کھارے پن کے انتظام کی حکمتِ عملیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ معلومات آج آبی وسائل کے وزیرمملکت جناب راج بھوشن چودھری نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
ش ح ۔ م م ۔ م ا
Urdu No-667
(रिलीज़ आईडी: 2290037)
आगंतुक पटल : 10