ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سمندری شعبے میں ہنرمندی کی ترقی کا فروغ

प्रविष्टि तिथि: 27 JUL 2026 3:52PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت، ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) مختلف اسکیموں، مثلاً پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس)، قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس) اور صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ذریعے چلائی جانے والی کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت ملک بھر میں قائم ہنرمندی مراکز اور تربیتی اداروں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے معاشرے کے تمام طبقات، بشمول کاسرگوڈ کے نوجوانوں کو مہارت، ازسرِنو مہارت (ری اسکلنگ) اور اعلیٰ مہارت (اپ اسکلنگ) کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ اسکل انڈیا مشن کا مقصد بھارت کے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا اور انہیں صنعت سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، جن میں سمندری شعبے سے متعلق مہارتیں بھی شامل ہیں۔

سمندری شعبے میں ہنرمندی کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے تحت لاجسٹکس اور سمندری شعبے سے متعلق مختلف پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے، جن میں ڈاکیومنٹیشن اسسٹنٹ، کنسائنمنٹ بکنگ اسسٹنٹ، کنسائنمنٹ ٹریکنگ ایگزیکٹو، کوریئر ڈلیوری ایگزیکٹو، سگنل مین (پورٹ آپریشن)، ویسل آپریٹر گریڈ-1، میرین کیپچر فشرمین اور پروٹیکٹو اینڈ میرین پینٹر سمیت دیگر عہدے شامل ہیں۔ ریاست کیرالہ کے ضلع کاسرگوڈ میں پی ایم کے وی وائی کے تحت 240 امیدواروں کو تربیت اور رہنمائی فراہم کی گئی، جن میں سے 197 امیدواروں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
  2. ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی ایس) نے بھارت میں 171 سمندری تربیتی اداروں (ایم ٹی آئیز) کو منظوری دے رکھی ہے۔ بھارتی یا غیر ملکی جہازوں پر ملاحوں کی ملازمت کا انحصار ان کی تربیت، جانچ اور سرٹیفکیشن پر ہوتا ہے، جو بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم (آئی ایم او) کے ملاحوں کی تربیت، سرٹیفکیشن اور ڈیوٹی کے دوران نگرانی سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (ایس ٹی سی ڈبلیو کنونشن) کے مطابق انجام دی جاتی ہے، جس پر بھارت نے بھی دستخط کیا ہوا ہے۔
  3. ڈی جی ایس نے منظور شدہ سمندری تربیتی کورسز کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ یہ تمام کورسز آئی ایم او کے جاری کردہ ماڈل کورس اور ایس ٹی سی ڈبلیو کنونشن، 2010 کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں۔ ڈی جی ایس نے تربیت، امتحان اور جانچ پروگرام (ٹی ای اے پی) مینوئل بھی جاری کیا ہے، جس میں تربیتی کورسز، سمندری خدمات اور امتحانات سے متعلق ضروری رہنما اصول اور تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری تربیتی اداروں کے اساتذہ کے لیے ورٹیکل انٹیگریشن کورس فار ٹرینرز کے نام سے ایک مشترکہ تربیتی کورس بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
  4. مزید برآں، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے شعبے، خصوصاً ساحلی علاقوں کے نوجوانوں میں ہنرمندی کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں سمندری تعلیم اور تربیت کو مضبوط بنانا، سمندری تعلیمی اداروں کے نصاب کو جدید بنانا اور بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے شعبوں میں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی کے پروگراموں کو فروغ دینا شامل ہے۔ ان کوششوں کا مقصد بھارت کی سمندری ترقی کے لیے عالمی معیار کی مہارت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ ان اقدامات میں سے چند درج ذیل ہیں:
  1. جہاز سازی کے 11 کارخانوں نے 8 ساحلی ریاستوں کے 34 صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ساتھ 150 گھنٹے کی ملازمت کے دوران تربیت (آن دی جاب ٹریننگ) کے نفاذ کے لیے مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں۔
  2. سنٹر آف ایکسی لینس اِن میری ٹائم اینڈ شپ بلڈنگ (سی ای ایم ایس) کی جانب سے مغربی بنگال کے دو صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) میں ٹریننگ آف ٹرینرز (ٹی او ٹی) پروگرام نافذ کیا گیا ہے۔
  3. جہاز سازی کے 9 کارخانوں میں مہارت کے خلا (اسکل گیپ) سے متعلق ابتدائی مطالعہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
  4. ہنرمندی کے فروغ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے انڈین شپ ٹیکنالوجی سینٹر (آئی ایس ٹی سی) کو کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 8 کے تحت ایک کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔
  5. جہاز سازی کے شعبے میں ہنرمندی کے فروغ کے منصوبے کے لیے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کوئیکا) کے درمیان منصوبۂ عمل (پلان آف امپلی منٹیشن- پی او آئی) پر دستخط کیے گئے ہیں۔

حکومت نے نوجوانوں، بالخصوص ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بہتر بنانے کی غرض سے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں (i) پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) اور دیگرفروغ ہنرمندی کے اقدامات کے ذریعے صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارت کی تربیت فراہم کرنا، (ii) لاجسٹکس، بندرگاہی سرگرمیوں، گودام کے انتظام، سپلائی چین مینجمنٹ اور سمندری شعبے سے متعلق مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں تربیت فراہم کرنا، (iii) صنعت کے اشتراک سے تیار کردہ قومی ہنرمندی اہلیت کے فریم ورک (این ایس کیو ایف) پر مبنی کوالیفکیشن پیکس کے مطابق کورسز کو ہم آہنگ کرنا، (iv) پہلے سے مہارت رکھنے والے کارکنوں کے لیے ریکنیشن آف پرائر لرننگ (آر پی ایل) کو فروغ دینا، اور (v) صنعت کے ساتھ شراکت داری اور تقرری میں معاونت کے ذریعے تربیت یافتہ امیدواروں کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ساحلی علاقوں کے نوجوانوں کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور سمندری، لاجسٹکس اور متعلقہ شعبوں میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

یہ معلومات آج ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیرمملکت (آزادانہ چارج)، جناب جینت چودھری نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

********

ش ح ۔ م م ۔ م ا

Urdu No-660


(रिलीज़ आईडी: 2289964) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil