پارلیمانی امور کی وزارت
نیوا ( این ای وی اے ) نے قانون ساز اداروں کی کارروائی کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے زیادہ مؤثر اور کارآمد بنا دیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 3:48PM by PIB Delhi
پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مروگن نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ 37 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مقننہ میں سے 33 نے نیشنل ای - ودھان ایپلی کیشن ( این ای وی اے – نیوا ) کے نفاذ کے لیے مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں سے 21 قانون ساز ایوانوں کو نیوا منصوبے کے تحت ڈیجیٹل مقننہ میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
نیوا منصوبہ ، مرکزی امداد یافتہ اسکیم ( سی ایس ایس ) کے طرز کے مطابق مالی اعانت حاصل کرتا ہے، جس کی مجموعی لاگت 673.94 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 423.60 کروڑ روپے تک محدود ہے۔ آندھرا پردیش کی مقننہ کے دونوں ایوانوں میں نیوا منصوبے کے نفاذ کے لیے 23,58,20,600 روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ آندھرا پردیش سمیت اس منصوبے میں شریک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مقننہ کو مرکزی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ( سی پی ایم یو) کے ذریعے صلاحیت سازی سے متعلق اقدامات کی صورت میں ضروری تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
نیوا ( این ای وی اے ) منصوبے کے وسط مدتی جائزے کے مطابق، نیوا نے قانون سازی کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے، کاغذی کارروائی پر انحصار کم کرنے، قانون سازی سے متعلق امور کی تیز تر کارروائی اور ترسیل کو یقینی بنانے اور قانون سازی سے متعلق معلومات تک رسائی کو بہتر بنانے کے ذریعے قانون ساز اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دستاویزات کی چھپائی، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مقننہ خود مختار ادارے ہیں۔ اسی لیے نیوا منصوبہ متعلقہ ریاستی مقننہ سے مشاورت کے بعد، ان کی تیاری اور آمادگی کے مطابق نافذ کیا گیا ہے۔
*******
( ش ح ۔ ا ک ۔ ع ا )
U.No. 655
(रिलीज़ आईडी: 2289935)
आगंतुक पटल : 10